’میں یہ تو پہچان سکتی ہوں کہ سامنےو الا بھارتی ہے یا پھر پاکستانی‘ثانیہ مرزا کا ایک اوربیان وائرل ہوگیا

’میں یہ تو پہچان سکتی ہوں کہ سامنےو الا بھارتی ہے یا پھر پاکستانی‘ثانیہ ...
’میں یہ تو پہچان سکتی ہوں کہ سامنےو الا بھارتی ہے یا پھر پاکستانی‘ثانیہ مرزا کا ایک اوربیان وائرل ہوگیا
سورس: Instagram/mirzasaniar

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

نئی دہلی (ویب ڈیسک) بھارتی سابق ٹینس سٹار ثانیہ مرزا کا کہنا ہے کہ انہیں لاہور اور دہلی میں کافی مماثلت لگتی ہے، ان کا کھانا پینا، رہن سہن، بول چال سب ایک جیسا ہی ہے، اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ تمام تر یکسانیت کے باوجود دونوں ممالک کے لوگوں کے لہجے میں باریک سا فرق ہے، جسے کم از کم میں تو پہچان سکتی ہوں کہ سامنے بات کرنے والا پاکستانی ہے یا بھارتی۔

روزنامہ جنگ کے مطابق حال ہی میں مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سابق ٹینس سٹار ثانیہ مرزا کے ماضی میں دیے گیے ایک انٹڑویو کا ویڈیو کلپ بہت وائرل ہورہا ہے۔ غالباً یہ ویڈیو 2022 کا ہے جس میں انہوں نے اپنے کیرئیر کے علاوہ پاکستان اور بھارت میں مماثلت اور فرق کے حوالے سے گفتگو کی۔ دوران انٹرویو ان سے سوال کیا گیا کہ انہیں پاکستان اور بھارت میں کیا مماثلت اور فرق نظر آتا ہے؟ کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ چونکہ شعیب ملک (پاکستانی کرکٹر اور ان کے سابق شوہر) کے والدین اور دیگر اہل خانہ پاکستان میں رہتے ہیں اس لیے ہم خاص طور سے اذہان ان سے ملنے کے لیے ہر سال پاکستان جاتے ہیں یا پھر وہ یہاں (دبئی) آجاتے ہیں مگر سال میں ایک مرتبہ۔

انہوں نے پاک بھارت اختلافات کے باوجود دونوں ممالک کے عوام میں مماثلت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ چونکہ میرا تعلق جنوبی ہندوستان سے اس لیے مجھے دونوں ممالک کے لوگوں اور ثقافتوں میں کافی فرق محسوس ہوتا ہے لیکن اگر میں دہلی سے ہوتی تو مجھے اتنا فرق محسوس نہیں ہوتا کیونکہ دہلی اور لاہور کی ثقافت میں کوئی فرق نہیں ہے۔انہوں نے لاہور اور دہلی کے درمیان یکسانیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ہی پنجابی ہیں اس لیے ان کا رہن سہن، کھانا پینا، بول چال سب ایک جیسا ہی ہے۔

مزید :

کھیل -