بھارت ہمارے خلاف بچھائے جانیوالے امریکی جال میں نہ پھنسے،چین کا انتباہ

بھارت ہمارے خلاف بچھائے جانیوالے امریکی جال میں نہ پھنسے،چین کا انتباہ

 بیجنگ؍نئی دہلی(مانٹیرنگ ڈیسک)چین نے بھارت کوخبردارکیاہے کہ وہ اس کے خلاف بچھائے جانے والے امریکی جال میں نہ پھنسے اوردونوں ممالک بحیر ہ جنوبی چین پر اپنی برتری جتائیں نہ سمندری تنازعات طے کرنے کیلئے دھمکیوں اور طاقت کی زبان استعمال نہ کی جائے ۔میڈیارپورٹ کے مطابق چین نے امریکی صدر باراک اوباما کے دورۂ بھارت پر اپنے باضابطہ ردعمل کااظہار کردیاہے اور امریکہ اور بھارت کو وارننگ دی ہے کہ وہ بحیرۂ جنوبی چین پر اپنی برتری نہ جتائیں ۔ چین نے کہاکہ امریکی صدر اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اپنی مشترکہ پریس کانفرنس میں بحیرۂ جنوبی چین پر اپنی برتری جتانے کا تاثر دیاہے لیکن انہیں یہ تاثر نہیں دینا چاہیے ۔چینی حکام نے خبر دار کیا کہ سمندری تنازعات طے کرنے کیلئے دھمکیوں اور طاقت کی زبان استعمال نہ کی جائے ۔ ادھر چین کے موقر اخبارات ’’ گلوبل ٹائمز‘‘ اور ’’پیپلزڈیلی ‘‘نے اپنے آرٹیکلزمیں لکھا کہ اگرچہ امریکی صدر کے بھارت کے دوسرے دورے نے بلاشبہ بین الاقوامی برادری کی غیر معمولی توجہ حاصل کی اور بہت سے مغربی ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں میں کہاگیا ہے کہ امریکہ تاریخی پیچیدگیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بھارت کے ساتھ ایک شراکت دار کے طورپر مراسم مضبوط کرنے کی کوشش کررہاہے تاہم چینی اخبارات نے خبردارکیاکہ بھارت کو امریکہ کی طرف سے چین کیخلاف بچھائے جانے والے جال میں نہیں پھنسنا چاہیے ۔ چینی اخبارات نے لکھا کہ مغرب کے عزائم یہ ہیں کہ چین اور بھارت کو فطری حریف کے طورپر ایک دوسرے کے سامنے لایا جائے ۔اخبارات میں تجویز دی گئی کہ دونوں ہمسایہ ممالک کو مخصوص معاملات پر بحث کو ایک طرف رکھتے ہوئے اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ دوطرفہ تعلقات فروغ پائیں ۔مشترکہ مفادات اختلافات سے زیادہ ہیں۔دونوں ابھرتی طاقتوں کو محاذآرائی کے بجائے تعاون کے مزید مواقع تلاش کرنے چاہیے ۔ علاوہ ازیں چین کے صدر ژی جن پنگ نے بھارت کے یوم جمہوریہ کے موقع پراپنے بھارتی ہم منصب کے نام پرناب مکھر جی کے نام تہنیتی پیغام میں کہا تھاکہ ان کاملک بھارت کے ساتھ تزویراتی شراکت داری کو بلند سطح پر لے جاناچاہتاہے انہوں نے بھارت کے ساتھ امن اور خوشحالی پر مبنی سٹریٹجک شراکت داری کو فروغ دینے کے حوالے سے مربوط کوششوں پر آمادگی ظاہر کی ۔

مزید : صفحہ اول