سیکنڈ ہوم

       سیکنڈ ہوم
       سیکنڈ ہوم

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو زندگی بھر مصروف رہتے ہیں اور زندگی کے کسی شعبے میں مشنری منصوبے کیلئے اپنے آپ کو وقف کر دیتے ہیں ورنہ عام لوگوں کے پاس تو کوئی مشن نہیں ہوتا اور فرصت اُن کے لئے ایک مسئلہ بن جاتی ہے خصوصاً سرکاری ملازمین کے لئے ریٹائرمنٹ کے بعد وقت گزارنا ایک چیلنج ہوتا ہے۔ مختلف لوگ اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے مختلف طریقے اپناتے ہیں مثلاً سب سے آسان نسخہ تو یہی ہے کہ آپ شلوار قمیض اپنا لیں اور پانچ وقت مسجد میں نماز پڑھنا شروع کر دیں۔ اِس سے آپ کو مسجد میں ہی کمپنی بھی مل جائے گی جس کے ساتھ آپ واک کریں گے اور گپ شپ بھی لگائیں گے اور ساتھ ساتھ آخرت کی تیاری بھی ہو جائے گی اس سارے عمل میں آپ کا کوئی خرچہ نہیں ہو گا یعنی ہینگ لگے نہ پھٹکڑی۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہوں نے ملازمت کے کلچر کو اپنے اوپر سوار ہونے ہی نہیں دیا اُن کے لئے میدان کھلا ہے وہ بزنس بھی کر سکتے ہیں، سیاست میں منہ مار سکتے ہیں اور بعض نیک فطرت لوگ خلق خدا کی خدمت کے مشن کیلئے اپنے آپ کو وقف کر دیتے ہیں۔ اگر آپ کو اِن میں سے کسی کام میں دلچسپی نہیں تو پھر وقت گزارنے کیلئے آپ کیلئے کلب ایک باعزت ٹھکانہ ہے لیکن کلب کا بھی ایک کلچر ہے اس سے ہم آہنگی بھی ضروری ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو پھر تو سارے سرکاری افسر ریٹائرمنٹ کے بعدکلب میں ہی پائے جاتے حالانکہ ایسا نہیں ہے۔

کلب ارکان کیلئے سیکنڈ ہوم سمجھا جاتا ہے شاید بات کچھ اِس سے بھی آگے ہے کہ گھر میں کلب کا ماحول نہیں بن سکتا۔ اللہ بھلا کرے انگریزوں کا کہ انہوں نے ہمارے لئے بہت کچھ کیامثلاً انہوں نے ہمیں کرکٹ سے روشناس کرایا ورنہ ہم کیا کرتے، کیا کبڈی کھیلتے رہتے کلب کا آئیڈیا بھی اُنہی کا دیا ہوا ہے۔ ماضی میں مل بیٹھنے کیلئے ہمارے پاس دیہات میں ڈیرے اور شہروں میں تھڑّے ہوتے تھے اور حقہ اِن جگہوں کا لازمی جز ہوتا تھا چائے ہمارے ہاں کافی لیٹ آئی۔ ویسے یہ لوکل کلچر تھا اسلامی کلچر میں تو مسجد ہمارے میل جول کی جگہ تھی اسی لئے یورپ میں مسلمان اسلامک سنٹر بناتے ہیں مسجد جس کا ایک حصہ ہوتی ہے جہاں وہ نماز پڑھنے کے علاوہ بھی بہت سی سرگرمیوں میں حصہ لے سکتے ہیں لیکن پاکستان میں اس کا شعور نہیں۔ بات ذرا لمبی ہو گئی ذکر تو میں نے کلب کا کرنا تھا۔ میں جنوری 1997ء میں اسلام آباد کلب کا رکن بن گیا تھا ریٹائر میں دسمبر 2009ء میں ہوا۔ضروری نہیں کہ ہر انسان سارا ذہنی سرمایہ ملازمت کی نظر کر دے اورریٹائرمنٹ پر ذہنی افلاس کا شکار ہوجائے۔میں نے ریٹائرمنٹ کے بعد کچھ دنیا دیکھنے کا چسکا پورا کیا۔ یادداشتوں پر مشتمل ایک کتاب لکھی اور ان شاء اللہ اسی سال دو اور کتابیں تیار ہو جائیں گی۔ درمیان میں ایک اخبار میں کالم آرائی بھی جاری رہی اور جاری ہے تاہم یہ مصروفیت وقت گزاری کے لئے کافی ثابت نہیں ہوئی اس لئے کلب روزہ مرہ زندگی کا حصہ بن گیا۔

