اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی

اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی

  

ڈاکٹر نذیر احمد شہید کے برادرِ خورد میاں محمد رمضان ایڈووکیٹ نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ وقتاً فوقتاً اپنی سوچوں میں روزنامہ”پاکستان“ کے قارئین کو شریک کرتے رہیں گے۔ (ادارہ)

گاڑی شہر کی ایک اہم شاہراہ پر چلتے چلتے رک گئی۔ اس نے بہت سر مارا، کار میں بیٹھے بیٹھے وہ جتن کرتا رہا مگر کار سٹارٹ نہ ہو سکی۔ لوگ کھڑی کار اور اس کے اندر بیٹھے اسے دیکھ کر گزرتے رہے۔ کسی نے مڑ کر اس سے نہ پوچھا کہ اے بندہئ خدا کیا بات ہے؟ اردگرد کے دوکانوں والے، ریڑھی والے گھروں والے ہر کوئی اپنے اپنے کام میں مصروف تھا کار والے کے قریب کوئی نہ گیا کہ اس کی الجھن اور پریشانی کا مداوا ہو۔ بالآخر اس کا اندر جاگا اور وہ کار سے باہر نکلا۔ ایک ہاتھ اسٹیرنگ پر رکھا دوسرے ہاتھ سے کار کو دھکا دینے کی کوشش کی۔ اسے ایسا کرتے دیکھ کر ایک فرد نے بھی کار کو دھکا دینے میں اس کا ہاتھ بٹایا۔ پھر قرب کا ایک اور آدمی بھی آ شامل ہوا، پھر تیسرا پھر چوتھا، پھر ایک سیانے نے کہا کہ بھائی صاحب آپ کار میں بیٹھیں اسے سنبھالیں ہم دھکا لگاتے ہیں۔ اس طرح لوگوں کے تعاون و مدد سے کار اسٹارٹ ہو گئی اور کار والا جواب تک بے چارگی کی تصویر بنا کار میں بیٹھا ہوا اپنی قسمت کو رو رہا تھا۔ شکریہ کا ہاتھ ہلاتا ہوا روانہ ہوا۔ جب تک وہ کار میں بیٹھا کھڑی کار کو رواں کرنے کے جتن کرتا رہا کسی نے اس کی طرف توجہ نہ دی دیکھتے اور دیکھ کر گزرتے رہے مگر جب اس کے اندر سے  یہ آواز نکلی کہ خود باہر نکل کر اپنی مشکل کا حل نہیں نکالو گے تو کیا لوگوں کی مت ماری گئی ہے کہ خواہ مخواہ تمہاری کھڑی بند کار کے پاس آکر تم سے پوچھیں کہ حضور کیا بات ہے؟

اسی طرح دو فریق دو گروپ ساتھ ساتھ کی دو آبادیاں اپنے بعض مسائل میں ایک دوسرے سے توتکار کرنے لگیں۔ بات بڑھتی جائے تو ایک دوسرے پر الزامات لگانے لگیں پھر بات گالی گلوچ تک آ جائے، راہی، مسافر، ہمسائے تماشا دیکھتے رہیں گے ان کی گالیوں الزامات اور طعنوں سے لطف لیتے رہیں گے۔ جب تلخی بڑھے گی تو…… بچے بوڑھے یہاں تک کہ عورتیں بھی اس لفظی جنگ میں شریک ہو جائیں گی۔ ان سب کے متاثر ہونے سے گالی گلوچ کی لڑائی شدت اختیار کرے گی۔ تو ڈانگ سوٹے لاٹھی کلہاڑی کی نوبت بھی آ جائے گی۔ اب تو زمانہ اسلحہ کا آ گیا ہے کہ معمولی گزارے کے افراد بھی شادیوں اور خوشیوں میں ہوائی فائرنگ، بے دھڑک کرنے لگے ہیں ہر قسم کا اسلحہ عام ہو گیا ہے۔ جنرل محمد ضیاء الحق شہید کو گالی دینے والے اسلحہ کی فراوانی اور منشیات کے عام ہونے کی تہمت جنرل شہید پر لگاتے رہتے ہیں۔ حالانکہ یہ ساری چیزیں ساری دنیا میں سب معاشروں میں در آئی ہیں۔ جنرل شہید تو اس لئے مورد الزام ہیں کہ انہوں نے 1977ء کے بعد فسطائیوں کے ہاتھوں قوم کو قتل عام سے محفوظ کرنے کے لئے قدم اٹھایا، جنہوں نے مذاکرات کو دانستہ لمبا کرکے 9 ستاروں کے انتشار اور عوام کے ان سے مایوس ہونے کی امید پر مذاکرات کا ڈھونگ رچایا ہوا تھا۔ بریگیڈیئر ظفر اقبال چودھری کی کتاب ”یادوں کی دھنک“ ملاحظہ فرما لیں۔ متحارب دونوں فریقوں نے بھی اسلحہ نکال لیا۔ ہر قسم کا جنگی اسلحہ تک لوگوں کی پہنچ میں آ گیا ہے۔ جب دونوں فریقوں نے کلاشنکوفوں کے ساتھ مورچے سنبھالے تو لوگ حرکت میں آئے پولیس کو اطلاع ہوئی۔ حالات کی سنگینی دیکھ کر رینجرز کو بھی بلا لیا گیا۔ جب تک اسلحہ کی کھلی  نمائش اور اس کے استعمال کی نوبت نہیں آئی تھی، سارے ماحول کے لئے یہ کھیل تماشا تھا کہ زیادہ سے زیادہ ڈانگ سوٹے اور معمولی بندوقوں سے  دونوں طرف سے ایک دو افراد زخمی ہوں گے، پھرٹھنڈ پڑ جائے گی پولیس کے وارے نیارے اور کمائی کا سامان ہو جائے گا۔ وکلاء کی بھی سنی جائے گی، مگر جب معاملہ کھلی جنگ تک پہنچ گیا تو سارا ماحول سراسیمہ ہوا کہ اب اس قسم کے اسلحہ نے تو متحارب فریقوں اور دیگر افراد کو بھی  نہیں دیکھتا، یہ تو سارا علاقہ گرد و نواح اس جنگ کی آگ میں جل اٹھے گا۔ تب پولیس آئی اور رینجرز آئی، جنگ بندی ہوئی، معاملہ مذاکرات اور مسائل کے حل کی طرف چلا۔ معلوم ہوا جب تک کوئی خواہ محدود سطح کی ہی لڑائی یا جنگ  ہو دنیا تماشہ دیکھتی اور معاملہ ان کے درمیان ہی رہتا ہے۔ جب یہ جنگ دوسروں کے دامن کو جلانے لگتی ہے اور انہیں اپنے اپنے دوستوں اور مخالفین کی در اندازی کا خوف و خطر لاحق ہوتا ہے تب جا کر فریقین کی دشمنی جنگ اور اس کے پھیلاؤ کی نزاکت کا احساس دامن گیر ہوتا ہے۔ اور دنیا کی غیر جانبداری اور اور بے رخی ختم ہوتی ہے۔ یہی فلسفہ ہر جگہ لاگو ہوتا ہے کوئی آج اس پر ایمان لے آئے یا بعد از خرابی بسیار۔

ہندوستان میں حکومت کے ساتھ مل کر  مسلمانوں کے ساتھ ہندوؤں کا ظالمانہ، غاصبانہ اور انتہائی نا انصافی کا انسانیت سوز رویہ جاری رہا۔ انگریزی حکومت کے بوریا بستر سمیٹنے پر انگریزوں کی کانگرس کے ساتھ یہ طے شدہ سازش تھی کہ وہ ہندوستان میں بسنے  والے عوام کو ایک ہی قوم تصور کر کے حکومت ان کے حوالے کر کے جائیں۔ اس طرح مسلمان جو اپنا الگ تشخص، تہذیب و ثقافت نظریہ اور ایمان رکھتے ہیں جو صرف ایک خدائے واحد کی پرستش کرتے اور نبی آخر الزمان کے امتی ہونے پر قانع اور فخر کرتے ہیں۔ یوم آخر قیامت اور اللہ کے ہاں اپنی ساری زندگی کے حساب کے لئے حاضر ہونے پر ایمان رکھتے ہیں وہ الگ قوم کی حیثیت نہ حاصل کر سکیں بلکہ ہندوستانی حکومت کا حصہ بن کر رہیں۔ بھارت کی غلامی میں زندگی گزارنے کے سوا کوئی چارہئ کار نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مسلمانوں کی بصیرت جاگی۔ اس نور بصیرت نے علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ اور علمائے حق کو بیدار کر دیا۔ علامہؒ نے پاکستان کا تصور پیش کیا۔ قائد اعظمؒ کو مسلم قوم کی قیادت پر آمادہ کیا۔ قائد اعظمؒ نے اللہ تبارک و تعالیٰ کے اسلام کے عملی نفاذ کے لئے خطہء زمین مانگا۔ قوم سے بھی اسلامی جمہوری فلاحی ریاست کا وعدہ کر کے انہیں آمادہئ جدوجہد کیا علمائے حق نے انفرادی طور پر اور اجتماعی طور پر بھرپور جدوجد میں حصہ لیا  مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے اپنے بصیرت افروز لٹریچر اور ایک منظم جمہوری جماعت، جماعت اسلامی کے ذریعے زور دار تحریک چلائی۔ جدا گانہ قومیت کا تصور ابھر کر نعرہ بن گیا۔ مولانا مودودیؒ کو علامہ اقبالؒ نے حیدر آباد دکن ہندوستان سے پنجاب آنے پر آمادہ کیا۔ مولانا مودودیؒ نے ہر مکتب فکر کے علما کو ساتھ لے کر دستوری مہم چلائی۔ پہلے 1956ء کا اسلامی دستور بنا۔ قراردادِ مقاصد منظور ہوئی جو بنیاد ہے۔ 

انگریز حکومت نے مسلمان دشمنی کی انتہا کر دی  جاتے جاتے تقسیم ملک میں ایسی ڈنڈی ماری بھارت کو جموں و کشمیر پر قبضہ کرنے کا راستہ اور موقع فراہم کیا۔ اس طرح ہماری شہ رگ بھارت کے پنجہ استبداد میں دے دی۔ گورنر جنرل کی حیثیت سے قائد اعظمؒ نے جنرل ڈگلس  کو کشمیر میں فوج داخل کرنے کا حکم دیا۔ مگر جنرل نے حکم ماننے سے انکار کر دیا۔ ہم منہ دیکھتے رہ گئے۔ بھارت نے کس کے حکم سے کشمیر میں فوج داخل کی۔ اس سے کس نے پوچھا۔ جو بڑھ کر خود اٹھا لے ہاتھ میں  مینا اسی کا ہے۔ ہمارے کچھ سابق فوجی اور قبائلی جوان کشمیر میں گھس گئے موجودہ آزاد کشمیر انہوں نے غاصب ہندوؤں سے چھینا۔ سرینگر کے مضافات تک یہ بہادر سپوت علاقے فتح کرتے پہنچ گئے تھے کہ بھارتی وزیر اعظم جواہر لعل نہرو اقوام متحدہ میں دوہائی دینے پہنچ گیا۔ سلامتی کونسل نے جنگ بندی کا حکم دے دیا، ہم نے غلاموں کی طرح اپنے جوانوں کو پیچھے ہٹنے کا حکم دے دیا۔ بھارت جموں و کشمیر پر قابض ہو گیا۔ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل نے ضمانت دی کہ جموں و کشمیر کے باشندوں کو استصواب رائے کا حق دیا جائے گا کہ وہ اپنی آزادانہ  مرضی سے پاکستان کے ساتھ رہیں یا بھارت کے ساتھ۔ مگر آج تک کتنی ہی قراردادیں اس قرارداد کی تائید میں منظور ہو چکی ہیں، مگر انہیں  بھارت نے پرکاہ کے برابر بھی اہمیت نہیں دی۔ اپنے دستور میں تبدیلیاں کر کے جموں و کشمیر کو اپنا قانونی حصہ بنا چکا۔ ہم قراردادیں، تقریریں، ہاتھوں کی زنجیریں بناتے رہ گئے۔ کوئی نہ  تو ہمیں کشمیر دلائے گا نہ ہمارے حصہ کے دریاؤں پر ڈیمز بنانے سے بھارت کو روکے گا۔ اس کا صرف یہی حل ہے کہ ہم بھارت کے گریبان میں ہاتھ ڈالیں۔ کالجوں، یونیورسٹیوں اور عام جوانوں میں این سی سی ٹریننگ ہو۔ آزاد کشمیر کے حکمران اپنی نیندیں حرام کریں۔ شاہی ٹھاٹھ چھوڑیں۔ آزاد کشمیر کے چپے چپے کو فوجی چھاؤنی بنا دیں۔ تو دنیا اور سلامتی کونسل کو یقین آئے گا کہ پاکستانی قوم تخت یا تختہ پر تل گئی ہے دو ایٹمی طاقتوں کو ٹکرانے اور ساری دنیا کے امن کو تہہ و بالا ہونے سے محفوظ کرنے کے لئے دنیا دخل دے گی ورنہ بند کار کے سوار اور دو قبائل کے درمیان جنگ کی طرح ہمیں کوئی مدد نہیں ملے گی، بھارت بیشک  امریکہ اور یورپ کو عزیز ہے، مگر اپنا ملک اور عوام اور بقا ایٹمی جنگ کے خطرات سے بچنا بھی ان کے لئے ضروری ہے مسئلے کا واحد حل یہی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -