کارکنوں کی ہلاکت اور وزیر اعلٰی کے بیان پر متحدہ کا سندھ اسمبلی میں احتجاج

کارکنوں کی ہلاکت اور وزیر اعلٰی کے بیان پر متحدہ کا سندھ اسمبلی میں احتجاج

 کراچی(اے این این) سندھ اسمبلی میں متحدہ قومی مومنٹ کا کارکنان کی ہلاکت اور قائم علی شاہ کے ریمارکس کے خلاف شدید احتجاج،ایوان مچھلی منڈی بن گیا،وزیر اعلیٰ کے خطاب کے دوران شیم شیم کے نعرے،سپیکر کی ڈائس کا گھیراؤ،ایوان سے واک آؤٹ،حکومت نے شہر کی اہم شاہراہوں پر احتجاج اور دھرنوں پر پابندی کی قرار داد کثرت رائے سے منظور کر لی۔منگل کو سندھ اسمبلی کا اجلاس سپیکر آغا سراج درانی کی صدارت میں شرو ع ہو تو ایم کیو ایم کے ارکان نے وزیر اعلیٰ سندھ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ایم کیو ایم کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر خواجہ اظہار الحسن نے اپنے خطاب میں کہا کہ وزیراعلی قائم علی شاہ سندھ کے حاکم ہیں اور ان کی حاکمیت میں ہمارے کارکنوں کو چن چن کر قتل کیا جارہا ہے، حکومت کو کارکنوں کے قتل کا نوٹس لینا چاہیئے۔انھوں نے کہا کہ ہم روز لاشیں اٹھا رہے ہیں۔وزیر اعلیٰ کو احسا س نہیں۔جس کے جواب میں سید قائم علی شاہ نے جارحانہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم نے گزشتہ روز وزیر اعلیٰ ہاؤس کے باہر احتجاج نہیں بلکہ حملہ کیاتھا۔ایم کیو ایم کے رہنماؤں سمیت کارکنان رکاوتٰن عبور کر کے گیٹ تک پہنچ گئے تھے۔وزیراعلی سید قائم علی نے شاہ اپنی تقریر میں کہا کہ کراچی آپریشن کی تمام جماعتوں نے ہدایت کی۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے چاہتے ہوئے بھی 12مئی کا حساب نہیں لیا اس واقعہ میں پیپلز پارٹی کے لوگ بھی مارے گئے تھے،12مئی کو جب قتل عام ہوا تو کس کی حکومت تھی ان پر 29 افراد کے قتل کے الزامات لگائے گئے۔ کراچی میں ماورائے عدالت قتل کا معاملہ سندھ ہائیکورٹ میں ہے۔انہوں نے کہا کہ گوررنرسندھ کے کہنے پردوبارمذاکرات کیے ،مگردھرنے والوں نے بات کرنے سے انکارکیا۔وزیر اعلی قائم علی شاہ نے کہا کہ ایم کیو ایم والے ایک طرف فوج بلانے کا مطالبہ کرتے ہیں دوسری فوجی عدالتوں کی مخالفت کرتے ہیں ۔وزیراعلیِ سندھ نے کہا تین سوسے زائد رنگے ہاتھوں گرفتارمجرم جیلوں میں ہیں۔ تین مجرم کراچی سے دوسری جیلوں میں منتقل کیے اس پرایم کیو ایم کو اتنی ناراضگی ہوئی ۔ان کا کہنا تھا کہ کراچی آپریشن اپنے منطقی انجام تک پہنچے گا جب کہ شہر میں ہرصورت امن قائم کیا جائے گا، کسی صورت امن و امان خراب کرنے نہیں دیں گے، تمام جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن منطقی انجام تک پہنچائیں گے اس لئے یقین دلانا چاہتا ہوں کہ جس نے بھی جرم کیا اسے نہیں چھوڑیں گے چاہے اس میں میرا عزیز ہی کیوں نہ ہو، وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے بھی سندھ حکومت کی کارکردگی کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم سے کارکنوں کے قتل پر بات چیت کے لئے وزیراطلاعات نے ایم کیو ایم سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن قمرمنصور نے شرجیل میمن سے بات کرنے سے صاف انکارکردیا۔ وزیر اعلی سندھ نے اپنی تقریر میں کہا کہ ٹارگٹ کلنگ ، بھتہ ، دہشت گردی اور سٹریٹ کرائم کراچی کے بڑے مسائل ہیں ۔ ان کے دور حکومت میں کئی دہشت گرد پکڑے گئے ۔ سندھ کی جیلوں میں 300 دہشت گرد ہیں ، سب جانتے ہیں جیلوں میں مجرموں کی دیکھ بھال کون کر رہا ہے؟ وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ سندھ میں کسی کوامن وامان خراب نہیں کرنے دیں گے جس نے بھی جرم کیا ہو اسے کسی صورت نہیں چھوڑیں گے ۔ گرفتار دہشت گردوں کی فہرست جلد میڈیا کو دیں گے ۔ وزیر اعلی قائم علی شاہ نے کہا کراچی آپریشن کا فیصلہ ڈیڑھ سال پہلے وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس میں ہوا۔ وزیر اعظم سمیت آرمی چیف نے ان کی کوششوں کو سراہا اور انتظامی صلاحیتوں کی تعریف کی۔وزیر اعلی نے جب ایم کیو ایم پر کڑی تنقید کی تو متحدہ کے ارکان نشستوں پر کھڑے ہو گئے اور احتجاج شروع کر دیا ۔ احتجاج کے باوجود قائم علی شاہ نے تقریر جاری رکھی ۔ اس دوران ایم کیو ایم کے ارکان سپیکر کے ڈائس کے سامنے جمع ہو گئے اور شیم شیم کے نعرے لگاتے رہے ۔ متحدہ کے ارکان کے جواب میں پیپلز پارٹی کے ایم پی ایز بھی سامنے آ گئے اور نعرے لگائے ۔ ڈپٹی سپیکر سندھ اسمبلی شہلا رضا ، قائم علی شاہ کے پاس جا کھڑی ہوئیں اور ان کا حوصلہ بڑھاتی رہیں ۔ کچھ دیر یہ ہنگامہ آرائی جا ری رہی اور دونوں جانب کے ارکان خوب نعرے لگاتے رہے جس کے بعد ایم کیو ایم کے ارکان واک آٹ کر گئے۔ ایم کیو ایم کے واک آؤٹ کے دوران پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی خیرالنسا کی جانب سے صوبے بھر کی اہم شاہراہوں پر دھرنے اور احتجاج پر پابندی کی قرارداد پیش کی گئی، قرارداد کی حمایت میں شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ اہم شاہراہوں پر احتجاج کو روکنے کے لئے موثر قانون سازی کی ضرورت ہے۔ سہراب سرکی کا کہنا تھا کہ اہم شاہراہوں پر احتجاج کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس سلسلے میں قرارداد اسمبلی کے ارکان کی آواز ہے۔بعدازاں سندھ اسمبلی نے قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی۔ ایم کیو ایم نے واک آٹ کے باعث قرارداد کی ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔سندھ اسمبلی میں ہونے والی تلخی کی باز گشت ایوان کے باہر بھی سنائی دی گئی ، اجلاس سے واک آٹ کرنے کے بعد متحدہ کے خواجہ اظہار الحسن نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کیا کسی سیاسی جماعت کو اپنے کارکن کے قتل پر آواز اٹھانے کا حق نہیں ہے ؟ پیپلز پارٹی کو جمہوری طریقے سے بات سمجھ نہیں آتی ، وزیر اعلی سندھ نے متعصبانہ لہجے میں ہمارے سوالوں کے جوابات دیئے ۔ خواجہ اظہار الحسن نے کہا ایڈیشنل آئی جی کے بیان پر وزیر اعلی سے وضاحت مانگی تھی ، وزیر اعلی سندھ کراچی آپریشن کے نام نہاد کپتان ہیں ۔ رکن سندھ اسمبلی فیصل سبزواری نے کہا وزیر اعلی سندھ نے اپنے الفاظ سے ثابت کیا سندھ بدقسمت صوبہ ہے ۔ انہوں نے کہا بدعنوان اور بدمست پولیس کے تشدد سے ہمارا کارکن مارا گیا ، قائم علی شاہ نے ماضی میں بھی ہمیں بہت لاشیں دیں ۔ فیصل سبزواری نے کہا وزیر اعلی سندھ سے صوبہ نہیں چلایا جا رہا ، پیپلزپارٹی صوبے پر رحم کرے ، ان کا کہنا ہے کہ اسمبلی سے لے کر وزیر اعلی ہاس تک دھرنا دے سکتے ہیں ۔

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...