تعلیم کی تڑپ یا ڈگری ؟؟؟ 

تعلیم کی تڑپ یا ڈگری ؟؟؟ 
تعلیم کی تڑپ یا ڈگری ؟؟؟ 

  

افغانستان کا ایک غزالہ نامی  گاؤں تھا،اس گاؤں میں ایک امیر شخص رہتا تھا ،اسے تعلیم کا بہت شوق تھا ،وہ خود تو تعلیم حاصل نہ کر سکا لیکن اس نے اپنے بیٹے کو تعلیم دلانے کے لئے استاد رکھا ہوا تھا ۔۔۔استاد گاؤں سے بیس میل دور شہر میں رہتا تھا ۔۔۔وہ روزانہ اس لڑکے کو پڑھانے گاؤں آتا تھا ۔۔۔اسی گاؤں میں ایک بچہ اور بھی تھا جسے تعلیم حاصل کرنے کا بہت شوق تھا لیکن غربت اتنی تھی کہ وہ تعلیم کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتا تھا۔۔۔ ایک دن اس بچے نے استاد کو دیکھا اور انہیں کہا کہ مجھے تعلیم حاصل کرنے کا بہت شوق ہے ۔۔۔آپ مجھے بھی تھوڑا وقت دے دیا کریں تاکہ میں بھی تعلیم حاصل کر سکوں۔۔۔

استاد نے جواب دیا کہ میں صرف اس بچے کو پڑھانے کا معاوضہ وصول کرتا ہوں، اگر میں نے تمہیں بھی ساتھ  پڑھانا شروع کر دیا تو یہ نا انصافی ہو گی۔۔۔ بچے نے کہا جب آپ گھوڑے پر سوار ہو کر واپس شہر جاتے ہیں تو اس وقت میں آپ کے ساتھ ساتھ پیدل چلا کروں گا،آپ گھوڑے پر بیٹھے بیٹھے مجھے سبق دے دیا کریں، میں اسے یاد کر لیا کروں گا۔۔۔ استاد نے بچے کی بات قبول کر لی اور یوں وہ بچہ تعلیم حاصل کرنے لگا۔۔۔ جب استاد نے اس بچے کا شوق دیکھا تو اسے کہا کہ میں تم کو ایک سہولت اور دیتا ہوں وہ یہ کہ جہاں ہمارا سفر ختم ہوتا ہے تم میرے شہر سے آنے سے پہلے اس مقام پر کھڑے ہو جایا کرو۔۔۔ جب میں آؤں گا تو تم میرے ساتھ ساتھ پیدل چلنا ،اس طرح تمہیں مزید سبق مل جائے گا۔۔۔ بچے نے استاد کی بات قبول کر لی اور یوں اس بچے نے چھ سال پیدل چل کر اس استاد سے تعلیم حاصل کی۔۔۔۔  بعد میں اسی بچے نے دنیا میں پہلی مرتبہ بجٹ, دینی اور دنیاوی تعلیم کا تصور پیش کیا ۔۔۔آج دنیا اس بچے کو حضرت امام غزالیؒ کے نام سے جانتی ہے۔۔۔

تاریخ گواہ ہے علم اسے ہی ملتا ہے جو اس کا متلاشی ہو۔۔۔ یہ علم کی تلاش ہی ہے کہ تندور پر روٹیاں لگانے والا ٹاپ کر جاتا ہے,  دودھ بیچنے والا وزیر اعظم بن جاتا ہے۔۔۔ گلیوں میں ٹافیاں بیچنے والا گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں نظر آتا ہے۔۔۔ تعلیم حاصل کرنے کے لیے تعلیم کی تڑپ بہت ضروری ہے ۔۔اگر طالب علم,  علم کا طلبگار نہیں۔۔۔علم کا متلاشی نہیں ۔۔۔علم کے لیے سفر نہیں کرتا ۔۔۔استاد کا ادب نہیں کرتا۔۔۔ استاد کی مار برداشت نہیں کرتا ۔۔اس کی جوتیاں سیدھی نہیں کرتا تو پھر کیسے ممکن ہے کہ وہ تعلیم یافتہ ہو اور اسے علم کے نتائج ملیں؟؟؟

نتائج سے آپ کو بتاتا چلوں۔۔۔ تعلیم انسان کو چار نتائج دیتی ہے۔۔۔ تخلیق, تربیت, اقدار, اور ٹیکنالوجی لیکن بدقسمتی سے ہمارے تعلیمی اداروں میں ان چاروں کا ہی فقدان ہےبلکہ میں یہ کہوں تو غلط نہیں ہوگا۔۔۔ ہمارے تعلیمی ادارے یہ نتائج دینے کے قابل ہی نہیں اور اس کا نتیجہ آپ کے سامنے ہے , ویسے تو ہمارے ہاں  کثیر تعداد میں  ڈاکٹر ہیں لیکن ہم  آج بھی کرونا ویکسین , پولیو ویکسین, دوسرے ملکوں سے لینے پر مجبور ہیں بلکہ میں یہ کہوں تو غلط نہیں ہوگا دوسرے ممالک ہمیں خیرات دے رہے ہیں۔۔۔

ویسے تو ہم کہتے ہیں کے ہم نے ٹیکنالوجی میں بہت ترقی کر لی لیکن حقیقت تو یہ ہے ہم آج بھی اچھے موبائل فون امپورٹ کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ ہمارے اپنے بنائے ہوئے فون قابل اعتماد نہیں اور ہمارے آئی ٹی ایکسپرٹ آج بھی گوگل کا  سہارا لیتے ہیں لیکن دوسری طرف اگر میں اپنی تاریخ دیکھوں تو ہم قابل فخر تھے۔۔۔ ہر شعبے میں ہماری حکمرانی تھی۔۔۔ دوسرے لوگ ہم سے سیکھتے تھے لیکن پھر ہم نے اپنی قدر خو د کھو دی ۔۔۔ہم تعلیم کی بجائے ڈگری پر چلے گئے۔۔۔میرے طالب علموں میں علم کی ہوس اور علم کی تڑپ کم ہو گئی اور اتنی کم ہوئی کہ انھوں نے تعلیم کو  صرف ڈگریوں اور نمبروں تک ہی محدود کر لیا ۔۔۔اس کا فائدہ تو ہوا لیکن قابلیت جاتی رہی۔۔۔

  ہمارے پاس ابھی بھی وقت ہے۔۔۔ ہمیں اپنے طالب علموں میں تعلیم کی ہوس پیدا کرنی ہے جو انھیں علم کی تڑپ میں سفر کرنے پر مجبور کر دے۔۔۔ جو انھیں نمبروں کی قید سے آزاد کر دے ۔۔۔جو انھیں با کردار بنا دے۔۔۔  یقین مانیں جس دن ہم یہ کرنے میں کامیاب ہوگئے تو پھر وہ دن دور نہیں جب ہم اپنا کھویا ہوا مقام واپس پا لیں گے اور ہماری خود داری بھی واپس آ جائے گی۔۔۔آپ اگر کامیاب لوگوں کا ڈیٹا جمع کریں، ان میں آپ کو ایک خوبی ضرور ملے گی۔۔۔ وہ ہے کامیابی کی تڑپ۔۔۔ تو کیا ہم اپنے بچوں میں تعلیم کی تڑپ پیدا نہیں کر سکتے؟؟؟ ہمیں بس ان کو یہ یقین دلانا ہے کہ  اگر وہ علم کی تڑپ کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے جائیں گے تو  وہ دنیا کو تبدیل کر کے رکھ دیں گے۔۔۔ میری آپ سب سے درخواست ہے اپنے بچوں میں تعلیم کی تڑپ پیدا کریں ڈگری کی نہیں ...

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -