محکمہ اینٹی کرپشن میں کرپشن؟

محکمہ اینٹی کرپشن میں کرپشن؟

خبر میں دلچسپی والی بات یہ ہے کہ انسداد رشوت کے محکمہ میں موجودہ ڈائریکٹر نے اس محکمہ میں سے کالی بھیڑوں کے خاتمے کا فیصلہ کرکے کریک ڈاؤن کی ہدایت کی ہے۔ حکم دیا گیا ہے کہ محکمہ اینٹی کرپشن میں موجود کرپٹ ملازمین کا کھوج لگا کر ان کا محاسبہ کیا جائے۔

محکمہ اینٹی کرپشن صوبائی حکومت کا ادارہ ہے اور یہ ایک نیم خود مختار ادارے کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس محکمہ کے اہل کاروں کا فرض ہے کہ وہ صوبائی حکومت کے کسی بھی محکمہ کے کرپٹ ملازم کو پکڑ کر اس کی بدعنوانیوں کی تحقیقات کریں اور ان کو قانون کے مطابق سزا دلائیں۔ اس شعبہ والے از خود کارروائی کا بھی اختیار رکھتے ہیں لیکن زیادہ تر یہ ہوتا ہے ۔یہ محکمہ کسی ملازم کے خلاف رشوت ستانی کی شکایت یا درخواست آنے پر متعلقہ شکائت کنندہ کو نشان زدہ کرنسی نوٹ دیتا ہے جو رشوت خور سرکاری ملازم کو پیش کی جاتی ہے اور متعلقہ اہلکار موقع پر ہی ملوث ملازم کو پکڑ کر کرنسی برآمد کر لیتا ہے۔پھر اس کے بعد کی تمہید طولانی ہے کہ موقع سے گرفتار ہونے والا بعد میں کارروائی میں کس طرح بے گناہ قرار دیاجاتا ہے، یا پھر بالآخر عدالت سے بری ہو کر باعزت طور پر بحال ہو جاتا ہے، انسداد رشوت ستانی والوں کی طرف سے از خود کارروائی کرکے بدعنوان ملازمین کی بدعنوانیوں کا پردہ چاک کرنے کے واقعات خال خال ہی ہیں، یہاں بھی کسی کی طرف سے درخواست آنے پر ہی کارروائی شروع کی جا تی ہے اور پھر؟

محکمہ انسداد رشوت ستانی کی یہ شہرت کہ یہ شعبہ خود کرپشن میں مبتلا ہے آج سے نہیں عرصہ پہلے سے ہے کہ اس شعبہ میں بھی اہلکار پولیس ہی سے لئے جاتے ہیں یا پھر کسی اور متعلقہ محکمے سے خدمات مستعار لی جاتی ہیں اس لئے اس شعبہ کے ملازمین کے خلاف بھی شکایات عام ہیں کہ کرپشن ختم کرنے کا ذمہ دار شعبہ / محکمہ خود کرپشن کا گڑھ بن گیا ہے۔

اب اگر کسی افسر نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ انسداد رشوت ستانی کے اس محکمہ کو ہی پہلے کرپٹ ملازمین سے نجات دلانا ہے تو ان کی استقامت اور کامیابی کے لئے دعا کرنا چاہیے اور ان ڈائریکٹر صاحب کی خدمت میں یہ بھی عرض ہے کہ وہ مطالعہ کریں تو ان کو اس امر کے واضح ثبوت مل جائیں گے کہ سرکاری ملازمین اور بعض عہدیداروں کے خلاف تحقیقات کس مرحلے پر ہے اور ان کو کس طرح نمٹایا جاتا ہے اگر محکمہ کی زیر التواء فائلیں ملاحظہ کرلی جائیں تو اس حقیقت کا ادراک ہو جائے گاکہ یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ صفائی کے لئے کام شروع کرنے سے پہلے ان کو اس مرض کی شفایابی کے لئے مستند ، تجربہ کار اور ایماندار اہلکار تلاش کرنا ہوں گے۔

مزید : اداریہ