بھکاری کون؟

بھکاری کون؟
بھکاری کون؟

وزیر پٹرولیم جناب شاہد خاقان عباسی نے ارشاد فرمایا ہے کہ ’’پٹرول بحران کے ذمہ دار عوام، میڈیا اور قطاروں میں کھڑے بھکاری تھے‘‘اس بیان کی تشریح اس طرح کی گئی ہے کہ عوام اس لئے ذمہ دار ہیں کہ انہوں نے زیادہ پٹرول استعمال کیا۔ میڈیا اس لئے کہ اس نے بڑھا چڑھا کر اس بحران کو نمایاں کیا اور تیسرے وہ بھکاری تھے جو بوتلیں لے کرپٹرول لینے کے لئے قطاروں میں کھڑے تھے۔ محترم وزیر نے یہ بیان اپنے دوستوں کی منڈلی میں بیٹھ کر نہیں دیا کہ اسے ’’گپ شپ‘‘ کے زمرے میں ڈال دیا جائے بلکہ یہ سنجیدہ بیان سینٹ کمیٹی کودیا گیا ہے ۔ سنیٹ کمیٹی کے ردعمل کا علم نہیں ہوسکا کہ ابھی ابھی ٹی وی چینل پر موصوف کا بیان دیکھ کر اس کالم کو لکھنا شروع کر دیا ہے ۔محترم وزیر نے اس بیان سے اپنے اور حکومت کے باقی سب کرتا دھرتاؤں کے لئے ازخود ہی ’معصومیت‘‘ کا سرٹیفکیٹ جاری کرکے سارا ملبہ عوام اور میڈیا پر ڈال دیا ہے ۔ چونکہ اس بیان میں ہمارا دو دفعہ ذکر کیا گیا ہے یعنی عوام کہہ کر اور بھکاری کہہ کر بھی ۔سو ہمارا بھی حق ہے کہ ہم بھی اپنے دفاع میں کچھ کہیں ۔پہلا الزام جو بحثیت ’’عوام‘‘ ہم پر لگایا گیا ہے کہ ہم نے پٹرول زیادہ استعمال کیا۔ اس سلسلے میں عرض ہے کہ اول تو پٹرول مفت نہیں ملتا جو دینے والا اعتراض کرے ۔ دوسرا یہ کوئی آملیٹ یا چاکلیٹ تو ہے نہیں کہ کہا جائے کہ تم نے ضرورت سے زیادہ کیوں کھایا۔ پٹرول ضرورت کی چیز ہے اور اپنے پیسوں سے خریدی جاتی ہے جس میں حکومت ٹیکس کے نا م سے ایک بڑا حصہ وصول کرتی ہے ۔ پٹرول اگر زیادہ استعمال ہورہا ہے تو اسکی بڑی ذمہ دار خود آپ کی حکومت ہے جس نے غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ شروع کر رکھی ہے ۔ کون دکان دار، صنعت کار یا فیکٹری مالک ایسا پاگل ہوگا جو پٹرول استعمال کرکے اپنے پیداواری اخراجات بڑھائے گا مگر کیا کرے گا اگر بجلی یا گیس نہیں ملے گی، کاروبار کا پہیہ تو کسی طور چلانا ہی پڑتا ہے۔ ’’میڈیا‘‘ کو بھی بڑھا چڑھا کر بحران کو نمایاں کرنے کا ذمہ دار گردانا گیا ہے۔ میڈیا تو تب مجرم ہو جب اس نے حقیقت کی بجائے کوئی فرضی اور نقلی کوریج پیش کی ہو۔ اس کا جو فرض تھا اس نے پورا کیااور حقیقی صورت حال دنیا کے سامنے پیش کردی۔ میڈیا کے بعد ملزم نمبر تین ایک بار پھر ہم عوام لیکن ’’بھکاری‘‘ کے روپ میں۔ ’’بھکاری‘‘ وہ ہوتا ہے جو بھیک میں، مفت میں ضرورت کا طلب گار ہوتا ہے ۔ اب محترم وزیر نے جن لوگوں کو بھکاری کہا ہے ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں جس کو وزیر صاحب یا حکومت نے پٹرول مفت دینے کا جھانسا دیا ہو۔ سبھی ’’بھکاریوں ‘‘ نے پٹرول پیسے دے کر خریدنا ہے اور لائن اس لئے ہے کہ طلب گار ہزاروں ہیں اور ایک پٹرول پمپ پر ہزاروں گاڑیاں یا موٹر سائیکلیں پارک نہیں ہوسکتیں ۔ یہ مجبوری دو طرفہ تھی ،پٹرول پمپ مالکان کی بھی اور ’’بھکاری ‘‘عوام کی بھی۔ ان ’’بھکاریوں‘‘ میں وہ مجبور باپ بھی کھڑا ہے جس کی بیٹی کا امتحان ہے لیکن موٹر سائیکل میں پٹرول نہیں ہے۔ ایک نے اپنی ماں کو ڈاکٹر کے پاس لے کے جانا ہے ، ایک نے بیس میل دور اپنی نوکری پر جانا ہے ، کوئی بھی شوق سے لائن میں گھنٹوں سے نہیں کھڑا ۔

