دہلی فسادات، بی جے پی سے تعلق رکھنے والے تین وزراء کے خلاف ریمارکس دینے والا جج اب کہاں ہے؟ جمہوری بھارت کے دعووں کا پول کھل گیا

دہلی فسادات، بی جے پی سے تعلق رکھنے والے تین وزراء کے خلاف ریمارکس دینے والا ...
دہلی فسادات، بی جے پی سے تعلق رکھنے والے تین وزراء کے خلاف ریمارکس دینے والا جج اب کہاں ہے؟ جمہوری بھارت کے دعووں کا پول کھل گیا

  



نئی دہلی(ویب ڈیسک) دہلی میں مسلم کش فسادات کے بارے میں ایک مقدمے کی سماعت میں بی جے پی سے تعلق رکھنے والے تین وزراء کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے ریمارکس دینے پر دہلی ہائی کورٹ کے جج کا تبادلہ کردیا گیا ہے۔

ایکسپریس کے مطابق گزشتہ روز دہلی میں تشدد اور بڑے پیمانے پر قتل و غارت گری سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران دہلی ہائی کورٹ کے جج ایس مرلی دھر نے کہا تھا کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات دینے پر تین بی جے پی وزراء یعنی انوراگ ٹھاکر، پرویش ورما اور کپل مشرا کے خلاف ایف آئی آر درج کرنی چاہیے۔

بھارتی اخبار ’’دی ہندو‘‘ کے مطابق دہلی کے مسلم کش فسادات میں اب تک 34 افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ چار روزہ ہنگاموں اور تشدد کے بعد اگرچہ اس وقت حالات پرسکون ہیں لیکن اب بھی پرانی دلّی کے مسلم اکثریتی علاقوں پر خوف اور دہشت کا راج ہے۔بی بی سی نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ سخت حفاظتی اقدامات کے باوجود ان کے نمائندے کو موٹر سائیکل پر سوار تین لڑکے دکھائی دیئے جنہوں نے ہاتھوں میں ڈنڈے اٹھائے ہوئے تھے اور وہ ’’جے شری رام‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔

واضح رہے کہ ان فسادات کا آغاز اتوار کے روز اُس وقت ہوا جب مسلم مخالف متنازع شہریت قانون کے خلاف دہلی میں پرامن دھرنے پر بیٹھے مظاہرین پر مسلح ہندو جتھوں نے حملہ کردیا۔

مزید : بین الاقوامی