فیصلہ چیلنج ہوا تو پنڈورا بکس کھل جائے گا

فیصلہ چیلنج ہوا تو پنڈورا بکس کھل جائے گا
فیصلہ چیلنج ہوا تو پنڈورا بکس کھل جائے گا

  

کپتان تو بڑے دِل والے انسان ہیں، مگر یہ اُن کے اردگرد جو چھوٹے دِل والے موجود ہیں وہ اُنہیں ایسے مشورے دے رہے ہیں،جو کپتان کی شخصیت کے تاثر کو ڈبونے کی سازش نظر آتے ہیں، پہلے بھی کاریگر اُنہیں الٹے سیدھے مشورے دے کر عوام کی نظروں میں گرانے کی وارداتیں ڈالتے رہے ہیں تازہ ترین واردات یہ ڈالی گئی ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو اُن کی لیگل ٹیم اور سیاسی مصاحبین ڈسکہ الیکشن کالعدم قرا دینے اور افسروں کے خلاف کارروائی کے فیصلے کو چیلنج کرنے کی بابت کپتان کو آمادہ کر چکے ہیں۔یہ فیصلہ کس حد تک سود مند ہے، یہ تو وقت بتائے گا،لیکن وہ جو ایک تاثر تھا کہ عمران خان میدان میں رہ کر مقابلہ کرتا ہے اور عدالتوں کے پیچھے چھپنے پر یقین نہیں رکھتا، وہ شدید متاثر ہو رہا ہے۔کہاں کی بات کو کہاں لے آئے ہیں،اگر الیکشن میں دھاندلی ہوئی بھی ہے تو حکومت کیوں اُس کا دفاع کرنے جا رہی ہے۔کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ دھاندلی اُس نے کرائی اور اب پکڑے جانے پر عدالتوں کے ذریعے بچنا چاہتی ہے؟اس کیس میں رفتہ رفتہ حکومت پھنستی چلی جا رہی ہے، پہلے دن کپتان نے ٹویٹ کر کے موقف دیا تھا کہ بیس حلقوں میں اگر دھاندلی کی شکایات ہیں تو تحریک انصاف کو اُن پر ری پولنگ کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ پھر باجماعت یہ بھی کہا جاتا رہا کہ ڈسکہ75 میں بے ضابطگیوں پر الیکشن کمیشن کا جو بھی فیصلہ آئے گا اُسے من و عن قبول کریں گے۔ اس پر بھی بہت واہ واہ ہوئی کہ حکومت خود کو اس معاملے میں فریق نہیں سمجھتی اور الیکشن کمیشن پر سب کچھ چھوڑ چکی ہے، مگر جونہی الیکشن کمیشن نے پورے حلقے میں دوبارہ پولنگ کا حکم دیا اور ساتھ ہی ڈویژن اور ضلع کی سطح پر تعینات  افسران کو ہٹانے اور معطل کرنے کی ہدایت کی، وزیراعظم کو غلط مشورے دینے والے سرگرم ہو گئے۔ قانون کا علمبردار وہ وزیراعظم جو کہا کرتا تھا کہ ہمارے دور میں اپوزیشن جو حلقہ بھی کھولنے کا مطالبہ کرے گی،اُسے بغیر حیل و حجت کھول دیں گے، مشیران کرام کے مشورے کو مان کر یہاں بھی یوٹرن لینے پر مجبور ہو گیا اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ میں نہ صرف الیکشن کمیشن کے دوبارہ پولنگ کرانے، بلکہ افسروں کو سزائیں دینے کے فیصلے کو بھی چیلنج کیا جائے گا۔

