ملتان

ملتان

کاشف صدیقی

فرانس کے جریدے کی جانب سے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف ملتان سمیت جنوبی پنجاب میں احتجاجی ریلیوں اور مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے ، ملتان میں جماعت الدعوۃ، جماعت اسلامی اور تاجروں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کئے پایا جاتا، لیکن عالمی برادری کی جانب سے مذہبی دہشت گردی پر خاموش رہنا بھی ان کا ساتھ دینے کے مترادف ہے، فرانس کے جریدے پر حملے کے بعد امریکن صدر بارک اوباما وہاں پہنچ گئے لیکن پاکستان میں سانحہ پشاور میں شہید ہونے والے بچوں کی تعزیت کرنے کے بجائے بھارت یاترا کرنے چلے گئے ، یہ کیا امریکہ کی جانبداری کا ثبوت نہیں ہے ؟ گستاخانہ خاکوں کے خلاف احتجاج جاری ہے اور رکنے کانام نہیں لے رہا ہے ، ملتان سمیت جنوبی پنجاب کے دیگر شہروں میں ہونے والے مظاہروں کے شرکاء نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گستاخانہ خاکے شائع کرنیوالے ملکوں سے سفارتی تعلقات ختم کریں اور او آئی سی کا اجلاس بلائیں اور متحد ہو کر اسلام دشمن قوتوں کا مقابلہ کریں۔ عمران خان کی شادی کے بعد یوں لگتا ہے کہ شادیوں کا سیزن شروع ہو گیا ہے اور اب سابق صدر آصف علی زرداری کی شادی کی خبریں آنا شروع ہو گئی ہیں اور زرداری خاندان میں بھی اختلافات نظر آرہے تھے لیکن گذشتہ روز آصف علی زرداری نے بلاول زرداری بھٹو کے ساتھ خوشگوار تصویرشائع کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ ان کا خاندان متحد ہے لیکن ان کی پارٹی متحد نہیں ہو پارہی ہے ، پاکستان پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے صدر و سابق گورنر پنجاب مخدوم احمد محمود نے پیپلز پارٹی کو فعال بنانے کیلئے کارکنوں کا اجلاس 31جنوری کو طلب کر لیا ہے یہ اجلاس ملتان کے مقامی ہوٹل میں ہوگا جس میں پیپلز پارٹی کے فعال ورکرز اور ٹکٹ ہولڈرز شرکت کریں گے۔ مخدوم احمد محمود جنوبی پنجاب کے دیگر شہروں سے آنیوالے وفود سے ملاقات کریں گے احمد محمود نے رحیم یار خان میں مختلف وفود سے ملاقات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کو مضبوط کرنے کیلئے یونین کونسل کی سطح پر تنظیم سازی کی جائے گی ، آئندہ آنیوالے انتخابات میں جنوبی پنجاب پیپلز پارٹی کیلئے دوسرا لاڑکانہ ثابت ہوگا ۔ جنوبی پنجاب کے عوام میں احساس محرومی پایا جاتا ہے ، مسائل کے حل کیلئے جلد تحریک شروع کی جائے گی ، سابق صدر پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب مخدوم شہاب الدین نے کہا ہے کہ دلشاد رند سے ملاقات کو غلط رنگ نہ دیا جائے ، میں پیپلز پارٹی چھوڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتا ، جبکہ دوسری طرف آل پاکستان مسلم لیگ کے رہنماء دلشاد رند نے اپنے والد کے ہمراہ مخدوم شہاب الدین سے ملاقات کی اور بعدازاں یہ دعوی کیا ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف نے مخدوم شہاب الدین کو آل پاکستان مسلم لیگ میں شمولیت کی دعوت دی ہے۔

تحریک انصاف کے وائس چےئر مین مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سینٹ کے الیکشن میں تحریک انصاف حصہ لے گی تاہم حتمی فیصلہ کور کمیٹی کی مشاورت کے بعد کیا جائے گا ۔ کنٹینر پر کھڑے ہو کر تحریک انصاف اور عمران خان نے جس قدر عوامی مسائل اٹھائے ہیں پچھلے دو سالوں میں اسمبلیوں میں اپوزیشن سمیت کسی سیاسی جماعت نے نہیں اٹھائے ۔ پٹرول کا بحران خود ساختہ ہے کیونکہ حکومت نے آئی ایم ایف کو پندرہ ارب ڈالر کے ذخائر اور کم مالی خسارہ دکھانا تھا اس لئے پٹرولیم منصوعات کے فنڈز جاری نہیں کیے گئے حکومت کی ناقص پالیسیوں اور نا اہلیوں کی وجہ سے ملک پے در پے بحرانوں کا شکار ہورہا ہے جبکہ وزراء ان بحرانوں کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے پر لگے ہوئے ہیں ۔ عمران خان اورطاہر القادری کی سعود ی عرب میں موجودگی کسی جدہ پلان کا حصہ نہیں ہے اور نہ وہاں انکی آپس میں کوئی ملاقات طے تھی شوشے چھوڑ نے والے ایسے چٹکلے چھوڑتے رہتے ہیںِ ہم نے بے پنا ہ لچک کا مظاہرہ کیا ہے توقع تھی حکومت بھی مذاکرات کے حوالے سے لچک دکھائے گی تاکہ معاملات حل ہو سکیں اور پوری قوم دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکے مذاکرات کی آخری نشست میں تمام معاملات اور ایک ایک لفظ پر اتفاق ہو چکا تھا ہمارے اور حکومت کے درمیان معاہدے کے خدوخال بھی طے ہو چکے تھے ۔ 27 دسمبر کے اجلاس میں اسحق ڈار نے کہا کہ انہوں نے اپنی لیڈر شپ سے منظوری لینی ہے اور 29دسمبر کو دستخط ہو جائیں گے لیکن 29دسمبر آئی نہ ہی دستخط ہوئے۔ایک صحافی نے کہا کہ اب یہ باتیں صرف ریحام خان کو معلوم ہونگی جس پر ایک قہقہ گونج اٹھا ایک صحافی نے پوچھا اگر آپ اسمبلی میں ہوتے آپ کی پارٹی عوامی مسائل پر بہتر کردار ادا کر سکتی تھی جس پر انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن بن جائے تو ہم اسمبلی میں جانے کو تیار ہیں اسی اثناء میں ایک صحافی نے کہا کہ اسمبلیوں میں جانا تھوک کر چاٹنے کے مترادف ہے جس پر شاہ محمود قریشی لا جواب ہو گئے۔

