اردو بلاگرز سوشل میڈیا کو روایتی میڈیا کا متبال بنا سکتے ہیں: پہلی اردو بلاگرز کانفرنس میں مقررین کا اظہارِ خیال

اردو بلاگرز سوشل میڈیا کو روایتی میڈیا کا متبال بنا سکتے ہیں: پہلی اردو ...
اردو بلاگرز سوشل میڈیا کو روایتی میڈیا کا متبال بنا سکتے ہیں: پہلی اردو بلاگرز کانفرنس میں مقررین کا اظہارِ خیال

  


لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پہلی دوروزہ اردو بلاگرز کانفرنس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ ذمہ داری کے ساتھ سچ لکھنے، اردو کی ترویج و ترقی کیلئے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور اسی سچ کی بدولت سوشل میڈیا کو مزید فعال اور قابل ِ اعتماد بنانے کی کوشش جاری رہے گی ۔ ایشین کینڈین جرنلسٹس ایسوسی یشن اور اردو بلاگ فورم کے زیراہتمام محسن عباس کی صدارت میں اس کانفرنس میں ملک کے کونے کونے سے اردو بلاگرزنے شرکت کی جبکہ کینیڈا سے کیٹی مرسر اور ناہید مصطفی نے مواصلاتی رابطے پر اظہارِ خیال کیا۔ کانفرنس میں بلاگرز کو درپیش مسائل درپیش مسائل اور مصنفین کے حقوق پر تفصیلی تبادلہ خیالات کیا گیا ۔ کانفرنس نے کمپیوٹر پروگرامنگ اور اردو آسان انداز سے ٹائپ کرنے و الوں کی کوش کو سراہا گیا۔کانفرنس کے منتظم اور ایشین کینڈین جرنلسٹس ایسو سی ایشن کے صدر محسن عباس نے اردو بلاگرز کیلئے تربیتی سہولیات فراہم کرنے اور بہترین بلاگرز کیلئے انعامات کا سلسلہ شروع کرنے کا بھی اعلان کیا ۔افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے لاہور ایوان صنعت و تجارت کے نائب صدر میاں ابوزر شاد نے کہا کہ ملک کو سماجی اور اقصادی بحرانوں سے نکالنے کے لئے بلاگ پر انحصار کو بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انٹرنیٹ پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے والے یہ نوجوان بلاگرز اس جدید دور کے نئے تھنک ٹنک ہیں جو ملک کے مسائل کے حل کے لئے اچھوتے خیالات رکھتے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے سرمایہ دار، معیشت دان اور سیاست دان انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر پیش کیے جانے والے خیالات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں لیکن ابھی اس جدید ٹیکنالوجی سے مزید فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو بلاگ کو بھی فروغ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ دنیا میں جن قوموں نے ترقی کی انہوں نے اپنی زبان سے رشتہ استوار رکھا ہے۔ کانفرنس کے دوران شرکائے کانفرنس نے ایک قرارداد کے ذریعے ارباب اختیارسے مطالبہ کیا کہ گریجویشن تک اردو تک تعلیم لازمی کی جائے۔کینیڈا سے شریک سوشل میڈیا کے ماہر و صحافی کیٹی مرسر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اردو بلاگرز کی پہنچ پاکستان کی اکثریت تک ہے لہٰذا انگریزی بلاگرز کا نکتہ نظر ایک بڑے چھوٹے طبقے کا نکتہ نظر ہے۔ ان حالات میں اردو بلاگرز کواپنی آواز دنیا بھر میں پہنچانے کے مواقع ہاتھ سے نہیں گنوانے چاہئیں۔ اس کے علاوہ اردو بلاگرز کو انگریزی میڈیا سے رابطے بڑھانے چاہئیں تاکہ اردو بلاگرز کی تحریریں، تصاویر اور ویڈیوز کو بڑے پیمانے پر قارئین تک پہنچایا جا سکے۔انہوں نے واضح کیا کہ اس طرح اردو بلاگرز کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ پاکستانی نژاد برطانوی اور مانچسٹر یونیورسٹی میں اردو کے پروفیسر شیراز علی نے ایک انتہائی اہم نکتہ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ نئی نسل کے مسائل پر بہت کم لکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منشیات، شدت پسندی، دہشت گردی اور بد امنی جیسے مسائل پر قابو پانے کے لیے علاقائی سطح پر بلاگرز اپنی تحریروں سے پاکستانی معاشرے کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔پی ایف یو جے کے سابق سینئر نائب صدر نواز طاہر کا کہنا تھا کہ نوجوان بلاگرز کیلئے پیشہ وارانہ تربیت ناگزیر ہے جس میں انہیں انفارمیشن کی صداقت اور تحریر میں ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا ہوگا ۔ ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پاکستان میں بھی پنپ رہا ہے جس کے کریڈٹ پر کئی ایک اہم سماجی امور کی نشاندہی شمل ہے ، اس طرح سوشل میڈیا روایتی میڈیا کا متبادل بن سکتا لیکن بسا اوقات سوشل میڈیا پر بلا تحقیق ایسا مواد بھی شائع کیا جاتا ہے جو ملک و قوم کے مفاد کے منافی اور حقائق کے برعکس ہوتا ہے ۔نوجوان صحافی اور بلاگر مسرت اللہ جان کا کہنا تھا کہ بطور رپورٹر ان کے پاس ایسی بہت سی معلومات ہوتی ہیں جو پاکستان میں میڈیا نشر نہیں کر سکتا اور وہ اپنے خیالات اور تصویر کا اصل رخ دکھانے کے لیے بلاگ کا سہارا ہی لیتے ہیں ۔

مزید : ادب وثقافت