امریکی صدر کا دورہ بھارت، جنوبی ایشیا اقتصادی سرد جنگ کا میدان؟

امریکی صدر کا دورہ بھارت، جنوبی ایشیا اقتصادی سرد جنگ کا میدان؟
امریکی صدر کا دورہ بھارت، جنوبی ایشیا اقتصادی سرد جنگ کا میدان؟

تجزیہ، چودھری خادم حسین

امریکی صدر باراک اوباما بھارت کا دورہ مکمل کر کے سعودی عرب اور وہاں سے امریکہ کے لئے روانہ ہو گئے، اس دورے کے دوران جو ان کا دوسرا تھا، بہت ہنگامہ رہا، جہاں بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی خوشی سے پاگل ہوئے جا رہے تھے، وہاں خود امریکی صدر بھی بھارت کو امریکی پالیسیوں کا ہمنوا بنانے کے لئے مراعات کے اعلان کئے جا رہے تھے، حتیٰ کہ انہوں نے گرانٹ اور تجارت کے لئے بھارت کو چار کھرب روپے کا خصوصی تحفہ بھی دیا اور ایک سے زیادہ مرتبہ دہرایا کہ بھارت امریکہ کا گلوبل پارٹنر ہے۔ یہ بات انہوں نے انڈیا ٹو ڈے کو انٹرویو دیتے ہوئے بھی کہی تھی اور یہاں بھی دہرائی اور سول ایٹمی معاہدہ میں بھی واضح پیشرفت کی گئی اور ساتھ ہی سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کے لئے حمائت کا بھی اعادہ کیا۔

ان سطور میں انڈیا ٹو ڈے والے انٹرویو کی روشنی میں گزارشات پیش کر دی گئی تھیں اور اب تک تو ہمارے دوستوں نے اس دورے کو پوری طرح کھنگال بھی لیا ہے اور خصوصی طور پر اوباما کے دورۂ بھارت اور پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے دورۂ چین کو ساتھ ساتھ ملا کر تجزیئے کئے گئے، بعض حضرات نے تو امریکہ بمقابلہ چین کر دیا، جیسے جنگ کی کوئی صورت حال ہو، اس سلسلے میں سابق سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر کا تبصرہ زیادہ حقیقت پسندانہ تھا۔

بہرحال ایک پہلو پر کم زور دیا گیا جو یہ ہے کہ اب جنوبی ایشیا میں معاشی اور اقتصادی سرد جنگ کا آغاز ہو گا، امریکہ کے چین کے ساتھ تعلقات خوشگوار ہیں۔ تجارت بھی ہو رہی ہے اس کے باوجود ہمارے خطے میں امریکہ جو پارٹنر چاہتا ہے اس کی نظر میں بھارت ہے۔ اسی لئے ماضی میں یہ کہا جاتا تھا کہ بھارت کو خطے میں تھانیدار بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، اب امریکہ نے جو چار کھرب روپے سرمایہ کاری کے میدان میں جھونکے ہیں تو اس کا مطلب بھی تجارتی میدان میں چین کی بڑھتی ہوئی برتری کو روکنا ہے، چین معاشی لحاظ سے اس وقت دنیا کی پہلے نمبر کی قوت ہے، حتیٰ کہ امریکہ کے اپنے سٹور چینی مال سے بھرے پڑے ہیں۔ امریکہ بتدریج بھارت کو جگہ مہیا کرے گا، امریکہ اور بھارت کے اس گٹھ جوڑ کے نتیجے میں پاکستان کو بہت زیادہ محنت اور توجہ کے ساتھ ساتھ وسائل کی ضرورت ہے اس سلسلے میں توانائی کے بحران سے نمٹنا ضروری ہے کہ بجلی لازم ہے۔ سستی توانائی ہی عالمی سطح پر مقابلہ میں مدد دے سکتی ہے۔ موجودہ حالت پتلی ہے، یہاں لوڈشیڈنگ ہی جان نہیں چھوڑ رہی، ضرورت اس امر کی ہے کہ پن بجلی کے ساتھ ساتھ ونڈ انرجی اور سولر انرجی کے لئے جنگی بنیادوں پر کام کیا جائے اور جتنی جلد ممکن ہو سستی توانائی پیدا کی جائے، شہروں کو اندھیرے میں ڈبو کر شہریوں کو گیس سے محروم کر کے صنعت کو کب تک سہارا دیا جا سکتا ہے؟ ایسا مسلسل ہو گا تو احتجاج بھی جاری رہے گا اور پھر استحکام کیسے آئے گا؟ یوں بھی ہم دہشت گردی کے ساتھ سیاسی محاذ آرائی سے دوچار ہیں۔

جنوبی ایشیا میں اس اقتصادی سرد جنگ کے ساتھ افغانستان کا مسئلہ بھی جڑا ہوا ہے۔ بھارت کو افغان صدر اشرف غنی کے پاکستان کی طرف جھکاؤ سے جو خفت ہوئی اُسے امریکی صدر نے یہ کہہ کر مٹا دیا کہ ہمیں افغانستان میں بھارت کے تعاون کی ضرورت ہے۔ یہی بات امریکی انتظامیہ نے حکومتِ پاکستان اور جنرل راحیل شریف سے کہی تھی کہ پاکستان قدرتی حصہ دار ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ امریکہ کے نزدیک وہ خود، بھارت اور پاکستان افغانستان کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔ اگر یہی نظریہ ہو تو پھر امریکہ کو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ پاکستان بھی ایک ایٹمی قوت ہے اور یہ سب دفاع کے لئے ہے۔ اگر خطے میں بھارتی جارحیت ہو گی تو یہ پارٹنر شپ نہیں بن سکے گی؟ یقیناًحکومت اور جنرل راحیل شریف نے امریکیوں کو یہی باور کرایا ہو گا، لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ پاک بھارت تنازعات ختم اور خطے میں امن کی فضا قائم ہو اور ایسا کم از کم تین تنازعات کے حتمی حل تک ممکن نہیں، جو تنازعہ کشمیر، سیاچن اور سر کریک ہیں اگر امن کی خواہش اور نیت ہو تو یہ بھی حل ہو سکتے ہیں، لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی اپنی جگہ ہے، اس لئے حالیہ امریکی پالیسی سے خدشات کا جنم لینا ضروری ہے تاہم اس کے لئے کم ہمتی کی نہیں، عقل و ہوش کی ضرورت ہے اور خطے میں پاکستان کو جو حیثیت حاصل ہے اس کا ادراک بھی لازمی ہے۔

جہاں تک چین کا تعلق ہے تو اس کی پاکستان سے دوستی مستحکم ہی نہیں، لازوال ہے اور اب پھر برملا اظہار کر دیا گیا ہے۔ اب چین کے صدر کا دورہ پھر سے طے ہو رہا ہے، جو فروری میں ممکن ہے۔ چین کے صدر یہاں آئیں گے تو وہ بھی اقتصادی تعاون کے لئے کثیر ترین سرمایہ کاری کے پیکیج لائیں گے، اس لئے ہم پاکستان والوں کو بہت سوچ سمجھ کر قدم رکھنا ہوں گے۔ چین کی مستحکم دوستی سے معاشی اور اقتصادی فوائد کو مقابلے کے لئے استعمال کرنا ہی بقاء کے لئے ضروری ہے۔

ان سب امور کے لئے مُلک کے اندر امن کے علاوہ سیاسی استحکام لازم ہے۔ اس کی بڑی ذمہ داری تو پھر حکومت پر ہی عائد ہوتی ہے۔ وزیراعظم محمد نواز شریف کو قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنا ہو گا، فوری طور پر تحریک انصاف اور دینی جماعتوں کے ساتھ معاملات طے کرنا ضروی ہے، اسی طرح سندھ کے حالات میں متحدہ اور پیپلزپارٹی کے ساتھ ساتھ قوم پرستوں کو بھی قومی دھارے میں لانا ہو گا۔ سب کا تعاون ہو تو بیڑا پار ورنہ۔۔۔۔۔۔؟

مزید : تجزیہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...