وائٹ ہاؤس میں ڈرون!

وائٹ ہاؤس میں ڈرون!
وائٹ ہاؤس میں ڈرون!

  

میں نے کل ہی ڈرون ٹیکنالوجی پر کالم لکھا تھا اور کہا تھا کہ ڈرون، مستقبل کا ایک ایسا ہتھیار ہو گا جو اپنی تاثیر کے تناظر میں اگلے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دے گا۔ الحمدللہ کہ اس پیشگوئی کی صداقت کی شروعات ہو گئیں۔ آج کے تقریباً سب اخباروں میں یہ خبر صفحہ ء اول پر شائع کی گئی کہ واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کمپلیکس میں ایک ’’چھوٹا سا‘‘ ڈرون کریش کرتا ہوا پایا گیا ہے۔ثُمّ الحمدللہ کہ قرآن کی اس آیہء کریمہ کی تفسیر کا عملی آغاز ہو گیا ہے کہ جس پر میں نے چند روز پہلے ایک کالم لکھا تھا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے کہ ’’ہم ایام کو لوگوں (اور قوموں) کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں‘‘۔

بانگ درا میں حضرت اقبال کی ایک طویل نظم کا عنوان ہے ’’گورستانِ شاہی‘‘۔۔۔ اس کے مندرجہ ذیل پانچ اشعار بھی گویا اسی فرمانِ خداوندی کی ایک فلسفیانہ تعبیر ہیں:

زندگی اقوام کی بھی ہے یونہی بے اعتبار

رنگ ہائے رفتہ کی تصویر ہے ان کی بہار

اس زیاں خانے میں کوئی ملتِ گردوں وقار

رہ نہیں سکتی ابد تک بارِ دوشِ روزگار

اس قدر قوموں کی بربادی سے ہے خوگر جہاں

دیکھتا بے اعتنائی سے ہے یہ منظر جہاں

ایک صورت پر نہیں رہتا کسی شے کو قرار

ذوقِ جدت سے ہے ترکیبِ مزاجِ روزگار

ہے نگینِ دہر کی زینت ہمیشہ نامِ نو

مادرِ گیتی رہی آبستنِ اقوامِ نو

امریکہ آج لاکھ دنیا کی واحد سپرپاور سہی لیکن اللہ کریم نے ایام کو تو قوموں کے درمیان ’’پھیرنا‘‘ ہے اور ضرور پھیرنا ہے۔۔۔ مادرِ گیتی ہمیشہ نئی اقوام سے آبستن (حاملہ) رہتی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ ماں، امریکہ کے بعد اور کس بچے (قوم) کو جنم دیتی ہے!

وائٹ ہاؤس کے صحن میں جو ڈرون کریش ہوا ہے اس کی کچھ ’’تفصیل‘‘ بھی خبروں میں دی گئی ہے۔ پوری خبر(بحوالہ ء ایسوسی ایٹڈ پریس) اس طرح ہے کہ سوموار اور منگل کی درمیانی شب تقریباً 3بجے ایک چار ٹانگوں والا ڈرون (Quadcopter) اڑتا ہوا کہیں سے آیا اور وائٹ ہاؤس کے اس آنگن میں کریش ہو گیا جس کی لمحہ لمحہ کی نگرانی کی جاتی ہے۔ سیکرٹ سروس کے درجنوں ایجنٹ اس ’’کارِ خیر‘‘ میں مصروف رہتے ہیں کہ کہیں کوئی پرندہ تو وائٹ ہاؤس کے اوپر کوئی خطرناک ’’پَر‘‘ نہیں مار رہا۔ سیکرٹ سروس والوں کو معلوم نہ تھا کہ ایک مشینی پرندہ ایک رات نہ صرف پَر مارے گا بلکہ بہ نفسِ نفیس صحیح سالم آکر آرام گاہِ صدر کی شاخِ نشیمن پر بیٹھ جانے کی ہمت اور جرات بھی کرے گا!

قارئین کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ چھوٹا سا ’’کوآڈ کاپٹر‘‘ ڈرون بظاہر ایک بے ضرر سا کھلونا ہے جسے چند روز پہلے کرسمس کے موقع پر کروڑوں امریکی (اور یورپی) شہریوں نے اپنے اور اپنے بچوں کی تفریح طبع کے لئے اُڑایا اور محظوظ ہوئے۔ یہ کھلونا آج کل کمرشل مقاصد کے لئے بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ موضوع امریکہ میں بہت ہفتوں بلکہ مہینوں سے زیر بحث ہے کہ آیا ان کمرشل ڈرونوں کے اُڑانے کی عام اجازت دی جائے یا نہ دی جائے۔

ان کمرشل ڈرونوں کے ذریعے 5کلو گرام وزنی اشیاء ایک جگہ سے دوسری جگہ بآسانی اور بہت کم وقت میں پہنچائی جا سکتی ہیں۔ امریکی اور یورپی شہروں میں گاہک کو خود بازار جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انٹرنیٹ پر کسی معروف دوکاندار /ڈیپارٹمنٹل سٹور کو آرڈر دے دیں کہ فلاں کتاب، ملبوس، تولیہ، جرابیں یا دوسری عام استعمال کی اشیاء یا اشیائے خوردنی وغیرہ بھیج دیں۔ وہ اپنی گاڑی میں فوراً آپ کو مطلوبہ اشیاء بھیج دیتا ہے۔ لیکن اب زمینی گاڑی کی جگہ یہ فضائی گاڑی (ڈرون) استعمال کئے جانے کے تجربے کئے جا چکے ہیں جو کامیاب ثابت ہوئے ہیں۔بس فیڈرل ایوی ایشن والوں کو اعتراض یہ ہے کہ ان کمرشل ڈرونوں کی پروازوں کی بلندی کی حد کو کنٹرول کریں تاکہ یہ کسی کمرشل ہوائی جہاز سے ٹکرا نہ جائیں اور دوسرے ان کی پرواز کا فاصلہ بھی محدود کریں۔ یہ دونوں شرائط پوری کی جا رہی ہیں۔ امید کی جا رہی ہے کہ جلد ہی ایسی ٹیکنالوجی دریافت کر لی جائے گی جو ان مشکلات پر قابو پا لے گی۔۔۔ آئندہ ڈرون آپ کے گھر کی چھتوں پر لینڈ کیا کریں گے یا ملٹی سٹوری رہائش گاہوں کے قرب و جوار میں کہیں اتر کر آپ کی مطلوبہ خدمات بجا لا کر واپس پرواز کر جایا کریں گے۔لیکن ان کھلونوں کا ایک خوفناک اور تباہ کن پہلو بھی ہے جو ممکن ہے امریکی ہاتھی کی سونڈ میں چیونٹی ثابت ہو۔

قارئین ایک دو حقائق پر نظر رکھیں۔۔۔ ایک تو یہ کہ چھوٹے سائز کے جوہری بم پہلے ہی تیار کر لئے گئے ہیں۔۔۔ ان کو ’’بیٹل فیلڈ نیو کلیئر ڈیوائس‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ کسی بھی ٹیکٹیکل میدانِ جنگ میں ان کا استعمال دشمن کی توپوں اور اس کے ٹینکوں کو ناکارہ بنانے میں ایک انقلابی رول ادا کیا کرے گا۔ا مریکہ میں اس رول کے تجربات کئے گئے ہیں اور یہ ’’کامیاب‘‘ بھی ثابت ہوئے ہیں۔۔۔ دوسرے نیو کلیئر بم کی جگہ ’’ڈرٹی بم‘‘ یا ’’گیسی بم‘‘ بھی ایجاد ہو چکے ہیں جن کے تباہ کن اثرات سے دنیا واقف ہے۔ان بموں کا وزن چند پاؤنڈ ہوگا۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ آج کمرشل ڈرونوں میں وزن کی جو حد (10پاؤنڈ یا پانچ کلو گرام) مقرر ہے، یہ ڈرٹی /گیسی بم اسی وزن کے ہوں گے۔ لیکن ان بموں کے اثرات اتنے تباہ کن ہوں گے کہ روائتی بموں کی تباہی کو کہیں پیچھے چھوڑ جائیں گے۔۔۔ وائٹ ہاؤس کی نگرانی پر مامور سیکرٹ سروس ایجنٹ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ اگر آج اس ’’کوآڈ کاپٹر‘‘ کا پیٹ خالی ہے تو مستقبل میں یہ کسی ڈرٹی /گیسی بم سے بھر دیا گیا تو کیا اہلِِ وائٹ ہاؤس اس بربادی سے بچ سکیں گے جو نوشتہ ء دیوار نظر آ رہی ہے؟

آپ کے ذہن میں شائد یہ سوال بھی پیدا ہو کہ چھوٹے وزن اور سائز کے جوہری بم یا گیسی بم یا ڈرٹی بم کون بنائے گا۔۔۔کہ یہ تو انتہائی خفیہ اور پیچیدہ ٹیکنالوجی ہے اور ہر کہ و مہ کی دسترس میں نہیں آ سکتی۔ اس لئے مستقبل قریب و بعید میں ان بموں کی تولید (Production) اور ان کے استعمال کا کوئی خطرہ نہیں۔

لیکن قارئین کو معلوم ہوگا کہ امریکہ یا یورپی ممالک میں عسکری سازوسامان ، گولہ بارود اور ہلکے اور بھاری ہتھیار سب کے سب پرائیویٹ سیکٹر میں بنائے جاتے ہیں ۔ پاکستان میں تو یہ کام واہ فیکٹری میں ہوتا ہے یا ٹیکسلا یا کامرہ میں۔۔۔ لیکن امریکہ/ یورپ میں جگہ جگہ اور شہر شہر ’’واہ فیکٹریاں‘‘ کام کررہی ہیں۔ فرق یہ ہے کہ پاکستانی واہ فیکٹری حکومت کے کنٹرول میں ہے جبکہ امریکی/ یورپی واہ فیکٹریاں حکومتی کنٹرول میں نہیں بلکہ نجی کنٹرول میں ہیں۔ ان نجی اسلحہ ساز کمپنیوں میں اسلحہ ساز ماہرین کی ایک فوجِ ظفر موج بھرتی کی ہوئی ہے جن کے مشاہرے میرے اور آپ کے تصور سے ماوراء ہیں۔ یہ ماہرین ایک فیکٹری چھوڑ کر دوسری فیکٹری میں آتے جاتے رہتے ہیں۔ فرض کریں مستقبل قریب میں اگر یہ ماہرین کمرشل ڈرون سازوں کے ہتھے چڑھ گئے (جس کا امکان ہر گز بعید از قیاس نہیں) تو کیا ہوگا۔

آج ان کمرشل ڈرونوں کو بہت سی نجی کمپنیاں اور فیکٹریاں پروڈیوس کررہی ہیں۔یہ ایک نہایت منافع بخش بزنس قرار دیا جا رہا ہے۔ لیکن کل کلاں اگر ان فیکٹریوں میں کوئی ایک فیکٹری ایسی بھی نکل آئے کہ جو چھوٹے سائز کے جوہری بم سازوں کو ساتھ ملا کر کوئی ایسا ڈرون تیار کرلے جو اوباما کی خواب گاہ تک جا سکتا ہو تو اسے کون روک سکے گا؟۔۔۔ یہی وہ ڈراؤنا خواب (Nightmare)ہے جو امریکی ایڈمنسٹریشن اور سی آئی اے کے کرتا دھرتاؤں کی سونے کی نیندیں حرام کرتا رہتا ہے۔

یہ کوآڈ کاپٹر جو کل رات وائٹ ہاؤس میں کریش ہوا ہے اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ کس فرم کا تیار کردہ تھا، کہاں سے لانچ کیا گیا تھا اور کن لوگوں نے لانچ کیا تھا۔ لیکن میرا خیال ہے کہ ان سوالوں کا کوئی جواب ان کو نہیں مل سکے گا اور اگر آج نہیں مل رہا تو کل کیسے ملے گا؟

مسٹر اور مسز اوباما آج کل بھارت/ سعودی عرب کے دوروں پر ہیں۔ لیکن ان کی بیٹیاں وائٹ ہاؤس ہی میں اپنی نانی/ دادی کے پاس ہیں۔ سیکرٹ سروس ایجنٹوں کی پوری ایک پلٹن وائٹ ہاؤس کے لانوں کو کھنگالنے کے لئے بھاگ دوڑ کر رہی ہے۔ لیکن کل اگر کوئی ڈرون ، اپنی گود میں کوئی جوہری / گیسی بمچہ (Bomblet)لے کر شبستانِ صدر میں کریش ہو گیا تو کیا ہوگا؟

ملٹری ہسٹری کا ایک سبق یہ بھی ہے کہ جو قوم کوئی تباہ کن ہتھیار ایجاد کرتی ہے، اس کے ہاتھوں خود تباہ بھی ہو جاتی ہے۔ یہ موضوع خاصی تفصیل چاہتا اور بڑا دلچسپ ہے۔ کسی آئندہ کالم میں کوشش کروں گا کہ جو قارئین اس حقیقت سے ناآشنا ہیں ان کو اس موضوع پر انفارم اور ایجوکیٹ کروں۔

ہمارے الیکٹرانک میڈیا پر بہت سے عسکری اور دفاعی مبصرین ہر روز رات کو آکر ایسے موضوعات پر عمومی مباحث میں شریک ہوتے ہیں جن کا تعلق دفاع سے نہیں، سیاسیات سے ہوتا ہے۔ میری نگاہ میں ان حضرات کو سیاسی مبصرین کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔ ٹی وی چینل کے پروگرام پروڈیوسروں کو اس طرف دھیان دینا چاہیے اور ایسے حضرات کہ جن کے نام سے پہلے فوجی رینک کا سابقہ لگا ہوتا ہے، اس سابقے کو حذف کرکے انہیں صرف سیاسی مبصرین کہنا اور لکھنا چاہیے۔ میری دوسری گزارش یہ ہوگی کہ ان دفاعی / عسکری ماہرین سے کبھی کبھار دفاعی / عسکری موضوعات پر بھی نقد و نظر کروا لیا کریں۔ پاکستان کو کئی ایسے فوجی مبصروں کی خدمات حاصل ہیں جو یہ کام بطور احسن انجام دے سکتے ہیں۔ ٹیلی ویژن کے ناخداؤں کو قوم کے اس جوہرِ قابل سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

مزید : کالم