شرم

شرم
شرم

  

ہمار اپورا گردوپیش بدل گیا۔ پاکستان میں حکومت اور حکمرانی کے ہی نہیں ، عوام اور قومی مفاد کے بنیادی حقائق تک تبدیل ہو گئے۔ اگر کوئی چیز تبدیل نہیں ہوئی تو وہ حکمرانی کے لئے عسکری اور سیاسی اشرافیہ کا وہی گِھسا پِٹا شعور ہے۔ وہی کج شعار عادتیں ،وہی کج رو وارداتیں،وہی کہنہ روایتیں اوروہی دقیانوسی باتیں۔اِس پُرانے پن کے ساتھ کیا میاں نواز شریف بحرانوں کے ہنگام خود کو تھام سکیں گے؟ ایک کے بعد دوسرا بحران چلا آتا ہے۔ مگر میاں نواز شریف ہر بحران میں ٹھیک پہلے کی طرح دکھائی دیتے ہیں۔ وہی آسودگی، وہی گردشِ روزوشب اور وہی احباب وحساب۔میاں صاحب خود کو پاکستان کے بحرانوں کے ایک حقیقی حل کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں۔ اگر انتخابات سے پہلے کے اُن کے دعوے سامنے رکھے جائیں تو اِن بحرانوں میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جو اُن کے لئے غیر متوقع کہا جا سکے۔ مگر پھروہ اِن بحرانوں سے قوم کو بچانے میں ناکام کیوں ہیں؟ آخر اُن کی حکمرانی میں کون سی کمی اور کجی ہے؟ سی این این کی سابقہ نامہ نگار اور اب ایک مشہور بلاگر ریبیکا میکینن (Rebecca MacKinnon ) نے حکمرانی کے حوالے سے ایک سادہ بات کہہ رکھی ہے کہ

Governance is a way of organizing, amplifying, and constraining Power.

(حکمرانی ، طاقت کی تنظیم ،ترفع اور تحدید کا ایک طریقہ ہے۔)

پاکستان میں مگریہ کیا ہے؟پاکستان میں حکومت چند خاندانوں، رشتہ داروں اور دوستوں کے درمیان اختیارات و وسائل کی منفعت بخش تقسیم، شان وشکوہ کا ارتفاع اور راہ کی رکاوٹوں کو مسدود کرنے کا ایک ذریعہ و طریقہ ہے۔نواز شریف کی’’ اہلیت ‘‘جتنی تیزی سے بے نقاب ہو رہی ہے، سیاسی منظر نامے پر مایوسی کی دھند بھی اتنی ہی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ وہ حالات کو سمجھنے میں جتنی بُری طرح ناکام ہو رہے ہیں ،پاکستان کی بد سے بد تر حکومتوں کے ادوار میں بھی ایسی ناکامی کسی حکمران کے حصے میں نہیں آئی۔ یہ مایوسی اس لئے بھی زیادہ خطرناک ہے کیونکہ جمہور کی بالادستی کا خواب دیکھنے والوں نے اپنی بہت سی اُمیدیں میاں صاحب سے وابستہ کر لی تھیں۔ اب تمدنی و عسکری تال میل کو آئین کے آہنگ سے آشنا بنانے کا خواب بھی چکنا چور ہو چکا ہے۔ اس خواب کا پتا اب خود میاں صاحب کی ویران آنکھوں میں بھی جھانک کر نہیں ملتا۔ وہ اس خواب نگری کے پہلے خواب فروش ثابت ہوئے۔ اقتدار کی شان وشوکت سے وابستگی اقدام کی طاقت چھین لیتی ہے۔ یہ کام عظیم مدبّر قیادتوں کا ہے۔ قیادت کی تلاش میں جن کا سفر میاں نواز شریف پر آکر رُک گیا تھا، وہ اب اپنے کرچی کرچی خوابوں کو خود اپنی ہی نظروں میں بے آبرو دیکھنے کی ہزیمت اُٹھانے کے قریب ہیں۔میاں صاحب اگردوشیزۂجمہوریت کی حفاظت ، تمدنی وعسکری تعلقات کی آئین آشنا تال میل اور شفاف نظامِ حکومت کے ذریعے عوام کا اعتماد پیدا کرنے کے مشکل کام نہیں کر سکتے تھے، تو یہ بوجھ نہ ہی اُٹھاتے۔ وہ فقط عوام کی مشکلات میں مزید اضافے کے روح فرسا حالات سے ہی اجتناب کر لیتے، تو یہ کافی سے بھی زیادہ تھا۔

