سرحد پار کا منفی رویہ ترقی میں رکاوٹ ہے ‘گورنر مقبوضہ کشمیر

سرحد پار کا منفی رویہ ترقی میں رکاوٹ ہے ‘گورنر مقبوضہ کشمیر

جموں(کے پی آئی)مقبوضہ کشمیر کے ریاستی گورنر این این ووہرا نے ترقی وخوشحالی کیلئے امن اور معمول کے حالات کو ضروری قرار دیاہے ۔یوم جمہوریہ کے موقعہ پرمولانا آزاد سٹیڈیم جموں میں ترنگا لہرانے کے بعد اپنے خطاب میں گورنر نے کہاکہ سرحد پارسے مسلسل منفی رویہ اورامن و معمول کے حالات کو درپیش چیلنجوں کی وجہ سے جموں کشمیر کی ترقی و خوشحالی کی راہ میں مشکلات کا سلسلہ جاری ہے ۔ریاستی پولیس، بی ایس ایف اور فوج کی سراہناکرتے ہوئے گورنر نے کہاکہ یوم جمہوریہ تقریبات منانے کے وقت ہمیں ملک کے ان اہم لیڈروں کو بھی یاد رکھناچاہئے جنہوں نے ہندوستان کی آزادی کیلئے اپنی جانیں قربان کردیں ۔ان کاکہناتھاکہ ہر شہری کی یہ ذمہ داری ہے کہ محنت و مشقت کے بعد حاصل ہوئی آزادی کو محفوظ رکھے اور قومی یکجہتی پر آنچ نہ آنے دی جائے ۔ریاست میں بہت جلد نئی حکومت کی تشکیل کی امید کا اظہار کرتے ہوئے گورنر نے کہامیں پر امید ہوں کہ ریاست میں بہت جلد گورنر راج کا خاتمہ ہوگااور عوام کے منتخب نمائندے حکومت تشکیل دے کر جموں کشمیر کے معاملات چلائیں گے ۔گزرے سال کو کئی لحاظ سے اہم گردانتے ہوئے گورنر نے کہاکہ 2014میں پہلے لوک سبھا کے انتخابات ہوئے جن میں 2009کے انتخابات کے مقابلے میں زیادہ لوگوں نے شرکت کی ،پھر اس کے بعد حال ہی میں ریاستی اسمبلی کیلئے انتخابات ہوئے جن میں سیلاب سے متاثر اور کئی قسم کی مشکلات کا شکار ہونے و دھمکیوں کے باوجود لوگوں نے بہت بڑی تعداد میں حق رائے دہی کا استعمال کرکے جمہوری طریقہ کار کو مضبوط کیا ۔

ان کاکہناتھاریاستی اسمبلی کے کامیاب انتخابات جوصاف و شفاف رہے ،کے بعد میں یقین رکھتاہوں کہ حاصل ہوا منڈیٹ بہت جلد نئی حکومت کی صورت میں سامنے آئے گا۔گزشتہ برس جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے گورنر نے کہاکہ یہ سنگین معاملہ ہے کہ گزشتہ سال پاکستان کی طرف سے مسلسل سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیاں کی گئیں اور حد متارکہ و بین الاقوامی سرحد سے دراندازی کی کوششیں ہوئیں، جموں خطے میں بین الاقوامی سرحد کے قریب دو دہشت گردانہ حملے ہوئے اور اس پار سے فائرنگ کے نتیجہ میں سرحد کے قریب رہ رہے لوگوں کی جانیں تلف ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے مکانات و جائیداد بھی تباہ ہوئے ۔گزشتہ سال آئے تباہ کن سیلاب کا تذکرہ کرتے ہوئے ووہرا نے کہاگزشتہ برس ستمبر کے مہینے میں ہوئی بارش سے ریاست کے بیشتر حصوں میں سیلاب آگیا جس سے انسانی جانوں کا ضیاں ہونے کے ساتھ ساتھ بہت بڑے پیمانے پر مال وجائیداد تباہ ہوئی ،حکومت کے تخمینہ کے مطابق 15لاکھ خاندان سیلاب سے متاثر ہوئے ، کئی پل اور سڑکیں تباہ ہوئیں ، پانی اور بجلی و طبی نظام تباہ ہوگیا۔ کشمیر وادی میں ڈیڑھ لاکھ کے قریب پھنسے لوگوں کو نکالاگیا جبکہ جموں میں بھی ہزاروں کو محفوظ مقامات تک پہنچایاگیا۔

مزید : عالمی منظر