مشورہ دینے والے اس حقیقت کو بھول گئے ہیں کہ اب فریق اپوزیشن نہیں،بلکہ الیکشن کمیشن ہے۔ ایک آئینی ادارہ جن کا کام ہی یہ ہے کہ ملک میں پُرامن اور منصفانہ انتخابات کرائے۔ حکومت اس کے فیصلے کو چیلنج کرنے جا رہی ہے،جس میں سب سے بڑے مدعی خود چیف الیکشن کمشنر ہیں، جنہوں نے خود پریس ریلیز جاری کر کے اس بات کی نشاندہی فرمائی کہ ڈسکہ الیکشن کے نتائج میں تاخیر کے بعد انہوں نے صوبے و ضلع کے افسران سے رابطے کی کوشش کی تو انہوں نے فون نہیں سنے، وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں یکسر ناکام رہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس اپیل میں جب الیکشن کمشنر نیز اپوزیشن کے وکلاء کٹہرے میں کھڑے سرکاری افسران سے اُن کی گمشدگی اور نااہلی کے بارے میں جب سوال کریں گے تو وہ کیا جواب دیں گے ابھی  تو سب رازوں پر پردہ پڑا ہوا ہے۔ عدالت میں بال کی کھال اتارنے کا عمل شروع ہوا تو سب کچھ سامنے نہیں آ جائے گا۔ وہ بیس پریذائیڈنگ افسران جو الیکشن کے بعد غائب ہو گئے اور اگلی صبح باجماعت ریٹرننگ افسر کے سامنے پیش ہوئے۔ اُن پر جرح ہوئی تو کیا کچھ نہیں کھلے گا۔ کہاں رات بھر رہے،کون انہیں لے گیا، اس دوران وہ کیا کرتے رہے، پولنگ سٹیشنوں کی شرح 80سے 90فیصد کیسے ہو گئی؟ ان سب سوالوں کا جواب تو پوچھا جائے گا، کیا سب وہی کہانی سنائیں گے کہ دھند کی وجہ سے نہیں پہنچ سکے، کیا اس سوال کا جواب بھی یہی دیں گے کہ موبائل فون بھی دُھند کی وجہ سے بند ہو گئے تھے، کیا حکومت کے کاریگر مشیروں نے ان پہلوؤں پر غور کیا ہے، کیا  انہیں کچھ پتہ بھی ہے کہ الیکشن کمشن نے یہ جرأت مندانہ فیصلہ کیا ہے تو اُس کے پیچھے ضرور وہ تمام ثبوت موجود ہیں،، جو ابھی تک حکومت کی قانونی ٹیم کے سامنے ہی نہیں آئے۔

جن سرکاری افسران کو حکومت بچانا چاہتی ہے، وہ کیا اس حقیقت سے انکار کر سکتے ہیں کہ ڈسکہ میں پولنگ کے دن لاقانونیت کا ر اج رہا، کیا دو اموات سے انکار کیا جا سکتا ہے، کیا شہر میں مسلح دستوں کے موٹر سائیکلوں پر گشت اور ہوائی فائرنگ کو جھٹلایا جا سکتا ہے، کیا بار بار پولنگ اسٹیشنوں پر پولنگ روکنے کے واقعات حقیقت نہیں ہے، پھر اس پر مستزاد اُن کی نااہلی ہے کہ انہوں نے اس دوران ایک بھی شخص گرفتار نہیں کیا اور نہ ہی قتل کی واردات سے پہلے کسی کے خلاف مقدمہ درج کیا، اس بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں کہ مسلح افراد تحریک انصاف سے تعلق رکھتے تھے یا مسلم لیگ (ن) سے، اصل بات یہ ہے کہ انتظامیہ اور پولیس کہاں تھی اور اُس نے اپنے فرائض کیوں ادا نہیں کئے؟ اس سارا دن جاری رہنے والی لاقانونیت، غنڈہ گردی اور بدمعاشی کے بعد شام کے وقت 20 پریذائیڈنگ افسران پُراسرار طور پر غائب ہو جاتے ہیں اب یہ اتنا بڑا واقعہ ہے کہ انتظامیہ اور پولیس کی نیندیں اڑ جانی چاہئے تھیں، مگر افسران تو لمبی تان کر سو رہے تھے اور اُن کے پاس چیف الیکشن کمشنر کا فون تک سننے کی گنجائش نہیں تھی۔

حیرت ہے کہ اتنی بڑی حقیقتوں کے باوجود حکومت نے دوبارہ پولنگ میں جانے کا سہل فیصلہ کرنے کی بجائے ایسا راستہ اختیار کیا ہے جو کانٹوں سے بھرا ہوا ہے۔ایک طرف یہ تاثر قائم ہوا ہے کہ حکمران جماعت دوبارہ پولنگ سے گھبرا رہی ہے اور دوسری طرف وہ اُن افسروں کو بچانا چاہتی ہے، جنہوں نے الیکشن کے دن واضح طور پر مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا۔ کیا وہ انہیں اس لئے بچانا چاہتی ہے کہ انہوں نے حکومت کے ایماء پر اپنے فرائض سے پہلو تہی کی، اگر ایسا نہیں تو حکومت کو ان افسروں کے نہیں چیف الیکشن کمشنر کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے۔

مزید :

رائے -کالم -