منور و معطر محمد ﷺ

منور و معطر محمد ﷺ

  



وہ سیرت یا نمونہ ¿ حیات جو انسانوں کے لئے آئیڈیل سیرت کا کام دے اس کے لئے متعدد شرائط کی ضرورت ہے، جن میں سب سے پہلی اور اہم شرط ”تاریخیت“ ہے۔ تاریخیت سے مقصود یہ ہے کہ ایک کامل انسان کے جو سوانح اور حا لات پیش کئے جائیں، وہ تاریخ اور روایت کے لحاظ سے مستند ہوں، ان کی حیثیت قصوں اور کہانیوں کی نہ ہو۔ غور کرو کہ ہر ملک میں،ہر قوم میں،ہر زمانہ میں،ہر زبان میں کتنے لاکھ انسان اللہ کا پیغام لے کر آئے ہوں گے، مگرآج ان میں سے کتنوں کے نام ہم جانتے ہیں،اورجتنوں کے نام جانتے ہیں، ان کا حال کیا جانتے ہیں؟ ہندو مذہب میں سینکڑوں کریکٹروں کے نام ہیں، مگر ان میں سے بیشتر کے تو نام کے سوا کسی اور چیز کا ذکر تک نہیں اور میتھالوجی سے آ گے بڑھ کر تاریخ کے میدانوں میں ان کا گزربھی نہیں۔ مجوسی مذہب کے زرتشت کی شخصیت قدامت کے پردے میں گم ہے۔ بودھ کی زندگی تاریخ کی روشنی میں غیرواضح نظر آتی ہے۔ کنفیوشس کے حا لات سے متعلق بودھ سے بھی کم معلومات ملتی ہیں۔ سامی قوم میں سینکڑوں پیغمبر آئے، لیکن نام کے سوا تاریخ نے ان کا اور کچھ حال نہ جا نا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا حال ہم کو تورات سے معلوم ہوتا ہے، مگر وہ تورات، جو آج موجود ہے، ان کے صدہا سال کے بعد عالم وجود میں آئی۔ عیسیٰ علیہ السلام کے حالات انجیلوں میں درج ہیں،لیکن واضح طور پر ثابت نہیں کہ وہ کن زبانوں میں اور کن زمانوں میں لکھی گئیں؟ اس کے برعکس سیرت محمد تاریخی اعتبار سے روشن ترین ہے، آپ کی سیرت کی حفاظت میں بلا مبالغہ ہزاروں راویوں نے حصہ ڈالا اور اسے قابل اعتماد بنا دیا۔

کسی انسانی سیرت کے دائمی نمونہ عمل بننے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ اس کے صحیفہ حیات کے تمام حصے ہماری نگاہوں کے سامنے ہوں، کوئی واقعہ نا واقفیت کی تاریکی میں گم نہ ہو۔ گویا وہ ”کاملیت“کے معیار پر بھی پورا اترتی ہو۔ پیغمبر اسلام کی زندگی کا ہر لمحہ پیدائش سے لے کر وفات تک ان کے زمانہ کے لوگوں کے سامنے اور ان کی وفات کے بعد تاریخ عالم کے سامنے ہے۔ پیدائش، شیر خوارگی، بچپن، جوانی، تجارت، شادی، احباب، قبل نبوت، رفتہ رفتہ تنہائی پسندی، غار حرا کی گوشہ نشینی، اسلام کا ظہور، دعوت، مخالفت، سفرطائف ، ہجرت، غزوات، حدیبیہ کی صلح، اسلام کی اشاعت، تکمیل دین،حجتہ الوداع اور وفات۔ کون سا زمانہ ہے، جو دنیا کی نگاہوں کے سامنے نہیں اورکون سی حالت ہے، جس سے اہل تاریخ نا واقف ہیں؟ یہی ایک ذریعہ کسی زندگی کو کامل، معصوم اور بے گناہ یقین کرنے کا ہے۔

