ہندوستان کا نیا ڈرامہ 

ہندوستان کا نیا ڈرامہ 
ہندوستان کا نیا ڈرامہ 

  

ہندوستان کی حکومت مقبوضہ کشمیر میں جبر اور فوجی طاقت سے لوگوں کی آواز دبا کر دنیا کو باور کروا رہی ہے کہ یہاں بالکل امن ہے ہندوستان کے پانچ اگست کے اقدامات سے خطہ میں سکون آیا ہے باقی سب پاکستان کا شور شرابہ ہے اپنے غاصبانہ قبضہ کو دوام بخشنے کی حکمت عملی کے تحت ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر جو فوجی محاصرے میں ہے ،بھارت دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہا ہے۔بھارت  مقبوضہ وادی میں صورتحال معمول پر آنے کے بارے میں تاثر دینے کے لیے یورپی اور خلیجی ممالک کے سفارتکاروں کے ایک گروپ کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں 17 اور 18 فروری کو لے کر گیا۔ جو اگست 2019 میں اس خطے کی خود مختاری چھیننے کے بعد غیر معمولی پابندیوں کا شکار ہے۔

یہ دورہ مقبوضہ کشمیر میں 18 ماہ کی طویل پابندی کے بعد 4 جی انٹرنیٹ سروسز کی بحالی کے بعد ہوا ہے 5 اگست کے بھارت کے غیر قانونی اقدام کے بعد غیر ملکی سفارتکاروں کا یہ تیسرا ایسا دورہ ہے۔ ان دوروں کے سخت انتظامات کیے جاتے ہیں اور صورتحال کا آزادانہ فیصلہ کرنے کی بہت کم گنجائش رہ جاتی ہے۔اس سے قبل دو دورے گزشتہ سال جنوری اور فروری میں ہوئے تھے۔ان دوروں کے دوران سفارت کاروں کو سرکاری عہدیداروں، سیکیورٹی اہلکاروں اور بھارت کی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے حامیوں سے ملنا پڑتا ہے۔اس طرح کے گائیڈڈ دورے کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں سے بین الاقوامی توجہ ہٹانا اور عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنا ہے۔

غیر ملکی سفارتکاروں کو تمام علاقوں تک رسائی اور کشمیری عوام اور سول سوسائٹی کے ساتھ آزادانہ ماحول میں روابط کے بغیر یہ دورہ بے معنی اور بیکار ہے۔ سفارتکاروں کو سینئر حریت قیادت اور بے بنیاد الزامات کے تحت زیر حراست کشمیری رہنماؤں سے بھی ملاقات کرائی جانی چاہئے تھی تاکہ وہ زمینی حقائق کا معقول جائزہ لے سکتے۔  مقبوضہ کشمیر میں صورتحال معمول پر آنے سے متعلق بھارتی بیانیے میں کوئی حقیقت نہیں۔اگر ہمت ہے تو ہندوستان انسانی حقوق کے ہائی کمشنر، اقوام متحدہ کے مبصرین، او آئی سی کا آزاد مستقل انسانی حقوق کمیشن، بین الاقوامی انسانی حقوق اور سول سوسائٹی کی تنظیمیوں اور بین الاقوامی میڈیا کو مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے کی اجازت دے تاکہ وہ زمینی صورتحال کا جائزہ لے سکیں

سیاسی مبصرین کے مطابق اس طرح کے دورے محض فریب ہیں ۔ ترجمان دفتر خارجہ  کے مطابق دہلی میں مقیم غیر ملکی سفارتکاروں کو مقبوضہ کشمیر کا دورہ کر وا کر وہاں پر حالات نارمل ہونے کا ڈرامہ رچا یا جا رہا ہے ۔ بھارت انسانی حقوق کمیشن کو مقبوضہ کشمیر میں رسائی دے ، بھارت نے سفارتکاروں کے سامنے ریٹائر ڈفوجیوں کو سیب کا کاشتکار بنا کر پیش کیا ، مقبوضہ کشمیرمیں آزادا نہ نقل وحمل اور ملاقاتوں کے بغیر سفیروں کا دورہ بے معنی ہے ۔بھارت نے غیر ملکی سفیروں کو حریت قیادت سے ملنے نہیں دیا تاکہ غیرملکی سفیروں کومقبو ضہ کشمیر کی حقیقی صورتحال کا پتا نہ چل سکے-

دریں اثنا ہندوستان نواز لیڈروں نے بھی غیر ملکی سفارتکاروں کے دورہ کو مسترد کر دیا ہے -ہندوستان کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کانگریس کے رہنما اور بھارتی پارلیمنٹ کے سابق رکن پروفیسر سیف الدین سوز نے کہا ہے کہ غیر ملکی سفارتکاروں کی مقبوضہ علاقے میں آمد محض سیر سپاٹے پر ختم ہوئی ہے اور ہندوستانی حکومت اور کشمیریوں کو اس سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پروفیسر سوز نے ایک بیان میں کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کا دورہ کرنے والے یورپی سفارتکاروں میں جو زندہ دل اور حقیقت شناس ہونگے وہ اپنے ملکوں میں جا کر اپنے عوام کو کشمیر کی سچی کہانی ضرور بتائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستانی  حکومت بار بار اپنی غلطی دہرا رہی ہے اور کوئی سبق نہیں سیکھ رہی ۔ انہوں نے کہا کہ سفارتکاروں سے صرف مخصوص اور چنے ہوئے لوگوں کی ملاقات کرائی گئی جو ایک فضول کارروائی ہے ۔انہوں نے کہا کہ سفارتکاروں کو معلوم ہو گا کہ دفعہ 370کی یکطرفہ طور پر منسوخی پر کشمیری سخت ناراض ہیں ۔  ادھر نیشنل کانفرنس کے ترجمان نے  بھی یورپی سفارتکاروں کے دورے کو وقت کی بربادی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ منظور نظر افراد کو لاکر سفارتکاروں سے ملوانا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یہ کھیل کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہندوستان کی حکومت یورپی وفد کو کشمیرکی سیاسی قیادت اور دیگر مکتب ہائے فکر سے وابستہ لوگوں سے ملنے دے تو وہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔ ہندوستان کے اس طرح کے ہتھکنڈوں کے بعد حکومت پاکستان کو بھی غیر ملکی سفارتکاروں کو ایل او سی کا دورہ کروا کر  اصل صورتحال پر بریفنگ دینی چاہیے۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -