دسمبر 2014 ء کے دوران بر آمدات 23 ،ترسیلات زر 20 فیصد بڑھ گئیں

دسمبر 2014 ء کے دوران بر آمدات 23 ،ترسیلات زر 20 فیصد بڑھ گئیں

اسلام آباد (اے پی پی) سٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق دسمبر2014ء کے دوران ملک کے کرنٹ اکاؤنٹ میں 76ملین ڈالر کا اضافہ متوقع ہے جس کا بنیادی سبب عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں سمیت دیگراشیاء کی قیمتوں میں ہونے والی کمی ہے۔ گذشتہ مالی سال کے مقابلہ میں رواں مالی سال2014-15ء کے پہلے چھ ماہ کے دوران ملک کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 18 فیصد کااضافہ ہوا ہے۔ گذشتہ مالی سال میں جولائی تا دسمبر2013ء کے دوران ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ2.001ارب ڈالر تھا جو جاری مالی سال میں جولائی تا دسمبر2014ء کے دوران بڑھ کر2.362 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ سٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق نومبر2014ء کے مقابلہ میں دسمبر2014ء کے دوران ملکی برآمدات میں 22.6 فیصد جبکہ سمندر پارمقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جاانے والی ترسیلات زر میں 19.8 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ نومبر2014ء کے اختتام پر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ568 ملین ڈالر رہا تھا جبکہ نومبر2014ء میں تجارتی خسارہ1.222 ارب ڈالرتھا جو دسمبر2014ء کے دوران کم ہوکر1.091 ارب ڈالر ہوگیا۔ ایس بی پی کی رپورٹ کے مطابق نومبر2014ء کے دوران سمندر پار پاکستانیوں نے 1.321 ارب ڈالر کی ترسیلات زر کی تھیں جو دسمبر2014ء میں بڑھ کر1.583 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔   تیل و دیگر مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اورملکی برآمدات و ترسیلات زر میں ہونے والے اضافے کے نتیجہ میں ملک کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں نہ صرف کمی واقع ہوئی بلکہ دسمبر2014ء کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ میں 76 ملین ڈالرکا اضافہ ہونے کی توقع ہے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں سیاسی بدامنی اوربجلی کے مسائل کی وجہ سے ملکی برآمدات میں اضافہ متاثر ہورہا ہے تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جاری مالی سال2014-15ء کے اختتام تک ملکی معیشت میں نمایاں بہتری واقع ہوگی جس سے روزگار کی فراہمی اور بے روزگاری میں کمی کے حوالہ سے مدد حاصل ہوگی۔

مزید : کامرس