کسی سیرت کے عملی نمونہ بننے کے لئے تیسری ضروری شرط ”جامعیت“ ہے۔ جامعیت سے مقصود یہ ہے کہ مختلف طبقات انسانی کو ہدایت اور روشنی کے لئے، جن نمونوں کی ضرورت ہوتی ہے وہ سب اِسی ” آئیڈیل زندگی “ کے آئینہ میں موجود ہوں۔ مثال کے طور پر اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سیرت میں اللہ اور بندہ کے تعلقات واضح ہوتے تو ساڑھے تین سو سال کے بعد پہلے عیسائی بادشاہ کونیس میں 300 عیسائی علماءکی مجلس اس کے فیصلہ کے لئے فراہم نہ کرنی پڑتی اور وہ اب تک ایک نا قابل فہم راز نہ بنے رہتے۔ دوسری طرف سیرت محمد پر نظر ڈالئے توہر پہلو واضح اور روشن؛ اگر دولت مند ہو تو مکہ کے تاجر کی پیروی کرو، اگرغریب ہو تو شعب ابی طالب کے قیدی اور مدینہ کے مہمان کی کیفیت سنو، بادشاہ ہو تو سلطان عرب کا حال پڑھو، رعایا ہو تو قریش کے محکوم کو ایک نظر دیکھو، فاتح ہو تو بدرو حنین کے سپہ سا لار پر نگاہ دوڑاﺅ، اگر تم نے زک اٹھائی ہے تو معرکہ احد سے عبرت حاصل کرو، اگر تم استادہو توصفہ کی درس گاہ کے معلم قدس کو دیکھو، اگر شاگرد ہو تو روح الامین کے سامنے بیٹھنے والے پر نظر جماو¿، اگر عدالت کے قاضی ہو تو مدینہ کی کچی مسجد کے صحن میں بیٹھنے والے منصف کو دیکھو۔

”آئیڈیل لائف“ کا سب سے آخری معیار ”عملیت“ہے۔ عملیت سے مراد یہ ہے کہ شارعِ دین اور بانی مذہب جس تعلیم کو پیش کر رہا ہو اس کا ذاتی عمل اس کی مثال اور نمونہ ہو، جس سیرت کا عملی حصہ سامنے نہ ہو اس کو ”آئیڈیل لائف“ اور قابل تقلید زندگی کا خطاب نہیں دیا جاسکتا کہ انسان کس چیز کی نقل کرے گا؟ اور کس سے سبق حاصل کرے گا؟ ہم کو تو صلح و جنگ، فقرو دولت، ازدواج وتجرد، تعلقات رب اور تعلقات عباد، حاکمیت و محکومیت، سکون و غضب، جلوت و خلوت،غرض زندگی کے ہر پہلو سے متعلق عملی مثال چاہئے؟

” آئیڈیل لائف “ بننے کے لئے جو حیات انسانی منتخب کی جائے ضروری ہے کہ اس کی اپنی سیرت میں یہ چار باتیں پائی جا ئیں،یعنی تاریخیت، جامعیت، کاملیت اور عملیت۔ دیگر انبیائے علیھم السلام کی زندگیاں ان کے عہد اور زمانہ میں ان خصوصیات سے خالی نہ تھیں، لیکن ان کی سیرتیں جو ان کے بعد عام انسانوں تک پہنچیں، یا آج موجود ہیں وہ ان خصوصیات سے خالی ہیں، کیونکہ وہ محدود زمانہ اور متعین قومو ں کے لئے تھے، جبکہ سیرت محمد دنیا کی تمام قوموں کے لئے اور قیامت تک کے لئے نمونہ عمل ہے، یہی ختم نبوت کی عملی دلیل بھی ہے۔ (مندرجہ بالا تحریر سیدسلیمان ندوی کے مدراس، متحدہ ہندوستان میں دیئے گئے خطبات سیرت سے ماخوذ ہے۔)

الفونسے لامارٹن سے درج ذیل قول منسوب ہے: ”اگرمقصد کی عظمت، وسائل کی قلت اور نتائج کی حشمت کسی جینئس کے لئے تین پیمانے ہیں، تو تاریخ کی کسی عظیم ہستی کا محمد کے ساتھ موازنہ کرنے کی جرا¿ ت کون کر سکتا ہے “؟....کائنات کی عظیم ترین شخصیت کی بائیوگرافی کے مطالعہ سے محروم رہنا، بڑی محرومی ہے، اوراس کی سیرت کی اتباع سے محروم رہنا ،محرومی کی انتہا ہے۔ اے رب محمد! ہمارے لئے گفتارمحمد ، افکار محمد اورکردار محمد تک پہنچنے کا سفر آسان کر دے۔

مزید :

کالم -