عدالتی روئیے پر احتجاج، نیب کے چیئرمین مستعفی

عدالتی روئیے پر احتجاج، نیب کے چیئرمین مستعفی
عدالتی روئیے پر احتجاج، نیب کے چیئرمین مستعفی

  


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) نیب کے چیئرمین فصیح بخاری سپریم کورٹ کے کردار پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مستعفی ہو گئے ہیں اور اپنا استعفیٰ صدر مملکت کو بھیج دیا ہے جبکہ ایوان صدر کے ذرائع نے یہ استعفیٰ موصول ہونے کی تصدیق بھی کر دی ہے۔ دنیا نیوز کے مطابق چیئرمین نیب ایڈمرل ریٹائرڈ فصیح بخاری نے صدر مملکت کو بھیجے گئے خط میں لکھا ہے کہ سپریم کورٹ ، نیب کے معاملات میں مداخلت کر رہی ہے۔ نیب کو سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل کے لئے خاطر خواہ وقت بھی نہیں دیا جاتا۔ عدالت کے زبانی اور تحریری احکامات میں فرق ہوتا ہے۔ عدالتی دباو¿ کے باعث نیب افسر غیر جانبداری سے کام نہیں کر سکتے۔ عدالتی طرز عمل کیسز کی شفاف تحقیقات کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ علاقائی تفتیش کاروں کی رپورٹ پر سینئر سیاستدانوں کی گرفتاری کا حکم دے دیا جاتا ہے۔ سیاستدانوں کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے احکامات پری پول ریگنگ ہیں۔ چیئرمین نیب نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ توہین عدالت قانون کے استعمال اور سپریم کورٹ کے ججز کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی سے لوگوں کا عدلیہ سے اعتماد اٹھ رہا ہے۔ وقت پر انصاف نہ ملنے سے لوگ قانون ہاتھ میں لینے پر مجبور ہیں اور اسی وجہ سے حکومتیں عوام کے غصے کا نشانہ ہیں۔ چیئرمین نیب نے خط میں یہ بھی لکھا ہے کہ احتساب آرڈیننس پارلیمنٹ نے پاس کیا جس پر وہ عملدرآمد کے پابند ہیں۔ ان کی اجازت کے بغیر کوئی ریفرنس دائر نہیں کیا جا سکتا۔ کامران فیصل کیس کے حوالے سے چیئرمین نیب نے موقف اختیار کیا کہ اس معاملے پر میڈیا ، خفیہ ایجنسیوں کا کردار ادا کر رہا ہے۔ میڈیا کے بعض عناصر جج صاحبان پر دباو¿ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں اور نیب میں بغاوت کی فضاءپیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نیب مخالف مہم میں ایک میڈیا گروپ کے ٹیکس چوری کیس کا بھی کردار ہے۔ فصیح بخاری نے خط میں کہا کہ سپریم کورٹ کا حالیہ رویہ فرائض کی غیرجانبدارانہ ادائیگی میں رکاوٹ ہے لہٰذا اس صورتحال کا عوامی خواہشات اور آئین کے مطابق حل نکالا جائے۔

مزید : اسلام آباد /اہم خبریں