سینئر سیاستدان مخدوم جاویدہاشمی نے کہا ہے کہ عمران خان کوپہلے ہی سمجھا دیا تھا کہ وہ استعفوں کی سیاست نہ کریں اب تحریک انصاف کے جتنے لوگوں نے استعفے دئیے ہیں سپیکر انہیں منظور کرے اسلام کے نام پر قائم ملک میں عبادت گاہیں تک محفوظ نہیں ہیں سانحہ پشاور کے بعد جو قومی یکجہتی سامنے آرہی ہے اس سے نئی قوم بن رہی ہے جس کا مقابلہ کوئی قوم نہیں کر سکے گی ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد کو برقرار رکھنا پڑے گا تاکہ کوئی ہمارے اتحاد میں دراڑنہ ڈال سکے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کی حفاظت کو یقینی بنائے، سانحہ پشاور انسانی تاریخ کا بد ترین واقعہ ہے جس پر پوری قوم اشکبار ہے ایک ماہ گزر جانے کے بعد بھی قوم کے آنسو تھم نہیں رہے پوری قو م کا مطالبہ ہے کہ دہشت گردوں کو عبرتناک انجام تک پہنچا جائے پوری قوم سیسہ پلائی دیوار بن کر فوج کی پشت پر کھڑی ہے اور فوج دہشت گردوں کو عبرت کانشان بنا کر دم لے گی ، یہ وقت اداروں کو بچانے کا ہے آئین پاکستان کے محافظ افواج ، اور محب وطن عوام ایک سائیڈ پر کھڑے ہیں اور جو افواج پاکستان کے مخالف ہیں وہ کبھی بھی پاکستان کے دوست نہیں ہو سکتے ملک میں مارشل لاء طالع آزماؤں نے لگایا ایوب خان ،یحیےٰ خان ، ضیاء الحق اور پرویز مشرف نے بیشر جرنیلوں کے ساتھ بیٹھ کر مارشل لاء نافذ کیے اور فوج میں ڈسپلن کی وجہ سے انہوں نے مارشل لاء کا ساتھ دیا ۔میں نے ملک میں مارشل لاء کے نفاذ کی کوششوں کا ناکام بنایا اور آج میں سرخرو ہو کر عوام میں موجود ہوں ۔

سعودی عرب کے شاہ عبدا للہ بن عبد العزیز کی وفات پر مختلف حلقوں نے تعزیتی پیغامات ارسال کیے ہیں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ شاہ عبد اللہ بن عبد العزیز پاکستان کے بہترین دوست تھے میری ان سے متعدد ملاقاتیں ہوئیں وہ ہمیشہ پاکستانی حجاج اور عمرہ پر جانے والے پاکستانیوں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کرتے تھے۔ ادھر سینئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے میڈیا بات چیت کے دوران کہا کہ شاہ عبد اللہ بن عبد العزیز نے پاکستان کو نہ صرف مضبوط کیا بلکہ ہر مشکل میں معاونت اور مدد کی انکی وفات پر نہ صرف ہم سوگوار ہیں بلکہ پوری دنیا میں انکی وفات کا سوگ منایا جارہا ہے وہ پاکستان محسن تھے ۔ رکن قومی اسمبلی ملک عامر ڈوگر نے کہا کہ وہ حال ہی میں عمرہ کی سعادت حاصل کرکے واپس آئے ہیں شاہ عبد اللہ بن عبد العزیز سے نہ صرف سعودی عرب اور پاکستان بلکہ پوری دنیا کے مسلمان بھر پورعقیدت رکھتے ہیں، صوبائی وزیر مذہبی امور جیل خانہ جات چوہدری عبدا لوحید ارائیں نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پاک آرمی کی نہیں پاکستان کی بقاء و سلامتی کی جنگ ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے رکن افتخار رندھاوا نے کہا کہ کوئی بھی مذہب انسانیت کے خلاف درس کی اجازت نہیں دیتا آج حالات اس نہج تک پہنچ چکے ہیں کہ عبادت گاہیں تک محفوظ نہیں ہے اور نہ ہی کھیلوں کے میدان اور تعلیمی ادارے محفوظ ہیں دہشت گردی کی اس لہر کو جڑ سے اکھاڑ نے کیلئے ہم سب کو متحد ہو کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

مزید : ایڈیشن 1