زکریا یونیورسٹی: چوریاں‘طلبہ تصادم‘ اے ایس اے کی احتجاجی کال کی دھمکی

  زکریا یونیورسٹی: چوریاں‘طلبہ تصادم‘ اے ایس اے کی احتجاجی کال کی دھمکی

  



ملتان (سٹاف رپورٹر)اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن جامعہ زکریا کی جنرل باڈی کا اجلاس جناح آڈیٹوریم میں منعقد ہوا جس میں اساتذہ نے یونیورسٹی کی سیکیورٹی کی مخدوش صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کیاگذشتہ دنوں ڈاکٹر حامد منظور اور ڈاکٹر ارم اسلم کے گھروں (بقیہ نمبر43صفحہ12پر)

میں ہونے والی چوریوں اور طلباتصادم کے نتیجے میں فائرنگ کے واقعات کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی. ڈاکٹر حامد منظور نے کہا کہ میں اے ایس اے کا وائس پذیڈنٹ ہوں اور اگر کمیونٹی نمائندوں کے گھر بھی محفوظ نہ ہوں تو باقی کمیونٹی میں شدید عدم تحفظ کا احساس فروغ پائے گا. انھوں نے کہا کہ میرے گھر پر چوری کے واقعے میں لازمی طور پر اندرونی ہاتھ ملوث ہے کیونکہ ایسے ہی واقعات پہلے بھی ہو چکے ہیں اور ان میں یونیورسٹی کے اپنے ملازمین ملوث تھے. یونیورسٹی انتظامیہ نے اس واقعے کا کوئی سخت نوٹس نہیں لیا‘ابھی تک کوئی گرفتاری ہوئی ہے نہ ہی اس کیس کو انتظامیہ نے سنجیدگی سے لیا ہے. یونیورسٹی کے آر او واقعے کے اڑتالیس گھنٹے تک میرے گھر نہ آئے. ڈاکٹر راشدہ عتیق‘ڈاکٹر فرح دیبا اور ڈاکٹر ارم اسلم نے کہا کہ یونیورسٹی کے رہائشیوں کے لیے کوئی سیکیورٹی گارڈ تعینات نہیں کیے جاتے. ہماری فیملیز انتہائی غیر محفوظ ماحول میں رہائش پذیر ہیں. ڈاکٹر ظاہر فریدی‘رئیس نعمان احمد‘ محسن عالم‘ راؤ عمران حبیب و دیگر اساتذہ نے آر او کی طرف سے پوری یونیورسٹی کو بیرئرز لگا کر لاک ڈاؤن کرنے کی شدید مذمت کی. اساتذہ نے سیکیورٹی آفیسر خلیل کھور اور آر او کو حالیہ چوری واقعات اور طلباء تصادم کے نتیجے میں ہونے والی فائرنگ کے واقعات کا ذمہ دار ٹھہرایا اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام ذمہ داروں کو شاملِ تفتیش کرکے قرار واقعی سزا دے. میڈم ارم اسلم نے کہا کہ یہاں کے رہائشیوں کا گھروں سے باہر نکلنا مشکل ہو چکا ہے. انتظامیہ حالات کو قابو کرنے اور درست کرنے کی بجائے رہائشیوں کو حفاظتی اقدامات خود کرنے کے نوٹیفکیشنز جاری کرتی ہے. اگر ہمیں یہ سب خود ہی کرنا ہے تو ہماری تنخواہوں سے پانچ فیصد کی کٹوتی فوری بند کی جائے. صدر اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن ڈاکٹر عبدالستار ملک اور سیکرٹری ڈاکٹر خاور نوازش نے پوری کمیونٹی کے تحفظات انتظامیہ تک پہنچانے کی یقین دہانی کرائی اور ان مطالبات پر شنوائی نہ ہونے کی صورت میں جلد ہی احتجاج کی کال دینے کا بھی عندیہ ظاہر کر دیا ہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر