گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف امت مسلمہ کا اتحاد ضروری

گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف امت مسلمہ کا اتحاد ضروری
گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف امت مسلمہ کا اتحاد ضروری

  

جوہانسبرگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بیورو چیف ندیم شبیر کی رپورٹ

فرانسیسی اخبار کے گستاخانہ خاکے شائع کرنے پر پوری مسلم امہ میں اس وقت شدید غصہ پایا جا رہا ہے اور جس کی وجہ سے ہر ملک کے مسلمانوں نے فرانس کی ہر طرح سے بائیکاٹ کرنا شروع کر دیا ہے یہ سارا کام ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ہوا ہے اور اب مسلمانوں کے لئے یہی وقت ہے ایک ہونے کا پتہ نہیں سعودی حکومت ایسے موقعوں پر خاموش کیوں ہو جاتی ہے اور ایسے موقعوں پر مفتی اعظم کوئی فتوا جاری کیوں نہیں کرتے لیکن ضمیر اپنے اپنے ایمان کی بات ہے پوری دنیا میں اس وقت فرانس کے خلاف جو غصہ پایا جا رہا ہے اس کی مثال اور کیا ہو گی کہ ان ملکوں میں لوگوں نے ہڑتالیں ، جلوس اور ریلیاں نکال کر ایک سچا مسلمان ہونے کا ثبوت دیا ہے اور کئی مسلم ملکوں نے تو فرانسیسی سفیروں کو ملک بدر بھی کر دیا ہے اور فرانسی کے ساتھ مکمل طرح کا بائیکاٹ کر دیا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ اس موقع پر ہمارے حکمران کیا ایکشن لیتے ہیں دہشتگردی کے خلاف تو پورے پاکستان کی سیاسی جماعتیں ایک ہو گئی تھیں کیا یہ کھلی دہشتگردی نہیں کہ کسی ملک کا اخبار ہمارے آقا کی شان میں گستاخی کرے اب ایک دفعہ پھر وقت آ گیا ہے ساری جماعتوں کو مل کر فرانس کی ایسی گستاخانہ حرکت کا جواب دینے کا اور اسمبلی سے ایک ایسے بل کے پاس کئے جانے کا کہ اگر کوئی بھی ملک ہمارے آقا کی شان میں گستاخی کرے تو اس کے ساتھ ہم مکمل اور ہر طرح کا بائیکاٹ کریں۔ہماری حکومت کو بھی فرانس کے سفیر کو فوری طور پر ملک بدری کا حکم دینا چاہئے تاکہ پھر کسی کی ہمت نہ ہو ہمارے آقا کی شان میں گستاخی کرنے کی مغربی ملکوں نے ہمیشہ سے ہی مسلمانوں کی دل آ زاری کی ہے اخبار کے دفتر پر حملہ اور یہ سب کچھ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ہوا ۔ فرانس جیسے ملک میں جہاں چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی وہاں پر اتنا بڑا حادثہ کیسے ہو سکتا ہے ۔یہ سب مسلمانوں کے خلاف ایک سازش کے تحت جال پھیلایا گیا ہے اگر حالات دیکھے جائیں تو پوری دنیا میں اس وقت مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا جا رہا ہے ۔فلسطین، عراق، شام ، مصر، لیبیا اور کئی دوسرے ملکوں میں ایک سازش کے تحت مغربی ملکوں نے حملے کئے اور مسلمان، مرد، عورتوں بچوں اور بوڑھوں کو شہید کیا گیا اور پوری دنیا تماشائی بنی تماشا دیکھتی رہی اور سپر پاوروں نے ایک ایک کر کے سب کو اپنی زیادتی کا نشانہ بنایا ۔اب پوری دنیا کے مسلمانوں کو بھی اتحاد کرنا ہو گا ہم لوگوں کو دیکھانا ہو گا کہ ہمارا سب کچھ اپنے آقا کریم پرقربان ہے اور ہم ان کی شان میں گستاخی ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔

مزید : عالمی منظر