’وہ ہرہفتے مجھے فون کرتی تھی، اس بارکال نہیں آئی تو میں نے پولیس کوبتادیااورپھر ۔۔۔‘بی بی سی کی نیوز ریڈرنے ایسی کہانی سنادی کہ ہر کوئی دکھی ہوجائے

’وہ ہرہفتے مجھے فون کرتی تھی، اس بارکال نہیں آئی تو میں نے پولیس ...
’وہ ہرہفتے مجھے فون کرتی تھی، اس بارکال نہیں آئی تو میں نے پولیس کوبتادیااورپھر ۔۔۔‘بی بی سی کی نیوز ریڈرنے ایسی کہانی سنادی کہ ہر کوئی دکھی ہوجائے

  



لندن(ڈیلی پاکستان آن لائن)وہ ہرہفتے مجھے فون کرتی تھی، اس بارکال نہیں آئی تو میں کافی پریشان ہوئی اور پھر پولیس کوبتادیا۔ پولیس اس خاتون کے گھر پہنچی تو وہاں اس کی لاش ملی۔یہ کہنا تھا بی بی سی کارنوال سے وابستہ ایک نیوز ریڈر کا جن کی فکرمندی بی بی سی کی ایک مداح کی لاش ڈھونڈنے میں مددگار ثابت ہوگئی۔

ڈیلی میل پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق بی بی سی کارنوال کی میزبان جوانا ٹوئسٹ نے بتایا ہے کہ انہیں ہر ہفتے اور اتوار کو صبح ٹھیک آٹھ بجکر دس منٹ پر ایک مداح خاتون کی ٹیلی فون آتی تھی۔ یہ خاتون تنہا تھیں کوئی رشتہ دار ساتھ نہیں تھا۔ اور وہ گزشتہ کئی سال سے نہ صرف بی بی سی کا پروگرام سن رہی تھیں بلکہ ہفتے اور اتوار کی صبح کو آٹھ بجکر دس منٹ پر لائیو کال کے ذریعے پروگرام کا حصہ بھی بنتی تھیں اورمنع کرنے کے باوجودسٹاف کیلئے بسکٹس کے پیسے بھی بھجواتی تھیں۔

جوانا کہتی ہیں کہ اس ہفتے ان کی کال نہیں آئی جوکہ ایک غیر معمولی بات تھی جس پر وہ فکرمند ہوگئیں۔

جوانا کہتی ہیں کہ کلارا کو پورااسٹیشن جانتا تھا۔ ان کا کوئی خاندان نہیں تھاسوائے ایک سوتیلے بیٹے کے جو آسٹریلیا میں مقیم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جوانا ان سے خصوصی شفقت سے پیش آتی تھیں اور ان کی تنہائی بانٹتی تھیں۔ جوانا کے مطابق کلارا کی ٹیلی فون کالزآنا بند ہوئیں تو وہ اس قدر فکر مندہوئیں کہ انہوں نے پولیس کو درخواست کردی، جس پر پولیس نے اس کا پتہ لگایا اور اس کے گھر پہنچی تو پتہ چلا وہ انتقال کرچکی ہیں اور ان کی لاش گھر میں ہی پڑی ہوئی ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ اس خاتون کی آخری رسومات میں ان کا سوتیلا بیٹا اس کی بیوی ، جوانا اور ان کے ایک کولیگ کے سوا کوئی نہ تھا۔

جوانا نے یہ کہانی اپنے پرائیویٹ بلاگ پر شیئر کی ہے جسے پڑھ کر لوگوں کی بڑی تعداد نے گہرے دکھ اور رنج کااظہارکیاہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس