پنجاب یونیورسٹی کے زیر اہتمام تعلیم کی اہمیت‘‘ کے موضوع پرکانفرنس

پنجاب یونیورسٹی کے زیر اہتمام تعلیم کی اہمیت‘‘ کے موضوع پرکانفرنس

 لاہور (ایجوکیشن رپورٹر) پنجاب یونیورسٹی کے زیر اہتمام ایجوکیشن فار آل (ایفاء)فیڈریشن اور لٹریسی اور نان فارمل بیسک ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے اشتراک سے ’’تعلیم کی اہمیت‘‘ کے موضوع پر الرازی ہال میں کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔اس موقع پر مشیر وزیر اعلیٰ پنجاب رانا اکرام ربانی، سیکریٹری لٹریسی ڈاکٹر پرویز احمد خان، سابق چیئرمین ٹیوٹا خالد محمود، ڈین فیکلٹی آف آرٹس اینڈ ہیومینٹیزڈاکٹر مسرت عابد، قائم مقام ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ ڈاکٹر عابد حسین چوہدری،ایڈیشنل سیکریٹری ایجوکیشن ندیم عالم بٹ ، صدر ایفاء فیڈریشن اور مشیر وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی کرنل (ر) اکرام اللہ خان، فیکلٹی ممبران، طلباؤ طالبات ، ایفاء کے نمائندگان کے علاوہ شعبہ تعلیم کے ماہرین اور لٹریسی کے فروغ میں خصوصی دلچسپی رکھنے والی صوبہ کے مختلف اضلاع سے NGOکے عہدیداران نے بڑی تعدا د میں شرکت کی جن میں پنجاب کے سابق نگران وزیر اعلیٰ میاں افضل حیات، سپریم کورٹ کے سابق جج جناب فقیر محمد کھوکھر، لیفٹیننٹ جنرل (ر) نصیر اختر، لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد افضل نجیب، میجر جنرل(ر) خواجہ راحت لطیف، میجر جنرل (ر) سعید الدین قاضی، ڈائریکٹر آپریشنز عنایت وڑائچ، پراجیکٹ ڈائریکٹر لٹریسی سجاد احمد ثاقب و دیگر شامل ہیں۔ اپنے خطاب میں مشیر وزیر اعلیٰ پنجاب رانا اکرام ربانی نے کہا کہ تعلیم کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ہمارے نبی ﷺ نے بھی تعلیم حاصل کرنے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو اپنے شہریوں کے بنیادی حقوق کا علم ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں شعبہ تعلیم ترقی کی راہ پر گامزن ہے جو اس کے بہتر مستقبل کی نوید ہے۔ سیکریٹری لٹریسی ڈاکٹر پرویز احمد خان نے کہا کہ سو فیصد رسمی تعلیم سے بھی تمام مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ غیر رسمی تعلیم بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’تعلیم سب کے لئے ‘‘ پروگرام میں این جی اوز کو خاص کردار دیا گیا ہے جو انہیں نبھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں شرح خواندگی 60فیصد ہے جبکہ پنجاب میں 62فیصد ہے جسے حکومت کے جاری تعلیمی منصوبہ جات کی بدولت اگلے پانچ سے چھ سالوں میں 75فیصد تک لے جانا مقصد ہے ۔انہو ں نے کہا کہ شرح خواندگی میں اضافہ کے لئے حکومت نے کئی منصوبے شروع کروائے ہیں جس میں خواتین کے لئے سلائی کڑھائی ، نوجوانوں کے لئے فنی تعلیمی ادارے اور تعلیم بالغاں کے ساتھ ساتھ غیر رسمی تعلیمی ادارے شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے تعلیم کے فروغ کے لئے اربوں روپے کے فنڈزجاری کئے ہیں لیکن شرح خواندگی میں اضافہ کے لئے حکومتی ذرائع کے ساتھ ساتھ سب کو مل کر کوشش کرنا ہوگی۔ سابق چیئرمین ٹیوٹا خالد محمودنے کہا کہ تعلیم کی کمی اور بے روزگاری کے باعث ہمارا معاشرہ بدنظمی کا شکا رہے ۔ انہو ں نے کہا کہ ہمیں قائد اعظم کے فرمودات کی روشنی میں فنی تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہوگا جس کے لئے سکول کی سطح پر ہی اقدامات کئے جانے چاہیے۔ صدر ایفاء فیڈریشن اور مشیر وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی کرنل (ر) اکرام اللہ خان نے کہا کہ اس وقت ملک کو کئی بحرانوں کا سامنا ہے پھر بھی شرح خواندگی میں اضافہ کے لئے وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کے اقدامات لائقِ تحسین ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے تعلیم کی ترقی کے لئے ایفاء فیڈریشن کی بھرپور حمایت کا یقین دلایا۔

مزید : میٹروپولیٹن 4