پاک ایران سرحد کے درمیان پھنسے 300 پاکستانی زائرین کو ملک میں داخلے کی اجازت مل گئی

پاک ایران سرحد کے درمیان پھنسے 300 پاکستانی زائرین کو ملک میں داخلے کی اجازت ...
پاک ایران سرحد کے درمیان پھنسے 300 پاکستانی زائرین کو ملک میں داخلے کی اجازت مل گئی

  



کوئٹہ(ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران اور پاکستان کی سرحد کے درمیان پھنسے 300 سے زائد زائرین کو ملک میں داخلے کی اجازت دے دی گئی، قرنطینہ میں 10 روز رکھے جانے کے بعد زائرین کو ان کے علاقوں کو روانہ کردیا جائے گا۔

نجی ٹی وی کےمطابق ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شہوانی نے کہا ہے کہ بلوچستان حکومت نے کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے بھر پور اقدامات کیئے ہیں،اپنے عوام کو کرونا وائرس سے بچانے کیلئے دن رات محنت کررہے ہیں،وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خود تمام آپریشنز اور انتظامات کی نگرانی کررہے ہیں،جیسے ہی ایران میں کورونا کا پتہ چلا ہم نے ایمرجنسی لگا دی تھی۔انہوں نے کہا کہ  ایران سے آنےوالے تمام  پاکستانی زائرین کی کورونا کے حوالے سے سکریننگ کی جائے گی، قرنطینہ میں 10 روز رکھے جانے کے بعد زائرین کو ان کے علاقوں کو روانہ کردیا جائے گا۔ایران اور پاکستان کی سرحد کے درمیان پھنسے300سےزائد زائرین کو تفتان میں داخلے کی اجازت دے دی گئی ہے جس کے بعد پاکستانی زائرین سرحدی گیٹ پار کرکے تفتان پہنچ گئے ہیں۔ایرانی حکام نے تقریبا 300 پاکستانی زائرین کو کورونا سے محفوظ ہونے کا سرٹیفکیٹ دے کر جمعہ کی دوپہر اپنی سرحدسے نکال دیا تھا اور یہ پاکستانی کئی گھنٹے تک ایران اور پاکستان کی سرحد کے درمیان پھنسے رہے تاہم بالاآخر پاکستانی حکام نے ان افراد کو تفتان میں داخلے کی اجازت دی۔جو زائرین ایران میں کورونا سے متاثرہ علاقوں سے ہوکر آئے ہیں ان کو قرنطینہ میں 10 روز رکھے جانے کے بعد ان کے علاقوں کو روانہ کردیا جائے گا۔ تفتان میں داخل ہونے والے زائرین میں خواتین بھی شامل ہیں۔

خیال رہے کہ ایران میں کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کے بعد پاک ایران سرحد پچھلے 6 روز سے بند ہے جبکہ اسسٹنٹ کمشنر تفتان کا کہنا ہے کہ پاک ایران سرحد بدستور بند ہے، سرحد کھولنے کا فیصلہ صوبائی و وفاقی حکومت کرے گی۔

مزید : علاقائی /بلوچستان /کوئٹہ