شاہ عبداللہ کی وفات‘ مسلم امہ عظیم لیڈر سے محروم ہو گئی

شاہ عبداللہ کی وفات‘ مسلم امہ عظیم لیڈر سے محروم ہو گئی

سعودی عرب کے فرمانروا اور خادم الحرمین الشریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیزرضائے الہٰی سے اپنے خالق حقیقی سے جاملے ہیں(انا للہ وانا الیہ راجعون)۔ان کی وفات سے صرف پاکستان ہی ایک بہترین و مخلص دوست سے نہیں، بلکہ پوری امت مسلمہ ایک عظیم خیرخواہ لیڈر سے محروم ہو گئی ہے۔ 2005ء میں مملکت سعودی عرب کے چھٹے بادشاہ کے طور پر تخت نشین ہونے والے شاہ عبداللہ پچھلے کچھ عرصہ سے سخت علیل تھے مگر خرابی صحت کے باوجود امور حکومت چلانے میں وہ انتہائی تندہی سے کام لیتے رہے۔ ان کا شمار سعودی عرب کے ان حکمرانوں میں ہوتا ہے جن کے دور حکومت میں مملکت سعودی عرب نے تمام شعبہ ہائے زندگی میں غیر معمولی ترقی اور خوش حالی کے نئے باب رقم کئے ہیں۔ ان کی کامیابیوں کا سلسلہ کسی ایک شعبے تک محدود نہیں ہے۔ معیشت، تعلیم، صحت، سوشل ویلفیئر، نقل وحمل، مواصلات، صنعت، بجلی، پانی، زراعت، تعمیرات غرض ہر شعبہ ہائے زندگی میں انہوں نے ماضی کی نسبت سعودی عرب کو زیادہ ترقی یافتہ بنا دیا ہے۔ وہ نہ صرف اپنے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں مشہور تھے بلکہ اس باب میں ان کی شہرت منصوبوں کو ان کے وقت مقررہ سے بھی قبل مکمل کرنے کے حوالے سے رہی ہے۔

2005ء میں اقتدار سبھالنے کے بعد شاہ عبداللہ بن عبدالعزیزرحمۃ اللہ علیہ نے ترقی کو اپنے عہد کا نصب العین قرار دے دیا اور بہت سے ایسے اقتصادی، معاشرتی ، تعلیمی، صحت اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبے شروع کئے جن سے پوری مملکت سعودی عرب میں ایک تبدیلی آئی۔ انہوں نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں حرمین شریفین کی توسیع کے منصوبے شروع کئے۔

19اگست 2011ء جمعہ کو مسجد الحرام کے ایک عظیم الشان تاریخی توسیعی پروجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھا جس کی تعمیر کے بعد ا س نوتعمیر شدہ عمارت میں 25لاکھ مزید نمازیوں کی گنجائش پیدا ہوجائے گی۔ اس منصوبہ پر 80بلین سعودی ریال خرچ ہوں گے۔ اس توسیع کے مرکزی دروازے کا نام باب شاہ عبداللہ ہوگا جس پر دو بڑے مینار بنائے جائیں گے یوں حرم شریف کے کل میناروں کی تعداد گیارہ ہو جائے گی۔ یہ توسیعی منصوبہ مسجد الحرام کے شمال اور شمال مغرب میں واقع چار لاکھ مربع میٹر اراضی پر محیط ہو گا۔ اس میں مطاف کی توسیع بھی شامل ہے جبکہ تمام نئی عمارتیں ایئر کنڈیشنڈ ہوں گی۔

یہ عظیم تر توسیعی منصوبہ بنیادی ضروریات کی تمام تر خدمات اور سازو سامان بالخصوص صفائی ، امن و امان کے جدید نظام اور پینے کے پانی کے فواروں جیسی سہولیات سے مزین ہو گا۔ یہ منصوبہ تقریبا تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ شاہ عبداللہ نے مسجد نبویﷺ کی توسیع کے احکامات بھی صادر فرمائے جس سے مسجد نبوی میں مزید 16لاکھ نمازیوں کی گنجائش پیدا ہو سکے گی۔ مسجد نبوی کی یہ توسیع حجاج کرام اور زائرین کو مزید سہولتیں فراہم کرنے کی غرض سے کی جارہی ہے تاکہ وہ مزید آرام اور سہولت کے ساتھ مسجد اور اس کے گردونواح میں اپنی عبادات سرانجام دے سکیں۔ مسجد نبوی کی یہ بے مثال توسیع خادم الحرمین الشریفین شاہ عبداللہ کی ان کاوشوں کا تسلسل ہے جو وہ اسلام و مسلمانوں کی خدمت کیلئے سرانجام دیتے رہتے ہیں۔ توسیع کا یہ منصوبہ تین مراحل میں انجام پذیر ہو گا۔

شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے ترقی پذیر ممالک کی امداد کے لئے سعودی ترقیاتی فنڈ کے عمل کو بھی مزید مضبوط کیا اور ان کے دور میں مملکت سعودی عرب ان ممالک کی امداد میں پیش پیش رہی جنہیں قدرتی آفات یا داخلی جنگوں کا سامنا رہاہے۔شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے اور بھی بہت سے منصوبہ جات اور اہم ترین کامیابیاں ہیں جن کی وجہ سے تاریخ میں ان کا نام سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔حائل، مدینہ منورہ، رابغ، جازان اور دیگر شہروں میں ’’کنگ عبداللہ اکنامک سٹی‘‘ کے نام سے بڑے منصوبوں کا آغاز کیا گیا۔ ریاض میں ترقی یافتہ اقتصادی مرکز کی تعمیر، کنگ عبداللہ یونیورسٹی آ ف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور الامیرہ نورہ بنت عبدالرحمن یونیورسٹی برائے خواتین سمیت دس نئی یونیورسٹیوں کا قیام وغیرہ بھی ان کے اہم منصوبوں میں شامل ہیں۔

شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے دورحکومت میں سعودی عرب ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن(WTO) میں شامل ہوا۔ انہوں نے پسماندہ اور ضرورتمندوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے بلاتفریق قومیت، سعودی خصوصی ہسپتالوں کے دروازے کھول دیے ہیں۔ وہ بین المذاہب مکالمہ میں بڑی دلچسپی رکھتے تھے اور اس سلسلہ میں مکہ مکرمہ، میڈرڈ اور نیویارک بین الاقوامی کانفرنسوں کی قیادت کر چکے ہیں۔ 2012ء میں انہوں نے مکہ مکرمہ میں اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد کروایا تاکہ امت مسلمہ کو درپیش مسائل کا حل تلاش کیا جاسکے۔ عالمی سطح پر خادم الحرمین الشریفین کی بین الاقوامی سفارتی کوششیں اسلامی دنیا کے مفادات کے دفاع اور عالمی سطح پر امن ، سلامتی اور استحکام لانے کیلئے سعودی قیادت کے کردار کی عکاسی کرتی ہیں۔ شاہ عبداللہ بن عبدالعزیزپاکستان کے بہترین اور مخلص دوست تھے۔ پاک سعودی تعلقات ابتدا سے ہی خوشگوار رہے ہیں۔شاہ فیصل رحمۃ اللہ علیہ کے دور میں یہ تعلق اپنے عروج پر پہنچا تاہم ان کی وفات کے بعد بھی سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات میں کوئی کمزوری نہیں آئی۔ خادم الحرمین الشریفین شاہ عبداللہ پاکستان آئے تو پاکستانی عوام نے ان کا بھرپور استقبال کیا جس سے وہ بہت زیادہ متاثر ہوئے اور کہاکہ ہم پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں۔2005ء میں آزاد کشمیر و سرحد کے خوفناک زلزلہ اور 2010ء کے سیلاب کے دوران بھی مصائب و مشکلات میں مبتلا پاکستانی بھائیوں کی مدد میں سعودی عرب سب سے آگے رہا او ر روزانہ کی بنیاد پر امدادی طیارے پاکستان کی سرزمین پر اترتے رہے یہی وجہ ہے کہ اسلام پسند اور محب وطن حلقوں کی کوشش ہوتی ہے کہ سعودی عرب کے اسلامی اخوت پر مبنی کردارسے پاکستان کی نوجوان نسل کو آگا ہ کیا جائے اور اس کے لئے وہ اپنا کردار بھی ادا کرتے رہتے ہیں۔ وطن عزیزپاکستان اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ایٹمی قوت ہے۔

جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کرنا تھے اور امریکہ ویورپ سمیت پوری دنیا کا دباؤ تھا کہ پاکستانی حکومت ایٹمی دھماکوں سے باز رہے۔اس مقصد کے تحت دھمکیاں بھی دی گئیں اور لالچ بھی دیے جاتے رہے۔ یہ انتہائی مشکل ترین صورت حال تھی، مگر ان حالات میں بھی سعودی عرب نے اس وقت کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کا حوصلہ بڑھایا اور اپنے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...