لاہور

لاہور

سیاسی ایڈیشن228 لاہور کی ڈائری

چوہدری خادم حسین

لاہور میں سیاسی اجتماعات اور بڑی سرگرمیاں نہ بھی ہوں تو یہ شہر متحرک رہتا ہے اور یہاں ہلچل رہتی ہے ہفتہ رفتہ کے دوران کوئی سیاسی اجتماع اور سرگرمیاں تو نہیں تھیں لیکن سیاسی قائدین نے دینی جذبے کا مظاہرہ کیا یہاں متعدد مجالس مذاکرہ منعقد ہوئیں اور قائدین نے فرانس کے ہفتہ روزہ کی دریدہ دہنی پر لعن طعن کیا اور اس رسالے کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ جمعیت علماء اسلام (ف) کے مولانا فضل الرحمن مرکزی مقرر تھے جنہوں دہشت گردی کے حوالے سے بھی بات کی اور واضح کیا کہ ان کی جماعت اہل ہونے کے باوجود کوئی تحریک نہیں چلائے گی کہ حکومت کی طرف سے 21 ویں ترمیم مذہب کے لفظ کو حذف کرنے کا وعدہ کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کی مذمت کی اور سانحہ پشاور آرمی سکول پر دلی دکھ کا بھی اظہار کیا۔ اسی شہر میں جمعیت علماء اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے بھی پریس کانفرنس کی اور توہین آمیز مواد کی مذمت کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف موثر کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ان حضرات کی طرف سے حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ حکومتی سطح پر اس کا نوٹس لے اور امریکہ پر دباؤ ڈالے دوسری صورت میں اسلامی ممالک سے مل کر متفقہ لائحہ عمل طے کیا جائے۔

جماعت اسلامی نے اتوار کو لاہور اور کراچی میں بیک وقت ان توہین آمیز خاکوں کے خلاف بھرپور قوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے احتجاج کیا۔ لاہور میں جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ کی قیادت میں ریلی نکالی گئی یہ ناصر باغ سے فیصل چوک تک آئی اس میں اظہار یکجہتی کے لئے متعدد مذہبی جماعتوں کے اکابرین نے بھی شرکت کی۔ مظاہرین بڑے پر جوش تھے۔ انہوں نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر ناموس رسالتؐ کے لئے جان بھی دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا تھا۔

دوسرے شہروں کی طرح صوبائی دارالحکومت لاہور بھی گیس کی قلت اور بجلی کی کمی سے دوچار ہے۔ اول تو گیس آ ہی نہیں رہی اور اگر ملتی بھی ہے تو اس کا دباؤ کم ہوتا ہے۔ لوگ اس پر احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اگر گیس نہیں دینا تو پھر اعلان کر کے یہ سلسلہ ختم کر دیا جائے یہ نہیں کہ گیس بھی ہر چند ہے کہ نہیں ہے کے مصداق جھلک تو دکھائے لیکن اس میں دم (پریشر) نہ ہو گیزر تو ایک طرف لوگ چولہوں پر کھانا بنانے میں دشواریوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

شہر میں پیٹرول کی قلت ختم ہو گئی اور حکومت کے اس فیصلے نے بھی معاونت کی کہ لاہور کی حد تک سی۔ این۔ بی ہفتہ بھر دی۔ یوں گاڑیوں والوں کو یہ سہولت مل گئی تو پٹرول بھی کھیت بھی بہت کم ہو گئی۔ پٹرول پمپ والوں کو سٹور کرنے کا موقع مل گیا اب پٹرول اور سی۔ این۔ جی کے لئے بھی قطاریں نہیں ہیں۔ ماضی میں سی۔ این۔ جی سٹیشن ہفتے میں 48 اور 72 گھنٹوں کے لئے کھولے جاتے تو قطاریں ختم ہونے کا نام نہیں لیتی تھیں۔ تب ماہرین نے اعداد و شمار کے حوالے سے بات کی اور تجویز کیا کہ پورا ہفتہ سی۔ این۔ جی دی جائے تو کھپت کم ہو گی کہ جب قلت نہیں ہو گی اور گیس مسلسل ملے گی تو لوگ روزانہ دو مرتبہ ٹینک فل کرانے کی بجائے ضرورت کے مطابق گیس لیں گے اور اسی طرح پٹرول کی بھی صورت حال یہی ہو گی۔ اس لئے بہتر ہے کہ ایل، این، جی کی آمد سے قبل فروری اور مارچ کے دنوں میں بھی گیس دی جائے تاکہ کسی لمحے قلت نہ ہو اور اس عرصہ میں نئے ذخائر کی تلاش اور موجودہ ذخائر کو زیادہ بہتر انداز میں استعمال اور ان کی پیداوار بڑھانے کا سلسلہ شروع کیا جائے۔

ہفتہ کی شب آدھی رات کے بعد سے عوام کو جو شدید تجربہ ہوا وہ تکلیف دہ ہے۔ گیارہ سے ساڑھے گیارہ کے دوران بجلی غائب ہوئی جس کے ساتھ ہی پانی بھی ملتا بند ہو گیا کہ ٹیوب ویل نہ چلے۔ بحالی کا سلسلہ اگلے روز تین بجے کے بعد سے شروع ہوا۔ اب صورت حال بہتر تو ہوئی ہے تاہم لوڈ شیڈنگ بڑھ گئی ہے۔ بجلی بند ہونے سے پانی کی جو قلت پیدا ہوتی ہے وہ اپنی جگہ پریشان کرتی ہے کہ لاہور کے ٹیوب ویلوں سے جنریٹر ہٹا دیئے گئے جو زیادہ تر کرائے پر لئے گئے تھے۔ اب چند ایک وہ ہیں جو واسا کی ملکیت ہیں اور یہ سب وی۔ آئی۔ پی ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ان کے لئے تیل کی قلت پیدا ہو جاتی ہے۔ واسا کو صورت حال کی بہتری کے لئے غور کرنا چاہئے۔

مزید : ایڈیشن 1

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...