انگریز کی اولاد ، ہمیں پینڈو ہونے پرفخر ہے ۔۔

انگریز کی اولاد ، ہمیں پینڈو ہونے پرفخر ہے ۔۔

  



’’ بھئی واہ تم ذرا اپنی اولاد کو دیکھو کیسے گٹ پٹ انگلش بولتی ہےجیسے انگریز کی اولاد ہو ۔ اول تو دادی کے پاس بیٹھ نہیں سکتے یہ دونوں بچے اور اگر بیٹھ بھی جائیں تو ہائے ، وائے اورڈوڈو سے آگے نہیں بڑھتے ۔۔‘‘ میری نظر ڈرامے کے ایک سین پرتھی جس میں ایک دادی اماں نہایت تیاری سے بچوں کے ابا کو سنانے کی غرض سے کمر کسے ہوئے تھیں ۔۔

سلمان صاحب اخبار پڑھتےہوئےدومنٹ کے لئےرکے اورپوچھنے لگے ۔۔ ’’ کیا اماں ڈو ڈو ؟ ‘‘

’’ بس دیکھ لو اب یہاں تک بدتمیزی ہونے لگی ہے بڑوں کیساتھ ۔۔‘‘ دادی اماں کو اور بھی غصہ آیا ۔

’’ اچھا اماں غصہ نہ کریں ،وہ ڈوڈو نہیں

کہتے ہیں یعنی قریبی دوست ۔۔ ‘‘ Dude

سلمان صاحب نے یہ کہہ کر بات ہی ختم کردی ۔

خیر یہ بحث تو جاری ہی رہتی وہ تو بھلا ہو میرےشوہرتایثر کا جنہوں نے میرے ہاتھ سے ریموٹ لےکر اپنی پسند کاچینل لگا دیا ۔

’’یار بیگم تم بھی اس فضول سے ڈرامے سے کتنا بور کر رہی ہو ؟ چھوڑو انگریزی کو کسی کو آئے نہ آئے مجھے اور تمھیں تو آتی ہےاور اب انگریزی اتنی بھی اہمیت کی حامل نہیں ۔۔‘‘

’’ اچھا اہم نہیں تب ہی تو آپ کے اماں باوا نے شادی کا فیصلہ بھی میری ایم اے انگلش کی ڈگری دیکھ کر کیا تھا ۔ ‘‘ اب تو مجھے بھی دل کی بھڑاس نکالنے کا موقع مل گیا تھا ۔

’’ اچھا اچھا بیگم مان لیا کہ ہماری شادی کی کامیابی میں انگریزی کا بہت ہاتھ ہےلیکن میرا یہ کہنا ہے کہ اب تو ہمارے

بھی پیدا ہو گئے ہیں سو اب آپ یہ سپورٹس Stanzs aur Sonnet

چینل دیکھیں ۔۔ ‘‘ تاثیر صاحب صلح کے موڈ میں تھے ۔

لہذا اب تکرار کرنے کا کوئی مقصد تو تھا نہیں لیکن انگریزی زبان کے اتنا اہم ہونے کا جان کر میرےذہن میں بہت سے خیالات آنے لگے تھے کہ کہتےتو لوگ ٹھیک ہی ہیں ۔ انگریزی نہ آئے تو کلرکی بھی نہیں ملتی ،کسی چھوٹے موٹے سکول میں ٹیچر بھی نہیں بن سکتے اور تو اور اچھی بول چال کا پیمانہ بھی انگریزی کو بنا لیا گیا ہے جب تک لوگ انگریزی نہ بولیں کوئی قابل ہی نہیں سمجھتا ۔

یعنی ہر جگہ ہم انگریزی زبان کے محتاج ہیں اور کسی کو انگلش نہ بھی آتی ہو تو وہ کسی بھی طرح بولنے کی کوشش ضرور کرتا ہے کیونکہ اسے یہ ڈر لگتا ہے کہ کہیں ہمیں مادری اور اردو زبان میں بات کرتے دیکھ کر لوگ پینڈو ہی نہ کہہ دیں ۔

جدید ترین نصاب بھی سب کے سب انگریزی میں ہیں ۔ اسکےبغیر گذارا بھی نہیں اور پھر انگریزی سکولوں کی فیسیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں ، لیکن بے چارے والدین بھی کیا کریں وہ بھی بچوں کو ماڈرن بنانے کے چکر میں غربت کے باوجود بھی ایسے سکولوں میں پڑھانے پر مجبور ہیں ۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ انگلش سائنس اور ٹیکنالوجی کی زبان ہے ، ایک بین الاقوامی زبان کا درجہ بھی رکھتی ہے ۔ اس زبان کی اہمیت تواتنی ہے کہ انگریزی لوگوں کو ہوا لگتی ہے اور بی اے میں سب سےزیادہ سپلی بھی اسی مضمون میں آتی ہے ۔

یہ سوچتے سوچتے پندرہ منٹ سے اوپر ہو گئے تھے لیکن میری سوئی ابھی تک وہاں اٹکی تھی ۔۔اسی ادھیڑ بن میں کام کرنے والی ماسی آئی اور مجھے حیرت کے سمندر میں غرق دیکھ کر کہنے لگی ۔۔ ’’ باجی تسی اج بڑا سوچی جاندے او ،خیر تے ہے ۔ ‘‘

سلمی کےسوال کے جواب میں میں نے بھی اسے انگریزی کی کتھا اردو میں سنا دی ۔ کیونکہ اب ہیں تو ہم پنجابی لیکن خود کو مولوی عبد الحق کا جان نشین سمجھتے ہیں اور سلمی بھی انگریزی نہیں سمجھتی ۔

خیر سب کچھ سننے کے بعد سلمی مسکراتے ہوئے بولی ۔۔’’ باجی یہ بھی کون سی مشکل بات ہے ؟ دیکھیں اردو بولنے میں منہ ٹیڑھا نہیں کرنا پڑتا انگلش میں کرنا پڑتا ہے ۔ اردو تمیز والی زبان ہے یعنی تم اور آپ ، لیکن انگریزی میں آپ سب کو یو ہی کہتی ہیں ،چاہے یاسر بابا ہوں یاتاثیر بھیا ۔۔

باجی ہم کتنی بھی انگریزی بول لیں فرنگی نہیں بن سکتے رہیں گے وہی پینڈو کے پینڈو اور پینڈو ہونےپر فخر بھی ہے ۔ اور باجی آخری بات بتائوں انگلش کا جملہ اردو میں کرو تو اردو میڈیم بچوں کو دونوں مطلب پتہ لگ جاتے ہیں لیکن اگر انگریزی بولنے والے بچوں کو بتایا جائے تو باجی اسکے لئے تو وہ اپ کیا کہتی ہیں شکیسپئیر کوہی بلانا پڑے گا ۔ ‘‘

’’ا رے واہ واہ تم تو کمال کی باتیں کرتی ہو ، میں نے سلمی کی صلاحیتوں

کااعتراف کرتے ہوئے اسے داد دی اور ساتھ ہی یہ بھی کہا ’’ اچھا اب باقی باتیں پھر چلو اب جلدی سے پانڈے واش کر لو ۔ ‘‘ یہ کہتے ہوئے ہم دونوں ہنس دئیے ۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