اسلام آباد کلب ایک بڑا ادارہ ہے اس وقت تین جگہوں پر کلب کی سرگرمیاں جاری ہیں Main کلب کے علاوہ قریب ہی سیڈل روم ہے جہاں پر گھوڑ سواری کا انتظام ہے اور ایک ریسٹورنٹ ہے جس میں غیرملکی کھانوں کا شوق پورا کیا جا سکتا ہے پھر ذرا دور پولو گراؤنڈ ہے اور ساتھ ہی کرکٹ گراؤنڈ ہے دونوں جگہ ریسٹورنٹ ہیں اور پھر واک کا انتظام اور بچوں کی تفریح کیلئے الگ سے انتظام ہے۔ Main کلب میں جم ہے لائبریری ہے، رہائشی کمرے ہیں، سپورٹس ہے، سوئمنگ کا انتظام ہے، بیکری ہے، کھانے پینے کیلئے تین چار جگہیں ہیں میری دلچسپی لائبریری علمی، ثقافتی سرگرمیوں اور چائے نوشی تک محدود ہے۔ چائے اور گپ شپ کیلئے مخصوص جگہ دیوان خاص ہے یوں تو اب جس قسم کے لوگ یہاں آتے جاتے ہیں اس کا نام دیوان عام ہونا چاہئے لیکن ضروری نہیں کہ نام سے اندر ہونے والی سرگرمیوں کی صحیح نشاندہی ہوتی ہو مثلاً کھانے کے لئے مخصوص ہال کا نام دربار ہال ہے اب پتہ نہیں یہ کونسا دربار ہے اور کھانے کے ساتھ اس کا کیا تعلق ہے بہرحال دیوان خاص ایک بہت بڑا فرنشنڈ ہال ہے جو صبح سے رات گیارہ بجے تک کھلا رہتا ہے یہاں آپ چائے اور سنیکس منگوا سکتے ہیں اب تو چائے مفت ملتی ہے یہاں وقت کی کوئی قید نہیں اس لئے بعض لوگ تو ہال کے بند ہونے پر ہی گھر روانہ ہوتے ہیں۔ یہاں پر ہر شعبے کے زیادہ تر ریٹائرڈ  بیوروکریٹ گھنٹوں گپ لگاتے ہیں چونکہ اُن کے پاس وافر تجربہ اوروافر وقت دستیاب ہوتا ہے اور پھر سامعین کی بھی کمی نہیں ہوتی۔ اب جہاں علم وفن کے موتی بکھیرے جا رہے ہوں اور چائے بھی وافر مقدار میں دستیاب ہو وہاں کس کافر کا اُٹھنے کو دل کرتا ہے۔ زندگی کے باقی شعبوں کی طرح یہاں بھی گروپ بندیاں ہیں۔ مختلف گروپوں کے مخصوص صوفہ سیٹ اور ٹائمنگ بھی مخصوص ہوتے ہیں۔

ریٹائرمنٹ پر صرف آپ سے بیٹھنے کی جگہ نہیں چھن جاتی یا تنخواہ کم نہیں ہوتی بلکہ آپ کا وقار بھی بہت نیچے چلا جاتا ہے اس صورتحال سے سمجھوتہ کرنا کافی مشکل ہوتا ہے۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ ریٹائرمنٹ کے بعد نئے دوست نہیں بنتے اور کچھ پرانے یہ دنیا چھوڑ جاتے ہیں اور کچھ وقت کی دھول میں گم ہو جاتے ہیں اس سے انسان تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے اور ذہنی ارتقاء رُک جاتا ہے۔ کلب کے فیض سے ریٹائرمنٹ کے بعد میرے بہت سے نئے دوست بنے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے یوں کلب کی سرگرمیاں صرف وقت گزاری تک محدود نہیں بلکہ مجموعی طور پر بامعنی سرگرمی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -