کراچی

کراچی

کراچی سے نصیر احمد سلیمی

سندھ میں اس بار کئی موضوعات زیر بحث ہیں جن پر بات ہو سکتی ہے۔ کیا تحریک انصاف کے چار ارکان کے استعفوں کے اعلان سے سینٹ میں کسی کو فائدہ ہوگا؟ کیا سینٹ کے الیکشن میں تحریک انصاف کے ارکان ووٹ ڈالیں گے؟ کیونکہ قانونی طور پر وہ اس وقت تک اسمبلی کے رکن ہیں جب تک سپیکر سندھ اسمبلی ان کے استعفے منظور ہونے کی اطلاع الیکشن کمیشن کو نہیں دے دیتے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ابھی تک تحریک انصاف کے استعفوں کی منظوری کی اطلاع اسے نہیں دی گئی ۔ پھر اہم بات یہ ہے کہ کیا عمران خان اپنے ارکان کو سینٹ کے الیکشن میں ووٹ ڈالنے کی اجازت دیں گے یا نہیں؟ یہ معاملہ طے ہو جائے تو اندازہ ہو گا کہ مارچ میں ہونے والے سینٹ کے الیکشن میں پیپلزپارٹی ، ایم کیو ایم کو کتنی کتنی نشستیں حاصل ہوں گی اور باقی اپوزیشن کی نشستوں پر بیٹھنے والی جماعتوں کو سینٹ میں کتنا حصہ ملے گا۔ دوسرا اہم موضوع ہے کراچی میں گستاخانہ خاکوں کے خلاف بھرپور احتجاج کا۔ اگر یہ احتجاج کرنے والی جماعتیں الگ الگ کی بجائے ایک ساتھ ایک جگہ احتجاج کرنے کا اہتمام کرنے میں کامیاب ہو جاتیں تو بلاشبہ اتوار کو ہونے والا یہ احتجاج پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا احتجاج کہا جاتا ، تاہم اس ضمن میں ہونے والے تمام پروگرام بڑے کامیاب تھے۔ جماعت اسلامی کی ملین مارچ کے نام سے ہونے والی احتجاجی ریلی بھی ایک بڑا اور شاندار شو آف پاور تھی اور بھارت اور امریکہ کو مطلوب مذہبی رہنما حافظ محمد سعید کی زیر قیادت نکلنے والی جماعت الدعوہ کی ریلی بھی اپنے شرکاء کی تعداد کے اعتبار سے ایک بہت بڑی احتجاجی ریلی تھی۔25جنوری کو بھی مزار قائد کے قریب نمائش چورنگی پر جمعیت علمائے پاکستان (نورانی گروپ) کے صاحبزادہ ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر کی سربراہی میں جو کانفرنس ہوئی وہ بھی خاصی بڑی تھی۔

جماعت اسلامی کے مرکزی امیر جناب سراج الحق کی زیر قیادت نکلنے والی ’’شان رسالتﷺ‘‘ ’’ملین مارچ‘‘ کے احتجاج کو کامیاب بنانے میں جماعت اسلامی کراچی کے جواں ہمت نوجوان امیر انجینئر حافظ نعیم الرحمن نے اپنے کارکنوں کو بھی متحرک کیا اور ساتھ ہی اس ریلی کے حق میں تمام دینی مسالک کے زعماء اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی تائید بھی حاصل کی۔ ’’شان رسالتﷺ‘‘ کی حرمت کے لئے نکالی جانے والی ریلی کی حمایت کرنے والے علماء میں دارالعلوم کورنگی کے مہتمم محترم مفتی محمد رفیع عثمانی بھی اور رویت ہلال کمیٹی کے سربراہ محترم مفتی منیب الرحمن اور مولانا محمد یوسف نبوری(مرحوم) کے مدرسہ جامعہ بنوری ٹاؤن کے مہتمم ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر بھی اور جامعہ احسن العلوم گلشن اقبال کے مفتی زرولی خان اور جامعہ اشرف المدارس کے بانی حکیم محمد اختر مرحوم کے صاحبزادے حکیم مظہر حسنین اور شیعہ علماء کونسل کے رہنما علامہ ناظر عباس نقوی اور جمعیت غربائے اہل حدیث کے علامہ محمد سلفی اور جمعیت اہل حدیث کے رہنما علامہ محمد یوسف قصوری، مدرسہ قمرالاسلام پنجاب کالونی کے سید عظمت علی ہمدانی اور جامعہ بنوریہ عالمیہ سائٹ کے مہتمم مفتی محمد نعیم اور جامعہ اسلامیہ کلفٹن کے مہتمم مفتی محی الدین اور جمعیت اتحاد العلما کے مولانا عبدالرؤف اور مولانا عبدالوحید بھی شامل تھے، جبکہ مسلم لیگ (ن) پاکستان پیپلزپارٹی ، تحریک انصاف، جمعیت علمائے اسلام (ف) جمعیت علمائے پاکستان (نورانی گروپ) پاکستان عوامی تحریک، ڈاکٹر اسرار احمد (مرحوم) کی تنظیم اسلامی نے نہ صرف تائید کی بلکہ مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما سلیم ضیاء ایڈووکیٹ نے پاکستان پیپلزپارٹی کراچی کے اہم رہنما نجمی عالم، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سندھ کے قائم مقام سیکرٹری جنرل اسلم غوری اور تحریک انصاف کراچی کے رہنما آفتاب جہانگیر نے خطاب بھی کیا۔ ’’شان رسالتﷺ‘‘ ریلی کی حمایت کراچی پریس کلب ،کراچی چیمبر آف کامرس اور ہیومن رائٹس نیٹ ورک نے بھی کی۔

دینی و سیاسی جماعتیں گستاخانہ خاکوں کے خلاف اگر مشترکہ طور پر اپنی اپنی سیاسی جماعتوں کے الگ الگ جھنڈوں کے بجائے حرمت رسول ؐ کے ایک پرچم تلے احتجاج کرتیں تو دنیا بھر میں اس کا پیغام اور تاثر بہت مثبت جاتا۔ مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب نے بڑا صائب مشورہ دیا تھا کہ ہمیں اس ایشو پر مکمل یگانگت اور یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ تب ہی گستاخانہ خاکوں کی پشت پناہی کرنے والی طاقتور قوتوں کو موثر پیغام دیا جا سکتا ہے۔ جماعت اسلامی کی ریلی سے دوسری سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین کا خطاب اور جماعت الدعوۃ کی ریلی میں جماعت اسلامی کے مرکزی نائب امیر اسد اللہ بھٹو ایڈووکیٹ کی شرکت قابل تحسین ہے۔ اس سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ آنے والے دِنوں میں مفتی محمد رفیع عثمانی کے صائب مشورہ پر عمل کر کے ساری سیاسی و مذہبی جماعتیں ایک پلیٹ فارم سے شان رسالتؐ کی حرمت پر مر مٹنے والوں کا ایسا تاریخ ساز اجتماع کر پائیں، جس کی کوئی نظیر پاکستان کی تاریخ میں اس سے قبل دیکھنے کو نہیں ملتی؟ اگر قائدین نے قابل عمل اشتراک کے لئے اپنی اپنی جماعتوں کی شناخت کے بجائے پاکستان کے قومی پرچم کے سائے میں ریلی نکالنے کا فیصلہ کیا تو اس سے فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے والوں پر بھی کاری ضرب لگے گی۔پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ ماضی میں جب بھی اس طرح کے مواقع پر قائدین نے اتحاد کا مظاہرہ کیا۔ فتنہ و فساد پھیلانے والی قوتوں کی پسپائی ہوئی۔ ’’حرمت رسول ؐ ‘‘ پر مر مٹنا ہر مسلمان کا بنیادی عقیدہ ہے۔ مسلم ریاستوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاملے میں مسلمانوں کے جذبات بھڑکانے والی قوتوں کی پشت پناہی کرنے والے مغربی ممالک سے سفارتی سطح پر اس کی روک تھام کے لئے موثر کردار ادا کرے، اس کے ساتھ ہی مسلم دانشوروں کو بھی مغربی دانشوروں کے ساتھ مکالمہ کر کے اقوام متحدہ کے چارٹر میں تمام انبیائے کرام کی توہین روکنے کے لئے ایسی موثر قانون سازی کرائے، جس سے اظہار رائے کی آزادی کی آڑ لے کر شر انگیزی کرنے کی گنجائش نہ رہے۔

ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب ایم کیو ایم کے زیر اہتمام نائن زیرو سے متصل بلدیہ عظمیٰ کے پارک جناح گراؤنڈ میں ’’ذکر محفل میلاد مصطفی ؐ ‘‘ کے عنوان سے اجتماع ہوا، جس میں ایم کیو ایم سے وابستہ کارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس اجتماع سے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے سیرت طیبہ کے حوالے سے خطاب کیا۔ جناب الطاف حسین کا یہ کہنا تو بجا ہے کہ کسی ’’ملعون کے گستاخانہ خاکے بنانے سے حضور اکرم ؐ کی شان میں کوئی فرق نہیں پڑتا‘‘ ، مگر سوال دوسرا ہے کہ شان رسالتؐ گستاخی کرنے والوں کو کیسے باز رکھا جائے؟ یہ مسلمانوں کے بنیادی عقیدے کے تحفظ کا مسئلہ ہے۔اس کا حل تلاش کریں۔ فتنہ و فساد کو روکنا ہے تو اس کے لئے مسلمانوں کے قائدین کو سر جوڑ کر بیٹھنا پڑے گا اور اپنے اپنے سیاسی اور گروہی مفادات کی قربانی دینا پڑے گی، تب ہی یہ ممکن ہو گا کہ مسلم ریاستوں کے حکمران سفارت کاری کو بروئے کار لا کر مغربی اقوام کو کوئی واضح پیغام دیں یا نہیں کہ توہین رسالت ؐ کے مرتکب افراد کی سرگرمیوں کو روکیں۔ آزادئ اظہار کے پردے میں حمایت کے بجائے روکنے کی پہل کریں، توہین کے مرتکب افراد کو قرار واقعی سزا دلانا ہی سب کے لئے عافیت اور سلامتی کا راستہ ہے۔ بصورت دیگر مسلمانوں کے جذبات کو ٹھنڈا کرنا کسی کے بس میں نہیں رہے گا۔امن کی مالا جپنے کے راگ سے امن قائم کرنے کے لئے یہی ضروری ہے کہ گستاخانہ خاکوں کو روکا جائے۔

تیسرا اہم موضوع ہے کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن جسے اب کے الیکٹرک کا نام دے دیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت کی طرف سے نیشنل گرڈ کے کم نرخ پر 650 میگا واٹ بجلی فراہم کرنے کا پرانا معاہدہ 26 جنوری 2015ء کی شب بارہ بجے ختم ہو چکا ہے۔ وزیر اعظم کی ہدایت پر نئے معاہدہ کی تکمیل تک بجلی کی فراہمی برقرار رکھی گئی ہے۔ نیا معاہدہ کن شرائط پر تکمیل پاتا ہے اور مزید کتنے عرصے تک کتنی بجلی کے الیکٹرک کمپنی کو فراہم کی جاتی ہے۔ اس کا اندازہ معاہدہ کے بعد ہی ہوگا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اب 650 میگا واٹ کے بجائے 350 میگا واٹ کا معاہدہ اس شرط پر ہوگا کہ کے الیکٹرک اپنے تمام پیداواری یونٹ پوری صلاحیت کے ساتھ چلانے کا پابند ہوگا۔ اس دوران کمی ہو گی تو کے الیکٹرک کو نیشنل گرڈ سے 350 میگا واٹ تک بجلی فراہم کی جائے گی۔

کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن 1913ء میں قائم ہوئی تھی کراچی اسٹاک ایکسچینج میں رجسٹرڈ منافع بخش کمپنی رہی ہے۔ جس کا باقاعدہ ایک بورڈ آف گورنر تھا اگر اس ادارے میں سیاسی بنیادوں پر بھرتیاں شروع نہ ہوئی ہوتیں تو آج کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن (کے ای ایس سی) کراچی کے شہریوں کی بجلی کی ضروریات پوری کر رہی ہوتی۔ اس کمپنی میں سیاسی مداخلت شروع ہونے سے قبل بجلی کا بریک ڈاؤن ہوتا تھا اور نہ ہی اسے وفاقی حکومت سے نیشنل گرڈ سے بجلی فراہم کرنے کی درخواست کرنا پڑتی تھی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ کمپنی اپنی فاضل بجلی واپڈا کے نیشنل گرڈ کو دیا کرتی تھی۔ کراچی میں بجلی کی کمی کی شکائت 1990ء کے عشرے میں پیدا ہوئی تھی۔ جس کا سبب پیداواری یونٹوں کی بروقت مرمت کا نہ ہونا اور بجلی کی چوری میں اضافہ ہونا تھا۔ 1997ء میں بجلی کی چوری کا تخمینہ اس وقت کے بجلی پانی کی وزارت کے وزیر مملکت کیپٹن حلیم اے صدیقی کے مطابق ایک ارب روپے ماہانہ تھا حالانکہ اگر بجلی کی چوری پر قابو پا لیا جاتا تو اس کی نج کاری کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ کیونکہ اس کے پاس اس وقت بھی 2200 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود تھی جو کہ کراچی کی بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے آج بھی کافی ہے۔ کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کو جناب شوکت عزیز نے یہ کہہ کر کوڑیوں سے بھی کم قیمت پر فروخت کیا تھا کہ اس کے نئے مالکان بجلی کے نئے یونٹ لگانے کے لئے بھاری غیر ملکی سرمایہ لے کر آئیں گے۔ اس کے بر عکس نئی سرمایہ کاری اگر ہوئی ہے تو دفاتر کی تعمیر پر نظر آتی ہے اگر ان دس سالوں سے کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے پاس موجود تمام یونٹوں کی اوورہالنگ کر کے پوری پیداواری صلاحیت حاصل کرنے کے قابل ہی بنا لیا جاتا تو کراچی کے شہریوں کو لوڈشیڈنگ کے عذاب سے با آسانی نجات مل سکتی تھی۔ جب کبھی بھی کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کی نج کاری کے معاملے کی آزادانہ طریقے پر تحقیقات ممکن ہو گی تو اس سودے میں ہاتھ رنگنے والے کئی با اثر طاقت ور قانون کے شکنجے سے نکل نہیں پائیں گے۔ 650 میگا واٹ بجلی کم نرخ پر فراہم کرنے کے معاہدہ میں بھی کئی پردہ نشینوں کے نام شامل ہیں۔ 2008ء میں آنے والی پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کی مخلوط حکومت نے بھی کے الیکٹرک کو ایسی مراعات دیں جسکا کوئی جواز نہیں تھا۔

مزید : ایڈیشن 1