ترکی پر ایک تحقیقی اور تاریخی سفر نامہ "زبان یارِ من ترکی" کی تقریب رونمائی و پذیرائی ، مہمانوں میں شیلڈز پیش کی گئیں

  ترکی پر ایک تحقیقی اور تاریخی سفر نامہ "زبان یارِ من ترکی" کی تقریب رونمائی ...
  ترکی پر ایک تحقیقی اور تاریخی سفر نامہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

فیصل آباد ( سٹی رپورٹر ) مایہ ناز طبی ماہر ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ کی کتاب "زبان یار من ترکی" کی تقریب رونمائی کی تقریب فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی کے آڈٹیوریم میں منعقد ہوئی، یہ ترکی پر ایک تحقیقی اور تاریخی سفرنامہ ہے جو تین سال میں مکمل ہوا، کتاب میں عثمانی ترکوں کے دور حکومت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا. 

اس کتاب کی اشاعت کا اہتمام ایشیا پیسفیک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے بانی ڈاکٹر حسن خلیل نے کیا. تقریب میں شرکاء کو کتاب کی اہمیت سے آگاہ کیا اور آسٹریلیا میں بسنےوالے پاکستانیوں کے بارے میں آگاہ کیا. انہوں نے بتایا کہ سمندر پار پاکستانی، پاکستان کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں. 

اس تقریب کی صدارت وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفر علی چوہدری نے کی جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے بہت سے معززین نے شرکت کی۔وائس چانسلر نے ترکی اور پاکستان کے دیرینہ سماجی، سیاسی ثقافتی تعلقات پر روشنی ڈالی. انہوں نے ڈاکٹر حسن خلیل اور ایشیا پیسفیک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تعاون کو سراہا جنہوں نے اس تاریخی کتاب کی اشاعت کو ممکن بنایا. 

دیگر مہمان گرامی نے کتاب کے حوالے سے اپنے خصوصی خطاب میں کہا  "زبانِ یارِ من ترکی "، ترکی کے حیرت انگیز سفر پر مبنی یہ کتاب پاکستان اور ترکی کے درمیان عمیق تعلقات کی عکاسی کرتی ہے اور ڈاکٹر تصور بھٹہ کا قلم تاریخ، ثقافت اور دونوں ممالک کے مابین گہرے جذباتی بندھن کو نمایاں کرتا ہے۔

"زبانِ یارِ من" محض ایک کتاب نہیں بلکہ دو قوموں کے درمیان موجود بے پناہ محبت، احترام اور باہمی اشتراک کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس سفرنامے کے ذریعے، مصنف نے ترکی کی زمینوں پر اپنے قدم رکھنے کے لمحات کو بیان کیا ہے، جہاں ہر گوشہ، ہر بستی اور ہر شہر پاکستان اور ترکی کے مابین دیرینہ دوستی کی کہانیاں سناتا ہے۔

اس کتاب کا اجراء پاکستان اور ترکی کے تعلقات میں ایک نیا باب رقم کرنے کا سبب بنے گا، جو کہ ایک دوسرے کی ثقافت، تاریخ اور عوام کے مابین محبت اور احترام کو مزید مضبوط بنائے گا۔ "زبانِ یارِ من" کے ذریعے، قارئین کو نہ صرف ترکی کی خوبصورتی اور اس کی غنی ثقافت کا تجربہ ہوگا بلکہ انہیں یہ بھی معلوم ہوگا کہ کس طرح دونوں ممالک اپنی مشترکہ تاریخ اور مقاصد کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔"

مقررین میں پروفیسر ڈاکٹر طاہرہ اقبال،ڈاکٹر محسن مگھیانہ، پروفیسر مریم صدیق، ڈاکٹر محبوب کشمیری جبکہ اصغر ندیم سید بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے. تمام شرکاء نے اظہار خیال کرتے ہوئے کتاب کی تحقیق، اشاعت اور لب لباب کو بہت سراہا۔تقریب کے آخر میں ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ نے تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا۔ تقریب کے آخر میں تمام مہمان گرامی میں شیلڈ تقسیم کی گئیں.

مزید :

ادب وثقافت -