سپریم کورٹ،استاد کی بحالی سے متعلق سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم

  سپریم کورٹ،استاد کی بحالی سے متعلق سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس گلزار احمدنے قراردیاہے کہ کسی شہری کو اس کی معذوری کی بنیاد پرجھوٹ بولنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی،چیف جسٹس نے یہ ریمارکس سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں 3رکنی بنچ کی سربراہی کرتے ہوئے معذور ٹیچر کی بحالی سے متعلق پنجاب سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم کرتے ہوئے دیئے،سروس ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف پنجاب حکومت نے اپیل دائر کی تھی،حکومت کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ معذور معلم ندیم اخترنے 2004 ء میں تعیناتی کے وقت علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا جعلی ڈپلومہ فراہم کیا، 2010 ء میں ریگولرائزیشن کے دوران ڈپلومے کی تصدیق میں جعلسازی پکڑی گئی، جعلسازی پکڑی جانے کے بعد معلم کو نوکری سے برخاست کر دیا گیا، پنجاب سروس ٹربیونل نے معذور معلم کو ملازمت پر بحال کر دیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ ٹیچنگ کے لئے پروفیشنل ڈپلومہ یا ڈگری حاصل کرنا ضروری ہے، معلم کومحض اس بناپر جھوٹ بولنے کی اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ معذور ہے،فاضل بنچ نے پنجاب حکومت کی اپیل منظور کرتے ہوئے معلم ندیم اختر کی بحالی سے متعلق سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم کردیا۔

معلم بحالی

مزید : صفحہ آخر