اخبارات میں آیا ہے کہ 27جنوری کو آئی ایم ایف نے پاکستان کی چھٹی اقتصادی رپورٹ کا جائزہ لینا تھا۔ آئی ایم ایف کو زرمبادلہ کے مطلوبہ ذخائر دکھانے کے لئے وزارت خزانہ نے PSOکو دسمبر کے مہینے میں رقم کی ادائیگی نہ کی جس کی وجہ سے PSOمالی بحران کا شکار ہوگیا۔جنوری کی پٹرول ضروریات پوری کرنے کے لئے ایل سی نہ کھل سکی،پٹرول درآمد نہ ہوا تو جو چند ہفتے کے ذخائر تھے وہ ختم ہوگئے تو بحران پیدا ہوگیا۔ یہ تھی اصل حقیقت ، قصور اپنا لیکن بجائے اپنی غلطی ماننے کے الزام میڈیا اور عوام پر، وہ بھی تضحیک کے انداز میں ’’بھکاری‘‘ کہہ کر۔

پاکستانی عوام کی انتہائی بدقسمتی ہے کہ ’’اصل حکمران‘‘ کے طور پراس کے سر پرانتہائی ظالم اور منحوس سود خور ادارہ’’آئی ایم ایف‘‘ مسلط ہے ۔ پرویز مشرف میں ہزار خرابیاں تھیں لیکن اس دور میں یہ نیک کام ہوا کہ اس ’’عفریت‘‘ سے جان چھڑا لی گئی لیکن پھر بدقسمتی کہ پیپلز پارٹی نے اپنے اللے تللے کرنے کے لئے پھر اس سے دوستی گانٹھ لی۔ یہ ایسا عوام دشمن ادارہ ہے کہ حکومت اگر عوام کی بھلائی کرنے کے لئے کوئی اقدامات کرتی ہے تو یہ قسط روک لے گا۔ قسط میں حکومت کی جان ہوتی ہے ۔ پچھلے دنوں وزیر اعظم نے بجلی کی قیمت میں کمی کا اعلان کیا تو اس نے دہائی دینا شروع کردی کہ کیوں کمی کی گئی ہے حالانکہ ان یہودی سود خوروں کو اپنے سود سے مطلب ہونا چاہئے لیکن حکومت نے قسط حاصل کرنے کے لئے بجلی پر سرچارج عائد کرکے ناک کو دوسرے رخ سے پکڑ لیا۔ آئی ایم ایف اس پر کڑی نظر رکھتا ہے کہ حکومت عوام کے بھلے کا کوئی کام نہ کرسکے ۔ وہ ہدایات جاری کرتا ہے کہ اب گیس کی قیمت بڑھاؤ ، اب یہ کرو، اب وہ کرو لیکن اس نے اس امر سے آنکھ بند کر رکھی ہوتی ہے کہ اس سے حکومت جو رقم لے رہی ہے وہ کہاں خرچ ہو رہی ہے ۔ درست خرچ ہورہی ہے یا میلوں ٹھیلوں یا نام نہاد عوامی اسکیموں پر، اسے اس سے کوئی غرض نہیں ۔اگر یہ ادارہ اسی طرح عوام پر مسلط رہا تو وہ دن دور نہیں جب عوام حقیقی معانی میں ’’بھکاری‘‘ بن جائیں گے کیونکہ اب بھی عوام کی بڑی تعداد دہائی دے رہی ہے کہ بجلی اور گیس کے بل ادا کرنے کے بعد ان کے پاس کچھ نہیں بچتا۔ آخر میں ایک سوال اور بھی ہے کہ اصل بھکاری کون ہے ؟ عوام یا عوامی حکمران جو پہلے ووٹ لینے کے لئے عوام کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں اور اقتدار میں آنے کے بعدکشکول لے کر آئی ایم ایف کی دہلیز پر سجدہ ریز ہوجاتے ہیں۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...