پشاور

پشاور

پشاور کی ڈائری

بابا گل سے

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے سینٹ کے انتخابات کے شیڈول کے اعلان کے بعد خیبر پختونخوا میں حکمران اور اتحادی جماعتوں کے علاوہ حزب اختلاف کی پارٹیوں میں رابطے جوڑ توڑ اورنئے عہدوپیمان شروع ہوگئے ہیں جبکہ حکمران جماعت تحریک انصاف کیلئے یہ پہلا موقع ہے کہ وہ خیبر پختونخوا اسمبلی سے اپنے 7 سینٹرز منتخب کراکے ایوان بالا میں تیسری بڑی قوت بن کر سامنے آئے گی سینٹ کی یہ نشستیں خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے سینٹرز کی ریٹائرمنٹ سے خالی ہوئی ہیں ان میں عوامی نیشنل پارٹی کے حاجی محمد عدیل ،زاہد خان اور عبدالنبی بنگش پیپلزپارٹی کے گلزار احمد خان ،سردار علی خان اور وقار احمد خان شامل ہیں ،جے یوآئی سے حاجی غلام علی بھی ریٹائرڈ ہونیوالے سینٹرز میں شامل ہیں ۔ خواتین کی مخصوص نشستوں پر اے این پی کی فرح عاقل شاہ پیپلزپارٹی کی فرحت قمر عباس جبکہ ٹیکنوکریٹس کی نشست پر اے این پی کے افراسیاب خٹک پیپلزپارٹی کے عدنان خان جبکہ اقلیتی نشست پر اے این پی کے امر جیت بھی ریٹائرڈ ہورہے ۔ خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکمران جماعت تحریک انصاف اور ان کے اتحادیوں جماعت اسلامی اور عوامی جمہوری اتحاد کے کل ارکان کی تعداد 71بنتی ہے مسلم لیگ ن پیپلزپارٹی قومی وطن پارٹی اور اے این پی پر مشتمل اپوزیشن کے پاس مجموعی طور پر کل 53ارکان ہیں سینٹ کی جنرل نشست پر ایک سینٹر کے انتخاب کیلئے کم از کم 16ووٹ درکار ہیں ۔ اسی طرح خواتین اور ٹیکنوکریٹس کیلئے 42-42اوراقلیتی نشست کیلئے کم سے کم 63ووٹ درکار ہونگے اپوزیشن جماعتیں متحد ہوکر 12نشستوں میں سے 3جنرل ایک خواتین اور ایک ٹیکنوکریٹس کی نشست با آسانی جیت سکتی ہیں جبکہ حکمران اتحاد میں شامل جماعت اسلامی اور عوامی جمہوری اتحاد بظاہر کوئی نشست حاصل نہیں کرسکتے تاہم جماعت اسلامی صوبائی اسمبلی کے 8ارکان کے سہارے ایک نشست حاصل کرنے کیلئے آخری حد تک جانے کی کوشش کرے گی اگر جماعت اسلامی کو خیبرپختونخوا سے سینٹ کی ایک نشست مل جاتی ہے تو مستقبل میں ان کا اتحاد مستحکم رہے گا بصورت دیگر تحریک انصاف کیلئے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں اس کے برعکس دوسری اتحادی جماعت عوامی جمہوری اتحاد کی پوزیشن اتنی ہے کہ 5نشستیں آرہی ہیں مگر ان کی کوشش ہے کہ وہ 6نشستیں حاصل کریں اس حوالے سے اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ سینٹ انتخابات کیلئے مشترکہ لا ئحہ عمل اختیار کیاجائیگا۔ جس کیلئے پارلیمانی سربراہان کا اجلاس اگلے چند روز میں طلب کیا جائیگا۔ دوسری طرف اگر تحریک انصاف اپنی ایک نشست جماعت اسلامی کو دینے پر آمادہ ہوتی ہے تواس صورت میں اس کے پاس 6نشستیں رہ جائینگی ۔ شنید ہے کہ تحریک انصاف کے کپتان عمران خان خیبرپختونخوا سے سینٹ انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں جس کے بعد حکومت کے پاس عمران خان کا استعفیٰ منظورکرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔

تحریک انصاف سینٹ الیکشن میں حصہ لینے کیلئے بھر پور تیاریاں کررہی ہے جس کے پیش نظر یہ بات یقینی ہے کہ سینٹ کے انتخابات تک تحریک انصاف کی مرکزی قیادت دھرنوں سمیت کوئی ایسا ایکشن نہیں کرے گی جس کا انتخابات پر براثر پڑسکتاہو لہٰذا سینٹ انتخابات کے بعد ہی توقع کی جاتی ہے کہ تحریک انصاف کوئی ایسا احتجاجی پروگرام تشکیل دے جو وفاقی حکومت کو کمزور کرنے کیلئے مؤثر ثابت ہو ۔بہر حال فی الوقت خیبرپختونخوا کیلئے سینٹ انتخابات کسی چیلنج سے کم نہیں مگر اس سے کئی گنا زیادہ خیبرپختونوا اپوزیشن کیلئے انتخابات سنگین چیلنج بن گئے ہیں اگر اپوزیشن جماعتوں سے ذرا سی بھی غلطی ہوگئی تو وہ سینٹ کی دو سے تین نشستوں سے محروم ہوسکتے ہیں ۔ موجودہ حالات اور اعداد وشمار کے پیش نظر ن لیگ اور جے یوآئی سینٹ کی ایک ایک نشست حاصل کرسکتی ہے جبکہ قومی وطن پارٹی اے این پی اور پیپلزپارٹی بھی ایک رہتی ہیں تو خواتین اور ٹیکنوکریٹس کی بھی ایک ایک نشست جبکہ اقلیتی نشست پر حکمران اتحاد جماعت کی کامیابی یقینی نظر آتی ہے ۔ شیڈول کے مطابق سینٹ کے انتخابات 3مارچ 2015ء کو منعقد ہونگے پولنگ صبح 9سے شام 4بجے تک ہوگی جس کے بعد ہرپارٹی کی پوزیشن واضح ہوکر سامنے آجائیگی سینٹربننے کے خواہشمند امیدواروں نے ٹکٹ حاصل کرنے کیلئے ابھی سے دوڑ دھوپ شروع کردی ہے امیدوار 12اور 13فروری کو کاغذات نامزدگی جمع کرائینگے جبکہ 25فروری کو امیدواروں کی حتمی فہرست شائع کی جائیگی۔ دوسری طرف آرمی پبلک سکول کے معصوم شہداء کی رسم چہلم کی تقاریب مسلسل جاری ہیں ان میں سب سے اہم تقریب آرمی سکول میں منعقد ہوئی جس میں فاروق ستار کی قیادت میں ایم کیو ایم کے وفود نے خصوصی طور پر شرکت کی ۔ اس موقع پر انہوں نے سانحہ میں شہید اور زخمی ہونے والے بچوں کے جذبات بہادری اور قربانی کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا اور تمام بچو ں کو نشان حیدر کا مستحق قرار دیا اس موقع پر انہوں نے پشاور کے شہریوں کی ان گنت قربانیوں کا بھی ذکر کرتے ہوئے انہیں دہشت گردی کیخلاف جنگ میں صف اول کا سپاہی قراردیا۔تاہم میڈیا سے بات چیت کے دوران وہ جماعت اسلامی پر سخت براہم ہوئے اور تمام دہشت گردکارروائیوں کی ذمہ داری جماعت اسلامی پر عائد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی خودکش حملہ آوروں سمیت ہر قسم کی دہشت گردی کو اپنی گود میں پال رہی ہے فاروق ستار نے اس بات پر زور یا کہ جماعت اسلامی سمیت تمام دینی مدارس ومذہبی جماعتوں کو ہرہفتے دہشت گردی کیخلاف فتوے جاری کرنا ہونگے اوردہشت گردوں کی کھل کر مخالفت کرنا ہوگی انہوں نے مزید کہا کہ دوغلی پالیسی اب مزید نہیں چلے گی اب ہرجماعت اور ہرشخص کو خیال کرنا ہوگا کہ وہ دہشت گردوں کے ساتھ ہے یا عوام کے ساتھ ۔ انہوں نے پشاور کے عوام کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم دہشت گردی کیخلاف دیوار ثابت ہوگی اور پشاور کے زخم خوردہ شہریوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی رہے گی۔

مزید : ایڈیشن 1

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...