’مائنس 2‘ ہو ہی گیا،کھیل خاصی باریکی سے کھیلا گیا ،کامیابی کس کے ہاتھ آئی۔۔۔؟مظہر عباس نے تہلکہ خیز انکشافات کر دیئے

’مائنس 2‘ ہو ہی گیا،کھیل خاصی باریکی سے کھیلا گیا ،کامیابی کس کے ہاتھ ...
’مائنس 2‘ ہو ہی گیا،کھیل خاصی باریکی سے کھیلا گیا ،کامیابی کس کے ہاتھ آئی۔۔۔؟مظہر عباس نے تہلکہ خیز انکشافات کر دیئے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

کراچی ( خصوصی رپورٹ )’مائنس 2‘ ہو ہی گیا،ایک اڈیالہ جیل سے لڑائی لڑ رہا ہے اور دوسرا بیٹی اور بھائی کیلئے دعاگو ہے، لگتا ہے کھیل خاصی باریکی سے کھیلا گیا ہے۔ کامیابی بہرحال بظاہر شہباز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری کے ہاتھ آئی ہے۔سینئر صحافی و تجزیہ کارمظہر عباس نے تہلکہ خیز انکشافات کر دیئے۔

"جیو " میں شائع ہونیوالے بلاگ میں انہوں نے لکھا ہے کہ  وجوہات مختلف ہی سہی مگر 8 فروری کے انتخابات اور نتائج کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ2اہم سیاسی رہنماؤں کو ’’سسٹم‘‘ سے باہر کر دیا گیا ہے۔ سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور عمران خان، دونوں کی جماعتیں جیت کی دعویدار ہیں مگر جن کے درمیان اصل مقابلہ تھا اس اہم ترین منصب کیلئے، وہ دونوں ہی باہر ہیں، ایک اڈیالہ جیل سے لڑائی لڑ رہا ہے اور دوسرا بیٹی اور بھائی کیلئے دعاگو ہے۔ چوتھی بار وزیراعظم نہ بن سکے تو کیا ہوا۔ لگتا ہے کھیل خاصی باریکی سے کھیلا گیا ہے۔ کامیابی بہرحال بظاہر شہباز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری کے ہاتھ آئی ہے بس ذرا صدر عارف علوی جانے سے پہلے ’’کچھ شرارتیں‘‘ کر رہے ہیں۔ ’’مائنس 2‘‘ پر بہرکیف عملدرآمد ہو ہی گیا۔ویسے بھی ہمارے ملک میں دو ہی مراکز ہیں جہاں دھاندلی ہوتی ہے۔ ’’امتحانی مراکز‘‘ اور ’’انتخابی مراکز‘‘ دونوں میں کئی قدریں مشترک ہیں، مثلاً سکول یا کالج سینٹر ہوتے ہیں دونوں کی نگرانی ٹیچرز ہی کرتے ہیں۔ دونوں جگہ پرچہ شروع ہونے سے پہلے ہی آؤٹ ہوجاتا ہے اور پھر شور شرابہ یا احتجاج کی صورت میں کبھی گریس مارکس دے کر پاس یا منتخب کروا دیا جاتا ہے ورنہ پرچہ یا نتیجہ مائنس، بس فرق ہے تو اتنا کے انتخابات پر زیادہ شور ہوتو خطرہ ہوتا ہے کہ کہیں جمہوریت کا مضمون نصاب سے ہی باہر نہ کردیا جائے۔ 1977ء تو یاد ہے نا آپ سب کو 11سال انتظار کرنا پڑا جمہوریت کو دوبارہ نصاب میں شامل کرنےکیلئے۔ اس وقت بھی ہمارے ایک دوست جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم،انٹر کے امتحانات اور8فروری کے انتخابی نتائج، دونوں میں،دھاندلی کے خلاف تحریک چلا رہے ہیں اور نتائج منسوخ کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

