وزیر اعظم کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے انکار، لیکن گزشتہ 8 ماہ کے دوران پٹرول کتنا مہنگا کیا جاچکا ہے؟ حیران کن اعداد و شمار سامنے آگئے

وزیر اعظم کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے انکار، لیکن گزشتہ 8 ماہ ...
وزیر اعظم کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے انکار، لیکن گزشتہ 8 ماہ کے دوران پٹرول کتنا مہنگا کیا جاچکا ہے؟ حیران کن اعداد و شمار سامنے آگئے

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعظم عمران خان نے آج فروری 2021 کے آخری روز پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان میں گزشتہ کچھ عرصے سے ہر 15 دنوں کے بعد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں طے کی جانے لگی ہیں جس کی عوام کو بھاری قیمت چکانی پڑی ہے۔

نجی ٹی وی 24 نیوز کے مطابق گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پٹرولیم مصنوعات 44 روپے 63 پیسے تک مہنگی کرچکی ہے۔ جون 2020 سے فروری 2021 تک حکومت نے ملک میں پٹرول کی قیمت میں 37 روپے 38 پیسے کا اضافہ کیا  جس کے باعث فی لٹر پٹرول 74 روپے 52 پیسے سے بڑھ کر 111 روپے 90 پیسے کا ہو گیا۔

جون 2020 سے فروری 2021 کے دوران ہائی سپیڈ ڈیزل35 روپے 93 پیسے مہنگا کیا گیا اور اس کی قیمت  80 روپے 15 پیسے سے بڑھ کر 16 روپے آٹھ پیسے  فی لٹر  ہوئی۔ حکومت نے اسی عرصے کے دوران لائٹ ڈیزل 41 روپے نو پیسے مہنگا کیا اور اس کی قیمت کو 38 روپے 14 پیسے سے 79 روپے 23  پیسے فی لٹر پر پہنچادیا۔ گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران مٹی کے تیل کی قیمت میں 44 روپے 63 پیسے کا اضافہ کیا گیا  جس کے بعد اس کی قیمت 35 روپے 56 پیسے سے بڑھ کر 80 روپے 19 پیسے فی لٹر ہوگئی۔

دوسری جانب گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں 26 ڈالر (4101 روپے) کا اضافہ ہوا اور ایک بیرل  کی قیمت 40 ڈالر(6310 روپے) سے بڑھ کر 66 ڈالر (10412 روپے) فی بیرل تک پہنچی۔

مزید :

بزنس -