میاں نوازشریف جو کام بآسانی کرسکتے تھے، وہ کیا تھے؟ وہ ایک مناسب کابینہ کی تشکیل کرتے جس پر رشتہ داروں اور دوستوں کاغلبہ نہ ہوتا۔ بدقسمتی سے اُن کی کابینہ کے تمام بااثر لوگ ایک دوسرے کے مخالف ہی نہیں ایک دوسرے سے نبر دآزما بھی ہیں۔ حکومت کے باب میں ہمار امسئلہ کیا ہے؟ رشتوں کی آکاس بیل اور صنعتی اشرافیہ کی تال میل نے ریاست کا آہنگ بگاڑ دیاہے۔ جس کے باعث اُسلوبِ حکومت اور تبدیلئ حکومت سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ سب کچھ جُوں کا تُوں رہتا ہے۔ ایک حکومت کی جگہ دوسری اور ایک ملک ریاض کی جگہ دوسرا لے لیتا ہے۔ جس کے حسبِ منشاء فیصلے موڑے اور مروڑے جاتے ہیں۔ شوکت عزیز کے زمانے میں واضح ہوگیا تھا کہ کوئی بھی بحران دراصل بے وجہ پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے پیچھے سٹے باز تاجروں کا منظم مافیا کا م کر رہا ہوتا ہے۔ جس میں رقوم بٹورنے سے لے کر قومی ادارے بیچنے تک متعدد منظم ذہن منفعت بخش طریقے پر کام کررہے ہوتے ہیں۔ پیٹرول بحران خواہ مخواہ پید انہیں ہوا۔ موجودہ حکومت اس اعتبار سے ایک منفرد حکومت ہے کہ اِسے کسی اور سے اب نہیں خود اپنے آپ سے سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ یہ وہی حکومت ہے جسے عمران خان نے قریب المرگ مریض کی طرح بنا کر رکھ دیا۔ مگر پھر بھی یہ بدحالی کے باوجود بحال رہی۔ مگر اب اِسے اندر سے کوئی خطرناک بیماری چاٹ رہی ہے۔یہ حکومت اب اپنے ہی خلاف آپ کھڑی ہوگئی ہے۔ پیٹرول بحران میں وزراء نے اپنی مثالی کارکردگی کا مظاہرہ ایک دوسرے کے خلاف دکھایا۔ اس مسئلے پر کم ازکم چار وزارتیں ایک دوسرے کے خلاف شاکی نظر آئیں۔ پیٹرولیم کی وزارت بھی اُن وزارتوں میں شامل ہے جسے کوئی ایک وزیر نہیں چلارہا۔ یہ تو ایک کھلا انکشاف ہے کہ اس وزارت میں اُس کے وزیر شاہد خاقان عباسی کی مرضی کے برخلاف ایک خوامخواہ کا ’’مشیر‘‘ شامل کیا گیا۔ جو اس حکومت کے نفسِ ناطقہ وزیر اسحاق ڈار کے مرہونِ منت ہیں۔ زاہد مظفر نامی مذکورہ مشیر سے اسحاق ڈار کی قربت کے ایسے ہی حوالے ملتے ہیں جو اویس مظفر سے آصف علی زرداری کی قربت کے حوالے ہیں۔ زاہد ہو یا اویس ، ہر دور اقتدار میں یہ مظفر رہتے ہیں اور بحران عوام جھیلتے ہیں۔

وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار میں کوئی خوف ناک قسم کی کجی ہے جو تشنہ کلام رہتی ہے۔وہ اقرباپروری کی شاندار مثال ہیں۔ اگر چہ وزرائے خزانہ کے حوالے سے دوسرے نام تو اُن سے بھی کہیں زیادہ قابلِ رحم ہیں، مگر اسحاق ڈار ہی کب تک، آخر کب تک؟وہ ماہرِ شماریات ہیں ،ماہرِمعاشیات نہیں۔ وہ نہایت خوبی سے دو جمع دو چار کا حساب تو رکھ سکتے ہیں۔ مگر یہ دو کیوں دو ہیں، اور یہ چار کیسے چار ہو رہے ہیں؟ اور اس دو جمع دو چار سے ہم کن حالات سے دوچار ہو سکتے ہیں؟ اس کا اندازا وہ بالکل نہیں رکھتے۔چنانچہ وہ جب بھی ٹیلی ویژن کے جگمگاتے پردے پر جلوہ گر ہوتے ہیں تو صرف ہندسے بیان کرتے ہیں۔ فلاں ادارے کی نجکاری سے اتنے ارب روپے حاصل ہوں گے، اور فلاں کی نجکاری سے اتنے ۔ ہمارے ریزرواتنے تک پہنچ جائیں گے۔ہم فلاں تاریخ تک فلاں ہندسے کا ہدف حاصل کر لیں گے۔ ارے بھئی زندگی تو اس کے بعد بھی کرنی ہے۔ معیشت کا پہیہ تو اس کے بعد بھی چلانا ہے۔ وہ کیسے ہوگا؟ہم اس سے پہلے بجلی بحران میں ڈار ساختہ حل آزما چکے ہیں۔ کیا ہوا تھا؟ جب گردشی قرضوں کے نام پر بجلی کمپنیوں کو (جو دراصل منظورِ نظر افراد تھے)یکمشت اربوں روپے دے دیئے گئے تھے۔ عوام کوبجلی نے کب اورکتنی دیر کے لئے راحت پہنچائی۔ (یہ سطور بھی ایک ایسے وقت میں سپردِ قلم کی جارہی ہیں جب بجلی گئے، بارہ گھنٹے بیت چکے ہیں، اور کوئی ادارہ پرسان حال نہیں)بجلی کا بحران جُوں کا تُوں کھڑا ہے۔ اور حد تو یہ ہے کہ گردشی قرضے بھی وہیں کے وہیں پہنچ گئے ہیں۔ عوام ایک سادہ بات جانتے ہیں۔ اس سے قبل وہ اس سے زیادہ روشنیوں میں نہائے ہوئے تھے اور بجلی بلوں کی ادائی آج سے کہیں زیادہ کم کرتے تھے۔ اب وہ کم بجلی کا زیادہ بل دے رہے ہیں۔ اور ہر روز اپنی بے بسی کا ماتم کرتے ہیں۔ایک سادہ بات یہ بھی ہے کہ مستقل حل ماہرِ شماریات کے پاس نہیں ماہرِمعاشیات کے پاس ہوتا ہے۔میاں نواز شریف کے پاس تو اسحاق ڈار کے لئے رشتے داری کی ایک مجبوری موجود ہے۔ مگر عوام اُنہیں برداشت کرنے کے لئے کون سی مجبوری رکھتے ہیں؟کیا ہم اُنہیں ادب سے عرض نہیں کر سکتے کہ وہ حضرت شاہ لطیف امام بری کے مزار پر تشریف لے جائیں تاکہ خلقِ خدا حضرت کی برکت سے کوئی راحت محسوس کرے۔ بجلی نہ بھی ہو ، تو اُمید کی کوئی روشنی تو پُھوٹے۔تین کتابوں کے بھارتی مصنف امیت کلنتری نے نظام ہائے حکومت کی ناکامیوں پر ایک کام کی بات کہہ رکھی ہے۔جو میاں نوازشریف کے لئے کرنے کا اصل کام بھی ہے۔ جس کے لئے اُن کے راستے میں عمران خان اور عسکری اداروں سمیت کوئی رکاوٹ بھی نہیں۔

147System fails when people with ability don\'t have authority and people with authority don\'t have ability.148

(نظام تب ناکام ہوتے ہیں جب اہل لوگ اختیار نہیں رکھتے اور نااہل لوگ اختیارات کے مالک بن جاتے ہیں۔)

نااہل لوگ ناکامیاں ہی لاتے ہیں ۔ وزیراعظم کو اپنی کابینہ میں جوہری تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ پیٹرول کے بعد اب بجلی بحران پر بھی اُنہوں نے اڑتالیس گھنٹوں میں رپورٹ طلب کر لی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس سے پہلے پیٹرول بحران کی بھی اُنہوں نے رپورٹ طلب کی تھی ، تو اس پر کیا ہوا؟ وزیر اعظم کی طرف سے رپورٹ کی طلبی اور نوٹس لئے جانے کی خبر کبھی بھی کوئی امید پیدا کیوں نہیں کرتی۔ اس لئے کہ ایسی رپورٹ طلبی اور نوٹس لئے جانے کی خبروں نے کبھی کسی احتساب کی روایت کو جنم ہی نہیں دیا۔ اس لئے ایسی خبروں کا عوام نے بھی کبھی نوٹس ہی نہیں لیا۔ مگر ایک نوٹس ایسا ہے جو نہایت قابلِ توجہ ہے۔ مسلم لیگ نون کے ایک کارکن کی سماجی میڈیا پر ایک تصویر گردش کر رہی ہے جس میں وہ ایک کارڈ کے ساتھ کھڑا ہے جس پر تحریر ہے کہ

’’ پیٹرول نہیں آرہا،پانی نہیں آرہا ،بجلی نہیں آرہی، گیس نہیں آرہی ،میاں صاحب اب تو شرم آرہی ہے۔۔‘‘

مزید : کالم