وزیراعظم کا سعودی ولی عہد کو خط، کامیاب سرجری پر نیک خواہشات کااظہار

وزیراعظم کا سعودی ولی عہد کو خط، کامیاب سرجری پر نیک خواہشات کااظہار
وزیراعظم کا سعودی ولی عہد کو خط، کامیاب سرجری پر نیک خواہشات کااظہار

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم عمران خان نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو خط تحریر کیاہے جس میں کامیاب سرجری پرنیک خواہشات کااظہارکیاگیاہے۔

نجی ٹی وی 92 نیوز کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے سعودی ولی عہد کی جلد صحتیابی کیلئے دعاکی ہے، خط میں کہاگیاہے کہ پاکستانی عوام محمد بن سلمان کی تندرستی کیلئے دعاگو ہے ۔

واضح رہے کہ محمد بن سلمان کو چند روز قبل تکلیف محسوس ہوئی تھی جس پر ڈاکٹرز نے اپینڈکس کا آپریشن تجویز کیاتھا،ریاض کے شاہ فیصل ہسپتال میں سعودی شہزادے کی لیپروسکوپک سرجری کی گئی تھی۔ڈاکٹروں کی جانب سے اجازت ملنے پر محمد بن سلمان کو رہائش گاہ منتقل کر دیاگیاجہاں ان کی طبیعت بہتر بتائی گئی ہے۔

یاد رہے کہ امریکی انٹیلی جنس کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ واشنگٹن پوسٹ کے سعودی قونصل خانے میں قتل ہونے والے صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا حکم سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے دیا تھا۔

سی این این کے مطابق انٹیلی جنس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محمد بن سلمان نے استنبول میں آپریشن کی منظوری دی جس کا مقصد جمال خاشقی کو گرفتار یا قتل کرنا تھا۔ ’ ہم یہ دعویٰ ولی عہد کے مملکت میں فیصلہ سازی پر کنٹرول کو مد نظر رکھتے ہوئے کر رہے ہیں، ان کے اہم مشیر اور قریبی لوگوں کا اس آپریشن میں شامل ہونا بھی اس بات کو تقویت دیتا ہے، اس کے علاوہ محمد بن سلمان اپنے خلاف بیرون ممالک میں اٹھنے والی آوازوں کو خاموش کرانے پر یقین رکھتے ہیں۔‘

امریکی صدر جوبائیڈن کی انتظامیہ نے یہ انتہائی خفیہ رپورٹ ریلیز کرنے سے پہلے کانگریس کے سامنے پیش کی۔ صدر جوبائیڈن نے جمعرات کو سعودی عرب کے بادشاہ محمد بن سلمان سے فون پر رابطہ کیا جس کے بعد کانگریس نے اس رپورٹ کو پبلک کرنے کی منظوری دی۔

امریکہ کی جانب سے سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کو صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا براہ راست ذمہ دار قرار دیے جانے کے بعد پوری دنیا کے عرب عوام اکٹھے ہوکر محمد بن سلمان کی حمایت میں کھل کر سامنے آگئے۔سعودی عرب نے اس رپورٹ کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے جبکہ متحدہ عرب امارات، کویت اور عرب پارلیمنٹ نے اس معاملے پر سعودی عرب کی حمایت کی ہے۔

کویت کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ ہر اس چیز کی مخالفت کریں گے جو سعودی عرب کی خود مختاری کے خلاف تعصب سے بھرپور ہو۔

دوسری جانب عرب پارلیمنٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور ہر اس چیز کو مسترد کرتے ہیں جو سعودی عرب کی عدلیہ کی آزادی پر اثر انداز ہو۔ 

متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کی جانب سے بھی امریکی رپورٹ کے معاملے پر سعودی عرب کی کھل کر حمایت کا اعلان کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ جمال خاشقجی کو اکتوبر 2018 میں ترکی کے شہر استنبول میں واقع سعودی عرب کے قونصل خانے میں اس وقت قتل کیا گیا تھا جب وہ اپنے پاسپورٹ کی تجدید کیلئے ا?ئے تھے۔ انہیں قتل کرنے کیلئے سعودی عرب سے ایک خصوصی ٹیم خصوصی طیارے پر استنبول پہنچی جس نے خاشقجی کو قتل کرنے کے بعد ان کی لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے تھے۔ ان کی لاش کی باقیات کا تاحال پتہ نہیں چلایا جاسکا۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -