حکمرانی کا مزا

حکمرانی کا مزا
حکمرانی کا مزا

  

شیدے ریڑھی والے کے کاٹ دار سوالات اکثر میرے چودہ طبق روشن کر دیتے ہیں۔ اس کی ریڑھی پر سبزی لینے جانا ایسا ہی ہے جیسے کسی بڑے امتحان سے گزرنا۔آج صبح اُس نے پوچھا کہ جب وزیراعظم محمد نواز شریف اور وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف کسی معاملے کا نوٹس لیتے ہیں، تو اس کا مقصد کیا ہوتا ہے۔ اس سے عوام کو کیا فائدہ پہنچتا ہے اور کیا مسائل حل ہو جاتے ہیں، اصل میں اس کے گھر کی بجلی رات سے بند تھی اور وہ پوچھ رہا تھا کہ یکدم بجلی کیسے چلی گئی، پھر جب اس نے خبروں میں سنا کہ وزیراعظم نے بجلی کے شٹ ڈاؤن کا نوٹس لے لیا ہے، تو اس کی سوئی اس نکتے پر آ کر اڑ گئی تھی کہ اس نوٹس سے کیا ملے گا، کسے فائدہ ہو گا، کسے نقصان پہنچے گا۔ اس سے پہلے جب وزیراعظم نے پٹرول بحران کا نوٹس لیا تھا، تو شیدے ریڑھی والے کے کان تب بھی کھڑے ہو گئے تھے، بلکہ ان دِنوں تو وہ اپنی ریڑھی پر آنے والے ہر شخص سے کہتا دیکھو وزیراعظم نے نوٹس لے لیا ہے، اب سب کام ٹھیک ہو جائیں گے۔ شیدے کو امید تھی کہ وزیراعظم نوٹس لینے کے بعد اپنے ایک دو وزیروں کو ذمہ دار قرار دے کر فارغ بھی کر دیں گے، مگر جب ایسا نہیں ہوا تو شیدے نے کہنا شروع کر دیا کہ بھائیو! وزیروں کا واقعی کوئی قصور نہیں ہو گا وگرنہ وزیراعظم انہیں فارغ ضرور کر دیتے۔

مگر آج صبح وہ کچھ اور ہی سوچ رہا تھا، اسی لئے اس نے یہ سوال پوچھا کہ وزیراعظم جب نوٹس لیتے ہیں تو اس کا مقصد کیا ہوتا ہے، سب کچھ تو جوں کا توں چلتا رہتا ہے، مَیں اسے کیسے سمجھاتا کہ وزیراعظم بھی گوشت پوست کے بنے ہوئے انسان ہیں، کوئی مافوق الفطرت ہستی نہیں کہ اپنے حلیف وزراء سے بے نیاز ہو کر انہیں فارغ کرتے پھریں، وہ نوٹس اس لئے لیتے ہیں کہ انہیں بطور وزیراعظم ایسا کرنا پڑتا ہے۔اگر وہ ایسا نہ کریں تو سمجھا جائے گا کہ مُلک میں وزیراعظم کی کوئی ہستی موجود ہی نہیں، پھر چونکہ جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ حکومت کے نام پر ہوتا ہے اور حکومت وزیراعظم کے نام سے پہچانی جاتی ہے، اس لئے وزیراعظم کا سامنے آ کر قوم کو مطمئن کرنا عین ضروری ہے۔ مَیں نے کہا شیدے دیکھو یہ ہے کہ وزیراعظم سب کام خود نہیں کرتے، وہ پورے مُلک کو چلا رہے ہیں، مختلف محکموں کو چلانے کی ذمہ داری وزراء پر عائد ہوتی ہے۔ وزیراعظم چونکہ اپنے ممبران کابینہ پر بھروسہ کرتے ہیں اس لئے ان کے کام میں مداخلت نہیں کرتے، البتہ جب پانی سر سے گزر جاتا ہے تو انہیں نوٹس لینا پڑتا ہے، تاکہ معاملات کو خراب ہونے سے بچایا جا سکے۔ شیدے کو ایسی بات آسانی سے کہاں سمجھ آتی ہے۔ کہنے لگا بابو جی آپ ٹھیک کہتے ہیں، مگر یہ تو بتائیں کہ جب وزیراعظم نوٹس لے لیتے ہیں تو پھر آگے کیا ہوتا ہے۔ اس کے بعد تو کچھ بھی نہیں ہوتا، بس ایک رپورٹ پیش ہوتی ہے اور معاملہ ختم، اس کا اشارہ پٹرول بحران کی طرف تھا، جس میں عوام کو ایک ہفتے تک شدید ذلت اور کرب سے گزرنا پڑا، لیکن ابھی تک یہ عقدہ ہی حل نہیں ہوا کہ اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے، نہ ہی یہ راز کھلا ہے کہ آخر یہ بحران پیدا کیسے ہوا؟

شیدے نے اسی سے جڑا یہ سوال داغا ’’بابو جی‘‘ یہ رحمن ملک نے کیا کہہ دیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ پٹرول کا بحران ایرانی تیل بیچنے کے لئے پیدا کیا گیا، کیا اس میں کوئی صداقت ہے؟‘‘

شیدے کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ مجھ جیسے شخص کو بھی شرلاک ہومز یا جیمز بانڈ سمجھ لیتا ہے، جس کے پاس ہر سوال کا جواب موجود ہوتا ہے۔ مَیں نے کہا شیدے رحمن ملک کی باتیں تو ہمیں اس وقت بھی سمجھ نہیں آتی تھیں، جب وہ وزیر داخلہ تھے، اب تو وہ صرف سینیٹر ہیں، اس لئے اُن کے اس الزام کی بابت مَیں کیا کہہ سکتا ہوں۔ شیدے نے یہاں ایک سوال کر کے مجھے مزید حیران کر دیا۔ کہنے لگا ’’بابو جی رحمن ملک کے اس الزام کا کسی حکومتی شخصیت نے کوئی جواب نہیں دیا، کیا اسے سچ مانا جائے‘‘۔مَیں نے کہا شیدے ایسی بات نہیں۔اگر اس الزام میں کوئی صداقت ہوتی تو وزیراعظم نے پٹرول بحران کا جو نوٹس لیا تھا، اس میں یہ بات بھی سامنے آ جاتی، لیکن ایسی کوئی بات نہیں ہوئی، شیدا پھر بول اٹھا۔’’بابو جی اگر یہی الزام عمران خان لگاتا تو کیا پھر بھی حکومتی وزیر خاموش رہتے، کیا پرویز رشید عمران خان کو سب سے بڑا جھوٹا قرار نہ دیتے۔ اس سے تو لگتا ہے ہمارے مُلک میں الزام کی کوئی اہمیت نہیں، البتہ اس بات کی اہمیت ضرور ہے کہ اسے کس نے دہرایا ہے۔اب اتنا باریک نکتہ تو کوئی بہت سیانا آدمی ہی اُٹھا سکتا ہے اور مجھے لگا کہ شیدا ریڑھی والا بہت سیانا ہو گیا ہے، اس کے اندر وہ لوک بیانیہ والی ساری بصیرت موجود ہے، جو ایک عام شخص کو خاص بنا دیتی ہے۔

سچی بات ہے مَیں شیدے سے جان چھڑا کر واپس تو آ گیا، مگر میرا ذہن اس کی طرف اٹکا رہا۔ مَیں سوچنے لگا کہ شیدے نے یہ سوال تو پوچھا ہے کہ وزیراعظم کے نوٹس لینے کا مقصد کیا ہوتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس سوال کا کوئی جواب موجود ہی نہیں۔ یہ سوال درحقیقت اس صورت حال کو ظاہر کرتا ہے کہ مُلک میں حکومت بحیثیت ادارہ اپنا وجود کھو چکی ہے اب ہر مسئلے کا وزیراعظم کو نوٹس لینا پڑتا ہے اور ستم بالائے ستم یہ ہے کہ اس نوٹس سے نتیجہ بھی کوئی نہیں نکلتا۔ نوٹس کا جواب دینے والے اس قدر تیز اور تگڑے ہیں کہ وزیراعظم بھی اُن کے سامنے بے بس ہو جاتے ہیں۔ بجلی کا بریک ڈاؤن دوسری بار ہوا ہے اس کا وزیراعظم نے نوٹس تو لے لیا ہے تاہم پانی و بجلی کے دونوں وزراء نے اسے اپنا قصور ماننے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ اس کی ذمہ داری دہشت گردوں پر ڈالی ہے، جنہوں نے بجلی کی مین لائنوں کو نقصان پہنچایا۔ ویسے بھی خواجہ آصف یا عابد شیر علی کے خلاف وزیراعظم کیوں کارروائی کریں گے؟ کوئی اپنوں کے خلاف بھی کارروائی کا سوچتا ہے۔ نوٹس لینے کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ غافلوں کو غفلت کا احساس دلایا جائے اور عوام کو طفل تسلی دے کر سب اچھا کی رپورٹ دی جائے۔ میرا تو مشورہ یہ ہے کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ نوٹس لینا بند کر دیں یا کم از کم اس بات کی تشہیر سے روک دیں کہ انہوں نے نوٹس لے لیا ہے، چونکہ جب بات جگ ہنسائی کا باعث بننے لگے تو اسے نہ کرنا ہی بہتر ہے۔

ماضی میں سب سے زیادہ نوٹس لینے کا ریکارڈ وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے قائم کیا ہے، لیکن اب وفاقی حکومت کی سطح پر آئے روز اتنا کچھ ہو رہا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کے نوٹس لینے کی شرح بڑھ گئی ہے۔ وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف زیادہ تر نوٹس پولیس مظالم کا لیتے ہیں، پھر اُن لوگوں کو بھول جاتے ہیں۔ پنجاب پولیس نے حالیہ دِنوں میں اتھرے پن کی ناقابل فراموش مثالیں قائم کی ہیں۔ مثلاً نابیناؤں پر لاٹھیاں برسا کر انہیں لہولہان کیا اور پھر معصوم طالب علموں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ دونوں بار وزیراعلیٰ نے واقعات کا سخت نوٹس لیا، مگر اس کے بعد کچھ پتہ نہیں چلا کہ ان نوٹسوں کا کیا ہوا۔ سنا ہے نابیناؤں پر تشدد کرانے والے ڈی ایس پی کو اچھی جگہ پوسٹنگ مل گئی ہے اور بچوں پر تشدد کرنے والے پورے اطمینان سے اپنے تھانوں میں براجمان ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کی طرف سے نوٹس لینے والا بیان کسی خود کار کمپیوٹر نظام سے جڑا ہوا ہے، جونہی کوئی بریکنگ نیوز ٹی وی چینلوں پر چلتی ہے، ساتھ ہی یہ نوٹس لینے والا بیان بھی چلنے لگتا ہے،جس طرح پی ٹی سی ایل والے خود کار نظام کے تحت شکایت تو درج کر لیتے ہیں، لیکن اس کا جواب دینا بھول جاتے ہیں، اسی طرح نوٹس لینے کا بیان تو جاری ہو جاتا ہے پھر کچھ پتہ نہیں ہوتا اس نوٹس کا بنا کیا، شائد یہی وہ صورت حال ہے جس کی وجہ سے شیدے ریڑھی والے جیسے عوام یہ پوچھتے ہیں کہ جب کچھ ہونا ہی نہیں تو، پھر اس نوٹس ڈرامے کا مقصد کیا ہے، انہیں کیا معلوم کہ حکمران اگر نوٹس بھی نہ لے سکیں، تو پھر انہیں حکمران کون کہے۔حکمرانی کا اتنا مزا تو آنا ہی چاہئے۔

مزید : کالم