ناول توبتہ النصوح، مولوی نذیر احمد دہلوی اور برطانوی مفادات(قسط نمبر2)

ناول توبتہ النصوح، مولوی نذیر احمد دہلوی اور برطانوی مفادات(قسط نمبر2)
ناول توبتہ النصوح، مولوی نذیر احمد دہلوی اور برطانوی مفادات(قسط نمبر2)

  

اب آپ ناول کے مرکزی کردار نصُوح اور اس کے بیٹے علیم کے درمیان ہونے والا مکالمہ پڑھیں اور دیکھیں مولوی صاحب نے کہانی ہی کہانی میں کس مہارت کے ساتھ حکمران قوم کے مذہب کے بارے مثبت اوراپنے مشرقی اخلاقی ادب کے خلاف منفی تاثر ابھارا ہے۔ یہ امر بھی ذہن نشین رہے کہ یہ وہ زمانہ تھا جب 1857ء کا ہنگامہ فرو ہوئے بارہ تیرہ برس بیت چکے تھے اور انگریزی اقتدار مضبوطی سے قائم ہو چکا تھا۔مسلمانوں کو باور کرایا جا رہا تھا کہ عربی اور فارسی کے دن گنے جا چکے، اب تو انگریزی ہی کے واسطے سے ترقی کی راہیں کھل سکتی ہیں۔ نصوح کا بیٹا ’’عربی‘‘ کو کسی دوسرے ملک کی زبان قرار دیتا ہے:

’’باپ پوچھتا ہے سکول میں تو تم تاریخ و جغرافیہ و ہندسہ و ریاضی کے سوائے کوئی دوسری چیز پڑھتے نہیں تو پھر تمہیں دینی معلومات کہاں سے حاصل ہوئیں؟ بیٹا جواب دیتا ہے، مَیں نے چھوٹی سی عمر میں قرآن پڑھا تھا، لیکن وہ دوسرے ملک کی زبان ہے۔ طوطے کی طرح اول سے آخر تک پڑھ گیا، مطلق سمجھ میں نہیں آیا کہ اس میں کیا لکھا ہے اور کیا اس کا مطلب ہے۔۔۔ جن دنوں میں بہار دانش پڑھتا تھا(مکتب میں) ایک پادری صاحب چاندنی چوک میں سرِ بازار وعظ کہا کرتے تھے، مکتب سے آئے ہوئے لوگوں کی بھیڑ دیکھ کر مَیں بھی کھڑا ہوجاتا تھا۔ پادری صاحب کے ساتھ کتابوں کا بھی ایک بڑا بھاری ذخیرہ تھا اور اکثر لوگوں کو اس میں سے کتابیں دیا کرتے تھے۔ ہمارے مکتب کے کئی لڑکے بھی کتابیں لائے تھے۔ انہوں نے کتاب کی جلد تو اکھاڑلی اور ورقوں کو یا تو پھاڑ کر پھینک دیا یا پٹھے بنائے۔ کتابوں کی عمدہ عمدہ جلدیں دیکھ کر مجھ کو بھی لالچ آیا اور مَیں نے کہا، چلو ہم بھی پادری صاحب سے کتاب مانگیں۔ مکتب سے اُٹھ کر مَیں سیدھا پادری صاحب کے پاس چلا گیا۔ بہت سے لوگ ان کو گھیرے ہوئے تھے۔ ان میں ہمارے مکتب کے بھی دو چار لڑکے تھے۔ لوگ ان کے ساتھ کچھ مذہبی بحث کررہے تھے۔ اس کو مَیں نے خوب نہیں سمجھا، مگر ایک بات تھی کہ اکیلے پادری صاحب ایک طرف تھے اور ہندو، مسلمان، سینکڑوں آدمی ایک طرف۔ لوگ ان کو بہت سخت سخت باتیں بھی کہتے تھے۔ کوئی دوسرا ہوتا تو ضرور لڑ پڑتا، مگر پادری صاحب کی پیشانی پر چین بھی تو نہیں آتی تھی۔ سخت بات سن کر الٹے مسکرا دیتے تھے۔ پادری صاحب کی اس بات نے مجھ پر کیا، شاید سب لوگوں کے دل پر بڑا ہی اثر کیا اور جب شام ہوئی، لوگ رخصت ہوئے تو کئی آدمی آپس میں کہتے جاتے تھے کہ بھائی اس شخص کا عقیدہ چاہے کیسا ہی ہو ، لیکن حلم اور بُردباری، یہ صفت اس میں اولیاء اللہ کی سی ہے۔

بھیڑ ذرا کم ہوئی تو پادری صاحب نے مجھ سے پوچھا، صاحبزادے تم کچھ مجھ سے کہو گے؟ مَیں نے سنہری جلد کی ایک موٹی سی کتاب چھانٹی اور پڑھنے کے لئے طلب کی۔ پادری صاحب نے پوچھا، تم اس کو پڑھ بھی سکو گے۔ کون سی کتاب تم پڑھتے ہو؟ مَیں نے جزان سے بہارِ دانش، نکالی۔ انہوں نے مجھے پڑھنے کو کہا، اس دن کا بھی سبق کم بخت ایسا فحش اور بے ہودہ تھا کہ لوگوں کے مجمع میں مجھ کو اس کا پڑھنا دشوار تھا۔ بہ مشکل کوئی دو تین سطریں مَیں نے پڑھی ہوں گی کہ پادری صاحب نے فرمایا، جو کتاب مَیں نے تمہیں دی ہے، تم بخوبی پڑھ سکو گے۔ مَیں افسوس کرتا ہوں کہ کیوں مَیں نے تم کو ایسی کتاب (بہار دانش) پڑھنے کو کہا، جس کے پڑھنے سے تم اور سننے سے میں اور یہ سب صاحب جو کھڑے ہوئے ہیں، خدا کے گنہ گار ہوئے۔ خدا ہم سب کی خطا معاف کرے اور تم چاہے میری بات مانو یا نہ مانو ،لیکن اس کتاب کو چھوڑ دو کہ اس کا مطلب تمہارے مذہب کے بھی بالکل خلاف ہے۔ مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ اسے پڑھنے سے نہ پڑھنا تمہارے حق میں بہت بہتر ہے۔ یہ کتاب جو تم پڑھتے ہو، تم کو گناہ اور برائی سکھاتی اور بداخلاقی اور بے حیائی کی خراب راہ دکھاتی ہے۔ باوجودے کہ لوگ پادری صاحب کی ہرہر بات کو کاٹتے تھے، مگر اس کو سب نے تسلیم کیا۔

جو کتاب میں پادری صاحب سے لایا، اسے جوں جوں پڑھتا جاتا تھا، میرا دل اس میں لگتا تھا اور اس کی باتیں مجھ کو بھلی معلوم ہوتی جاتی تھیں۔ اسے پڑھنے سے مجھ کو معلوم ہوا کہ میرا طرز زندگی جانوروں سے بھی بدتر ہے اور مَیں روئے زمین پر بدترین مخلوق ہوں۔ اکثر اوقات مجھ کو اپنی حالت پر رونا آتا تھا اور گھر والوں کا وتیرہ دیکھ دیکھ کر مجھ کو ایک وحشت ہوتی تھی یا تو میری یہ کیفیت تھی کہ مصیبت زدہ لوگوں کو دیکھ کر ہنسا کرتا تھا یا اس کتاب کی برکت سے دوسروں کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھنے لگا۔ مکتب اور بہارِ دانش دونوں کو مَیں نے اسی دن سلام کیا تھا، جس روز کہ پادری صاحب نے مجھ کو نصیحت کی۔۔۔ چند دن بعد بھائی جان نے وہ کتاب پھاڑ دی، کہنے لگے میاں شکر کرو کہ وہ کتاب پھٹ گئی، نہیں تو تم کرسٹان (عیسائی) ہی ہو گئے ہوتے‘‘۔ یہ جواب سن کر تو مجھ کو ایک نئی حیرت ہوئی کہ اگر کرسٹان ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں، جن کا حال میں نے کتاب میں پڑھا تو ان کو بُرا سمجھنا کیا معنی!‘‘

