سنی اتحاد کونسل کے الیکشن کمیشن کو لکھے گئے خط کو دوران سماعت دیکھ کر وکیل بیرسٹر علی ظفر ہکے بکے رہ گئے، حیران کن انکشاف

سنی اتحاد کونسل کے الیکشن کمیشن کو لکھے گئے خط کو دوران سماعت دیکھ کر وکیل ...
سنی اتحاد کونسل کے الیکشن کمیشن کو لکھے گئے خط کو دوران سماعت دیکھ کر وکیل بیرسٹر علی ظفر ہکے بکے رہ گئے، حیران کن انکشاف

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )چیف الیکشن کمشنر نے مخصوص نشستوں کے معاملے پر جاری سماعت کے دوران جب بیرسٹر علی ظفر کو سنی اتحاد کونسل کی جانب سے الیکشن کمیشن کو لکھا گیا خط دکھا یا تو وہ حیران رہ گئے اور اس پر لاعلمی کا اظہار کر دیا ۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے خط میں الیکشن نہ لڑنے اور مخصوص نشستیں نہ لینے کا کہاہے ۔

الیکشن کمیشن میں سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دینے سے متعلق معاملے کی سماعت ہوئی جس دوران چیف الیکشن کمشنر نے دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ سربراہ سنی اتحاد کونسل نے 26 فروری کو الیکشن کمیشن کو خط لکھا ، جس میں کہا گیا کہ جنرل الیکشن نہیں لڑ رہے اور نہ ہی مخصوص نشستیں چاہئیں ،چیف الیکشن کمشنر نے سنی اتحاد کونسل کا خط بیرسٹر علی ظفر کے حوالے کیا اور ریمارکس دیئے کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہیں چاہئیں تو آپ کیوں مجبور کر رہے ہیں ؟بیرسٹر علی ظفر نے سنی اتحاد کونسل کے خط سے لاعلمی کا اظہار کر کیا اور کہا کہ تحریک انصاف کو ایسے کسی خط کا نہیں بتایا گیا۔

سنی اتحاد کونسل کے وکیل علی ظفر نے مخصوص نشستوں کے معاملے پر الیکشن کمیشن میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ، سپریم کورٹ میں کہا تھا نشان نہیں دیں گے تو مخصوص نشست کا مسئلہ ہو گا، سپریم کورٹ میں کہا تھا کہ الیکشن کمیشن مخصوص نشست لے لے گا، سپریم کورٹ کو ای سی پی کے وکیل نے کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہو گا۔

الیکشن کمیشن میں سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دینے کے معاملے پر سماعت جاری ہے جس دوران ایس آئی سی کے وکیل علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے ذہن میں کوئی سوال تھا اس لیے آپ نے سماعت کیلئے مقرر کیا، ورنہ آپ مختص سیٹ کا اعلان کر سکتے تھے ، حقیقت یہ ہے کہ آپی ٹی آئی کا نشان لیا گیا، سپریم کورٹ میں کہا تھا نشان نہیں دیں گے تو مخصوص نشست کا مسئلہ ہو گا، سپریم کورٹ میں کہا تھا کہ الیکشن کمیشن مخصوص نشست لے لے گا، سپریم کورٹ کو ای سی پی کے وکیل نے کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہو گا۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ کیا سپریم کورٹ کے حکم میں یہ لکھا گیاہے ، وکیل سنی اتحاد کونسل نے جواب دیا کہ جو میں نے پیشن گوئی کی تھی وہ ہوا ، ممبر کمیشن نےکہا کہ ہمیں تو معلوم نہیں تھا کہ آپ کس جماعت میں جا رہے ہیں، علی ظفر نے کہا کہ تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار مختلف نشانات پر الیکشن لڑے ، اسمبلی میں آزاد  امیدوار سیاسی جماعتوں سے زیادہ ہیں، دو اسمبلیوں میں ہم اکثریت اور ایک اسمبلی میں تقریبا اکثریت میں ہیں۔

 علی ظفر کا کہناتھا کہ سنی اتحاد کونسل پر اعتراض کیا گیا کہ وہ پارلیمنٹ میں نہیں ہے ، کہا جاتا ہے ایس آئی سی میں شامل امیدواروں کو مخصوص نشست نہیں ملنی چاہیے ، پی ٹی آئی امیدواروں نے تین دن میں ایس آئی سی میں شمولیت اختیار نہیں کی ، اعتراض ہے آپ آزاد امیدوار ہیں، اس کا بھی جواب دینا ہے ، اعتراض ہے ایس آئی سی نے فہرست نہیں دی تھی، اس لیے نشست نہیں مل سکتی ، مجھے ان تین اعترضات کا جواب دینا ہے ، سیاسی جماعت وہ ہے جو الیکشن کمیشن رجسٹر کرے گا ، سیاسی جماعت رجسٹرڈ ہے تو وہ ہر مقصد کیلئے رجسٹرڈ ہے ، سیاسی جماعت وہ تنظیم ہے جو الیکشن میں حصہ لے سکتی ہے ۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -