اسلام آباد

اسلام آباد

اسلام آباد سے ملک الیاس

موسم سرما کے باوجود ملک میں بجلی کا بحران شدید ہوتا جارہا ہے گیس پہلے ہی عوام کو نہیں مل رہی پھر اچانک پٹرول کا بحران آگیا ابھی اس سے عوام سنبھلے ،حکومت نے کسی حد تک پٹرول بحران پر قابو پالیا تو عوام کو بجلی کے طویل بریک ڈاؤن کاجھٹکا لگایا گیا اب بھی شہری اور دیہی علاقوں میں 12سے 16گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کاسلسلہ جاری ہے ،ایک طرف عوام مختلف بحرانوں سے نبردآزما ہیں تو دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان جوڈیشل کمیشن کے قیام کے حوالے سے بیانات کاسلسلہ جاری ہے جبکہ تیسری جانب سینٹ کے الیکشن مارچ میں ہونے والے ہیں سینٹ الیکشن کے حوالے سے جہاں سیاسی جماعتوں نے امیدواروں سے درخواستیں طلب کرلی ہیں وہاں کچھ جماعتوں نے ریٹائرڈ ہونیوالے سینیٹرز کو ہی آئندہ سینٹ کاامیدوار بنانے کا فیصلہ کیا ہے مسلم لیگ ن کی طرف سے زیادہ تر اپنے سابق سینیٹرز کو ہی سینٹ کے الیکشن میں اتارنے کی اطلاعات ہیں۔

بھارت کے یوم جمہوریہ پر دنیا بھر کی طرح اسلام آباد راولپنڈی میں رہائش پذیر کشمیریوں نے بھی یوم سیاہ منایا ،اس موقع پر کشمیریوں نے آزادی کے حق میں ریلیاں،جلسے جلوسوں کا انعقاد کیا اور قراردادیں منظور کیں،اقدام متحدہ کے دفاتر میں قراردادیں بھی پیش کی گئیں،اسلام آباد میں آل پارٹیز حریت کانفرنس کی طرف سے اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماؤں اور صدار آزادکشمیر سردار یعقوب خان نے بھی شرکت کی۔احتجاج کے دوران شرکاء نے بھارت کے خلاف اور تحریک آزادی کے حق میں شدید نعرے بازی کی۔ اس موقع پر اقوام متحدہ کے مبصر مشن کو یادداشت پیش کی گئی جس میں اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنی قرار دادوں پر عمل کرائے اور بھارت پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار اور حق خود ارادیت دے۔یادداشت میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا بھی ذکر کیا گیا اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ بھارت کی ریاستی دہشتگردی کے خاتمے کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔ صدرآزاد کشمیر سردار یعقوب خان کاکہنا تھا کہ کشمیری اپنے حق کیلئے احتجاجی مظاہرہ کررہے ہیں ،جمہورت کی بات کرنیوالا ہندوستان کشمیریوں کے ساتھ ظلم کررہا ہے ایک طرف بندوق کی نوک پہ مقبوضہ کشمیر میں ووٹ ڈلواتا ہے اوروہا ں جیت بھی نہیں سکا اور وہا ں پر گورنر راج ہے ،کشمیری پوری دنیا میں سراپا احتجاج ہیں ، امریکی صدر براک اوباما سے کہتے ہیں کہ آپ سے ہمیں امید تھی کہ مسئلہ کشمیر کیلئے کوئی اقدامات کرینگے ،بھارتی کو سیکیورٹی کونسل کا ممبر بنانا زیادتی ہے سیکیورٹی کونسل کا ممبر بننے کیلئے امریکا منظوری دے گا تو کشمیر کا بچہ بچہ سر پہ کفن باندھ کر وہی کام کرے گا جو ہمارے آباؤ اجداد نے 1947میں کیا ، کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جائے ۔

وزیر اعظم نوا زشریف نے ملکی موجودہ سیاسی ‘ معاشی و اقتصادی اور دہشت گردی کیخلاف جاری جنگ سمیت سیکیورٹی کی صورتحال پر اپنے قریبی رفقاء سے 8 گھنٹے کی طویل مشاورت کی ہے‘ اس مشاورت میں وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف ‘ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان ‘ وزیر خزانہ اسحاق ڈار شریک ہوئے، وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی نے شرکاء کو دہشت گردی کیخلاف جاری حالیہ اقدامات اور نیشنل ایکشن پلان پر اب تک ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا او راس بات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کی رفتار کافی حد تک تسلی بخش ہے تاہم اس میں مزید تیزی اور بہتری لائی جائیگی، طویل مشاورت میں پٹرول اور بجلی کے حالیہ بحران سے پیدا صورتحال کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا اور اس حوالے سے وزارت پانی و بجلی اور وزارت پٹرولیم کی کارکردگی خصوصی طو رپر زیر بحث رہی، وزیر اعظم اور تینوں اہم شرکاء نے مارچ میں سینٹ کے انتخابات کے حوالے سے بھی صورتحال کا جائزہ لیا ،اس بات کو یقینی بنایا جائیگا کہ سینٹ میں مسلم لیگ (ن) 30 سے زائد نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے، سینٹ کی 52 نشستوں پر انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد وفاقی کابینہ میں ردوبدل بھی کیا جائیگا ۔

پاکستان علما کونسل کے زیر اہتمام گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس میں اس وقت بدمزگی پیدا ہوگئی جب پرویز رشید کے خطاب کے دوران تحریک انصاف کے فیاض الحسن چوہان نے ہنگامہ آرائی شروع کردی اور اے پی سی سے اٹھ کر چلے گئے اس موقع پر تحریک انصاف کے دیگر رہنماؤں نے ساتھ نہیں دیا،فیاض الحسن کے رویے پر کانفرنس کے منتظمین نے شدیدبرہمی کا اظہارکیا، فیاض الحسن نے پرویز رشید پر الزام لگایا کہ وہ گستاخانہ خاکوں پر مسلمانوں کی صحیح نمائندگی نہیں کر رہے،جواب میں پرویز رشید کا کہنا تھا کہ گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر جس طرح کا بھی تعاون چاہیے ہو گا، حکومت شانہ بشانہ ہو گی۔ منتظمین نے انہیں خاموش رہنے کی ہدایت کی جس پر وہ طیش میں آکر تقریب سے اٹھ کر چلے گئے تاہم علی محمد خان سمیت ان کی جماعت کے دیگر ارکان آخر تک وہیں موجود رہے۔کانفرنس میں وفاقی وزیراطلاعات نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جوڈیشل کمیشن کے حوالے سے تحریک انصاف کا چیلنج قبول کرلیا،انکا کہنا تھا کہ ہم براہ راست مذاکرے کے حوالے سے اسد عمر اور تحریک انصاف کی طرف سے دن، وقت اور جگہ کے تعین کا انتظار کریں گے، تحریک انصاف کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر شیریں مزاری نے وفاقی وزیراطلاعات و نشریات کے بیان پر انہیں بے اختیار قراردیدیاانکا کہنا تھا کہہ پرویز رشید نہ جانے کس حیثیت میں عدالتی کمیشن کے قیام پر مناظروں اور مباحثوں کے چیلنج کرنے میں مصروف ہیں۔ تحریک انصاف مئی 2013کے عام انتخابات میں وسیع دھاندلی کے حوالے سے تمام تر تفصیلات قوم کے سامنے رکھ چکی ہے جبکہ چیئرمین تحریک انصاف نے اس حوالے سے معاملات کو حتمی شکل دینے اور حکومتی مذاکراتی وفد سے بات چیت کا عمل مکمل کرنے کیلئے اپنی کمیٹی کو مکمل اختیارات سونپے جبکہ حکومتی مذاکراتی وفد یکسر بے اختیار نظر آتا ہے۔ حکومت کا مذاکراتی وفد قیات سے مشاورت کی آڑ میں ہفتوں منظر عام سے غائب رہتا ہے تاہم تحریک انصاف اس حوالے سے پوری طرح تیار ہے۔

مزید : ایڈیشن 1