پشاور کوبیس کیمپ بنانے کا اعلان،جماعت اسلامی نے بڑے تجربات کرلئے،اب اپنے جھنڈے اور نعرے کے ساتھ جدوجہد کریں گے: سینٹرسراج الحق

پشاور کوبیس کیمپ بنانے کا اعلان،جماعت اسلامی نے بڑے تجربات کرلئے،اب اپنے ...
پشاور کوبیس کیمپ بنانے کا اعلان،جماعت اسلامی نے بڑے تجربات کرلئے،اب اپنے جھنڈے اور نعرے کے ساتھ جدوجہد کریں گے: سینٹرسراج الحق

  



پشاور (ڈیلی  پاکستان آن لائن) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی نے بڑے تجربات کیے ہیں مزید تجربات کے بجائے اپنےجھنڈے اورنعرے کے ساتھ جدوجہد کریں گے،ملک میں اسلامی نظام کے قیام کے لیے پشاور شہر کو بیس کیمپ بنائیں گے،امریکہ طالبان کے درمیان مجوزہ معاہدے کاخیرمقدم کرتے ہیں، خطے میں امریکی موجود گی نے دہشت گردی سمیت بہت سے مسائل کوجنم دیا،دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور خطے میں قیام امن کیلئے امریکی افواج کا افغانستان سے انخلاء ضروری ہے،حکومت نے کروناوائرس کو روکنے اور بیماری کے خلاف عملی اقدامات کے حوالے سے ابھی تک قوم کوکچھ نہیں بتایا۔

مرکز اسلامی پشاور میں اراکین جماعت اسلامی کے اجتماع سے خطا ب کرتے  ہوئےسینیٹر سراج الحق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امریکی موجود گی نے دہشت گردی سمیت بہت سے مسائل کوجنم دیا ہے،دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور خطے میں قیام امن کیلئے امریکی افواج کا افغانستان سے انخلاء ضروری ہے،افغانستان کی آزادی اور خود مختاری کا تحفظ ہونا چاہئے اور افغانوں کو آپس میں بات چیت اور مذاکرات کا موقع ملنا چاہئے، پاکستان کا امن افغانستان کے امن سےجڑاہواہے،خطے کی ترقی وخوشحالی افغانستان میں امن سےہی ممکن ہے،امریکہ نےافغانستان سےواپسی کاجواعلان کیاہےاللہ کرے کہ وہ اس پرقائم رہے ، دوسرا اہم مرحلہ بین الافغان مذاکرات ہیں تاکہ افغانوں کے اندر خانہ جنگی نہ ہواور وہ ایک متفقہ حکومت بنانے میں کامیاب ہوجائیں۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ہمسایہ ملک چین میں کرونا وائرس پھیلنے کے فوری بعد ہماری حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ اس وباسے نپٹنے اور اس کے موثر سدباب اور علاج کیلئے وسیع پیمانے پراقدامات کرتی،عوام کو اس سے بچنے کی تدابیر کیلئے قومی سطح پر ایک آگاہی مہم چلائی جاتی،ہسپتالوں میں آئسو لیشن وارڈز بنائی جاتیں اور بیماری سے بچاؤ کے کیلئے قبل ازوقت ضروری اقدامات کئے جاتے مگر افغانستان اور ایران سمیت پچا س ملکوں میں وائرس پھیلنے کے باوجود ہماری حکومت نے کوئی پرواہ نہیں کی جس کی وجہ سے آج ملک میں وائرس پھیلنے کاخطرہ بڑھ گیا ہے اور عوام کے اندر شدید خوف و ہراس ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ وائرس سے بچاؤ کیلئے ماسک اور دستانے وغیرہ عوام کو سرکاری سطح پرفراہمی کا انتظام کرے،سرکاری ہسپتالوں میں وائرس کی تشخیص اور مفت ٹیسٹوں کو یقینی بنائےاور جو کمپنیاں اور ادارے وباکا فائدہ اٹھا کر لوگوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں ان کے خلاف موثر کاروائی کی جائے،کرونا وائرس سےخوف زدہ ہونےکی بجائےاللہ سے اجتماعی توبہ و استغفار کیا جائے اور حکمران بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں تاکہ عوام کےاندر اعتماد اور تحفظ کا احساس پیدا کیاجاسکے۔

مزید : قومی