بلاگ میں مظہر عباس نے مزید لکھا کہ بہرحال اس ہفتہ امکان اسی بات کا ظاہر کیا جارہا ہے ’’گریس مارکس‘‘ والی جمہوریت کا سفر شروع ہوجائے گا۔ویسے بھی اس ملک میں جمہوریت ہائبرڈ شکل میں ہی واپس آئی ہے، البتہ جو پرچہ سیٹ کیا گیا تھا اس کو پاکستان تحریک انصاف کے ووٹرز نے اپ سیٹ کردیا، جس وجہ سے اور کچھ ہوا ہے یا نہیں مگر عمران خان کے حامیوں نے اپنے لیڈر کے انتخابی عمل سے باہر ہونے کی صورت میں کمال مہارت سے میاں صاحب کو بھی اس ریس سے باہر کردیا مگر مسلم لیگ( ن) کے جاوید لطیف کو اس بات میں دم لگتا ہے کہ کوئی باریک کھیل ہوا ہے، جس پر ایک طرف پی ٹی آئی کا ووٹر بھی خوش ہے کہ اس نے تمام تر مشکل حالات میں بھی اپنی پارٹی کو کامیابی دلائی اور مسلم لیگ (ن) والے شہباز اور مریم کی جیت کا جشن منا رہے ہیں حالانکہ سارا کھیل تو میاں صاحب کو وزیراعظم بنانے کا تھا ورنہ تو انتخابات نومبر میں ہی ہوجاتے، کم از کم یہ تو بھرم رہتا کہ وقت پر اور آئین کے عین مطابق الیکشن ہوئے۔

بلاگ کے آخر میں مظہر عباس نے لکھا کہ اب ایک نئے اور کٹھن سفر کا آغاز ہے۔ آخر8 فروری کو ایسا کیا ہوا کہ مائنس2 ہوگیا۔ سچ پوچھیں تو مجھے اس نتیجے کا9مئی کو ہی اندازہ ہوگیا تھا اور شاید خود عمران کو بھی، مگر کھیل تو اصل میں بڑے میاں صاحب کے ساتھ ہوا ہے، جس پر شاید اب میاں نوازشریف بوجوہ بول بھی نہ سکیں کیونکہ اس سے بھائی اور بیٹی کا سیاسی مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے انہیں آصف زرداری کو بھی قبول کرنا پڑا اور ایم کیو ایم کو بھی۔ 

8فروری کا پرچہ تو سیٹ تھا، نتیجہ بھی بہت سے لوگوں کو بشمول کچھ ٹی وی ا ینکرز کے پتہ تھا، کئی کا خیال تھا کہ تحریک انصاف شاید بائیکاٹ کرجائے۔ انتخابی نشان نہ ملنے پر مگر صبح8سے شام 5بجے تک نتیجہ ووٹرز کا تھا اور بعد میں سلیکٹڈ کوئی اور ہی ہوگیا۔ اب میاں صاحب مری جاکر ٹھنڈے موسم میں غور کریں کہ وہ عمران کو بٹھانے، نااہل کروانے اور سزا دلوانے میں تو کامیاب ہوئے مگر خود ان کے ساتھ کیا ہاتھ ہوگیا ہے۔ ہمارے ملک میں سیاست سے مائنس کرنے کی کہانی نئی نہیں ہے۔ بس فرق ہے تو اتنا جس کو فارغ کیا گیا ہے، اسکی جماعت کے لوگ بہرحال اسمبلیوں تک پہنچ گئے ہیں اور انکے حمایت یافتہ صدر عارف علوی (B) 58-2 کے بغیر بھی جس حد تک اپنی پارٹی کیلئے کرسکتے ہیں کریں گے، کیونکہ بہرحال انہوں نے ایوان صدر کے بعد بنی گالہ اور اڈیالہ کا ہی چکر لگانا ہے۔ ہم ایک ’’بند گلی‘‘ کی جانب بڑھ رہے ہیں۔