نصوح خود توبہ کرنے کے بعد گھر کے سارے افراد کو مکمل طور پر مذہب کے سانچے میں ڈھال دینا چاہتا ہے۔ اس کا بڑا بیٹا کلیم باپ کے اس رویئے سے نالاں ہے۔ وہ آزاد منش طبیعت کا مالک ہے اور اپنی مرضی سے جینا چاہتا ہے۔ وہ کلاسیکی فارسی اور اردو ادب کے ساتھ ساتھ نئے دور کے افسانہ ، ناول، شاعری، ڈرامہ وغیرہ سب کا مطالعہ کرتا ہے۔ گھر سے باہر محفلوں میں بیٹھتا اور گفتگوؤں میں شریک ہوتا ہے۔ نصوح کو اس کی یہ آزادہ روی پسند نہیں آتی، چنانچہ ایک روز وہ اس کے ذاتی ذخیرۂ کتب کو جلوا دیتا ہے یہ کہہ کر کہ یہ سارا لٹریچر شرک، کفر اور اباحیات کا درس دیتا ہے۔ کلیم کو جب یہ خبر ملتی ہے تو اسے سخت ذہنی صدمہ پہنچتا ہے۔ اُدھر نصوح اور اس کی اہلیہ فہمیدہ کے درمیان کتب سوزی کا واقعہ زیر بحث آتا ہے۔

نصوح: کیا تم کو اپنا گلستاں، پڑھنا یاد نہیں؟

فہمیدہ: یاد کیوں نہیں، جس دن حمیدہ کا دودھ چھڑایا ہے، اس سے اگلے دن میں نے ’’گلستاں‘‘ شروع کی تھی۔

نصوح: بھلا تم کو یہ بھی یاد ہے کہ میں تمہارے سبق سے آگے آگے جابجا سطروں کی سطروں پر سیاہی پھیر دیاکرتا تھا؟ بلکہ بعض دفعہ صفحے کے صفحے ایسے آ پڑے ہیں کہ مجھ کو اوپر سے سادہ کاغذ لگا کر ان کو چھپانے کی ضرورت ہوئی‘‘۔

فہمیدہ: خوب اچھی طرح یاد ہے۔ چوتھائی کتاب سے کم نہ کٹی ہوگی۔

نصوح: تم پڑھتی تھیں تب چوتھائی بھی کٹی، اگر کوئی دوسری عورت یا لڑکی پڑھتی ہوتی تو مَیں آدھی کی خبر لیتا۔ وہ تمام بے ہودہ باتیں تھیں جن کو مَیں کاٹتا اور چھپاتا پھرتا تھا۔

فہمیدہ: سچ کہو۔ لو مَیں تو سمجھی مشکل جان کر چھڑوا دیتے ہیں۔

نصوح: بڑی مشکل یہ تھی کہ میاں ان واہیات اور فحش باتوں کو تمہارے رُوبُرو بیان نہیں کرسکتا تھا۔ پھر یہ اس کتاب کا حال ہے جو پندو اخلاق میں ہے اور تصنیف بھی ایسے بزرگ کی ہے کہ کوئی مسلمان ایسا کمتر نکلے گا کہ ان کا نام لے اور شروع میں حضرت اور آخر میں رحمتہ اللہ علیہ یا قدس اللہ سرہ العزیز نہ کہے، یعنی ان کا اعتداء اولیاء اللہ میں ہے اور جو کتابیں میں نے جلائیں، کتابیں کاہے کو تھیں، پھکڑ، گالی، ہزلیات، بڑ، بکواس، ہذیان، خرافات میں نہیں جانتا کہ ان میں سے کوئی سا نام ان کے لئے زیادہ زیبا ہے۔

فہمیدہ: مگر جلانا کیا ضرور تھا، پڑی رہنے دی ہوتیں یا بک بکا جاتیں۔ آخر درموں کی چیز تھی۔

نصوح: شاید اگلی گرمیوں کا ذکر ہے کہ بدرو میں سانپ نکلا تھا اور اس کو دیکھ کر چھوٹے بڑے سب ایسے خوفزدہ ہو گئے تھے کہ صحن میں نکلنا بیٹھنا چھوڑ دیا تھا اور کیسا کچھ تقاضا تھا کہ جس طرح ہو سکے سانپ کو پکڑوا کر مار ڈالنا چاہیے۔ سانپ کی نسبت تم نے ہر گز نہیں کہا کہ پڑا بھی رہنے دو، شاید کوئی سپیرا دو چار ٹکے پیسے دے کر مول لے جائے گا۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ یہ کتابیں اس سانپ سے زیادہ موذی اور اس سے کہیں زیادہ خطرناک تھیں اور ان کی قیمت چوری اور ٹھگی کے مال سے بڑھ کر حرام۔ کلیم اور پھٹکار کیا ہے؟ اسی سانپ کا زہر اس کو چڑھا ہوا ہے اور شیطان نے یہی منتراس پر پڑھ کر پھونک دیا ہے۔ (ص 261-262) (جاری ہے)

مزید : کالم