آرمی چیف کا دورہ چین

آرمی چیف کا دورہ چین

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے پاکستان کے ہمسایہ دوست ملک چین کا دو روزہ دورہ کیا، اس موقع پر چین کی اعلیٰ قیادت نے پاکستان کے خدشات کو اپنے خدشات قرار دیا۔ آرمی چیف نے چین کی وزیر خارجہ مس مینگ سے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر وزیر خارجہ نے کہاکہ پاکستان چین کا آزمودہ دوست ہے، دونوں ملکوں کی دوستی شخصیات سے ماورا ہے، پاکستان کے تحفظات چین کے تحفظات ہیں۔ پیپلزکانفرنس کے چیئرمین یو ڈینگ شینگ نے ملاقات کے دوران ان کو یقین دلایا کہ پاکستان کا کوئی متبادل نہیں ہوسکتا ، دونوں ملکوں کی منزل ایک ہے، دوست ملک کی ہر سطح پر مدد کی جائے گی۔ چین کے وائس چیئرمین سنٹرل ملٹری کمیشن جنرل فان نے دہشت گردی کے خلاف قومی اتفاق رائے کو سراہتے ہوئے کہا کہ بلاتفریق آپریشن ضربِ عضب دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی ثابت ہو رہا ہے۔انہوں نے پاک چین دوستی کو فولادی قرار دیا۔ جنرل راحیل شریف نے چینی قیادت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی حمایت اور تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے عالمی تعاون ضروری ہے۔ انہوں نے پاکستان سے دہشت گردی کے ناسور کو ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کا عزم بھی دہرایا اورکہاکہ پاک فوج کو قوم کا تعاون حاصل ہے ، دہشت گردی کے خاتمے کے لئے آخری حد تک جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق اس موقع پر دونوں ملکوں کے درمیان انٹیلی جنس شیئرنگ کا فیصلہ کیا گیا اور چین نے دفاعی شعبے میں بھر پور تعاون کا یقین بھی دلایاساتھ ہی ساتھ چین نے خطے کی صورت حال اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے پاکستان کے موقف کی مکمل تائیدبھی کی۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ چین پاکستان کا اچھے برے وقت کا ساتھی ہے، دونوں کے سفارتی تعلقات 64 سال پرانے اور مستحکم ہیں۔چین نے پاکستان کی ہمیشہ ہر شعبے میں معاونت کی ہے، پاکستان میں موجود کئی پراجیکٹ دونوں ممالک کے ’اٹوٹ ‘ بندھن کے گواہ ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے چین کے حالیہ دورے کے دوران انرجی بحران پر قابو پانے کے لئے19 معاہدے کئے، اس کے علاوہ چین نے پاکستان میں 40 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کابھی اعلان کیا۔

پاکستان کے دفاعی نظام کو مضبوط کرنے میں بھی چین کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔1972 ء میں دونوں ممالک کے درمیان سٹرٹیجک الائنس ہوا، 1966ء میں چین نے پاکستان کو اس وقت مدد فراہم کی جب امریکہ نے اسلحے کی فروخت پر پابندی لگادی تھی ،1971 ء میں ٹیکسلا میں ہیوی مشینری کی صنعت لگائی ،جہاں آج پاکستان اپنے ٹینک خود بنا رہا ہے، نیوی کا پی این ایس شجاعت بھی چین کے تعاون ہی سے بنایا گیا۔سب سے بڑھ کرپاکستان میں جوہری پاور پلانٹ کے لئے مدد کا ہاتھ بھی چین نے ہی بڑھایا تھا،چین نے جوہری انفراسٹرکچر کھڑا کرنے میں پاکستان کی بھرپور مدد کی اور پاکستان نے پہلا فائٹر طیارہ ایف جے تھنڈر بھی چین کے تعاون ہی سے بنایا۔

جس طرح ہر مشکل گھڑی میں چین نے پاکستان کا ساتھ دیا ہے اسی طرح چین نے پاکستان میں آپریشن ضربِ عضب کی بھی حمایت کی اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے وہ پاکستان کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل رہا ہے،پاکستان میں شدت پسندوں کے خاتمے سے پاکستان سے ملحقہ چینی صوبے ژیانگ میں موجود ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم)کا زور بھی ٹوٹ جائے گا۔ ان کے بارے میں چین کو تسلیم ہے کہ ان کو شمالی وزیرستان اور افغانستان میں موجود شدت پسند تربیت دے رہے ہیں۔دونوں ممالک اس سے قبل پاک چین بارڈر کے تحفظ کے لئے تعاون پربھی اتفاق کر چکے ہیں۔

بعض حلقوں کے نزدیک جنرل راحیل کا یہ دورہ امریکی صدر کے دورہ بھارت کا جواب ہے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ پاکستان کی امریکہ سے کوئی لڑائی نہیں ہے ، صدر اوباما بھارت آئے اور پاکستان نہیں آئے یہ ان کا اپنا فیصلہ تھا ،اس سے پاکستا ن کو ڈرنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے، ہر ملک کے دوسرے ملک کے ساتھ اپنے تعلقات ہیں۔پاکستان کو اس خطے میں نظر انداز کر کے کوئی بھی منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکتا،پاکستان کی اس خطے میں مرکز ی حیثیت ہے۔ افغانستان میں پاکستان کی معاونت کے بغیر بھارت کاکسی قسم کا کوئی کردار نہیں ہو سکتا اور امریکہ کو بھی اس کردار کا پورا ادراک ہے،اس خطے میں بھارت عدم توازن پیدا نہیں کر سکتا۔ ویسے بھی ایک خبر کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے ان کیمرہ اجلاس میں یہ انکشاف بھی کیاگیاکہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے امریکی حکام کو پاکستان میں بھارتی مداخلت کے ثبوت پیش کر دیئے ہیں۔آرمی چیف نے امریکہ کو اگر بھارتی در اندازی کے ثبوت فراہم کئے ہیں تو یقیناًچین سے بھی اس معاملے پر بات چیت ہوئی ہو گی ۔

جنرل راحیل شریف کے دورہ چین کو ایک کامیاب دورہ قرار دیا جا سکتا ہے، خطے میں امن کا توازن بر قرار رکھنے کے لئے یہ دورہ انتہائی اہمیت کا حامل اور بروقت تھا۔اب چین کے صدر کے اگلے ماہ پاکستان آنے کی بات بھی ہورہی ہے، ان کا آنا گزشتہ سال ستمبر میں طے تھا، لیکن دھرنے کی باعث سیکیورٹی کلیئرنس نہ ہونے کی وجہ سے وہ نہیں آ سکے تھے،اب ان کا آنا یقیناًخوش آئند ہے۔اس سے پوری دنیا کو واضح پیغام ملا ہے کہ پاکستان اور چین کی دوستی کے آڑے کوئی بھی رکاوٹ نہیں آ سکتی، دونوں ممالک انتہائی گرمجوشی کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پاکستان کو چین کا مکمل تعاون حاصل ہے اور ہمیشہ رہے گا۔

مزید : اداریہ