ہائیکورٹ،ہندو وارثتی ایکٹ کیخلاف درخواست پرحکومتی موقف طلب

ہائیکورٹ،ہندو وارثتی ایکٹ کیخلاف درخواست پرحکومتی موقف طلب

 لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے ہندو خواتین کو جائیداد کی وراثت سے محروم رکھنے کے قانون کے خلاف دائر درخواست پر وفاقی اور صوبائی وزارت قانون سے 3 ہفتوں میں جواب طلب کر لیا، عدالت نے پاکستان میں ہندو برادری کے نمائندوں اور آئینی ماہرین سے بھی معاونت طلب کرلی ۔ ہندو خاتون سونیا تلریجہ کی طرف سے دائراس درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ قانون میں ترمیم کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے ،عدالت کسی مذہب یا اقلیت کے ذاتی قانون میں کیسے مداخلت کرسکتی ہے ؟ ہندو برادری کے لوگوں چاہیے کہ وہ اس قانون میں ترمیم کے لئے قومی اسمبلی کا دروازہ کھٹکھٹائیں،اس پر درخواست گزار کے وکیل علی سبطین فضلی نے موقف اختیار کیا کہ بھارت نے 1956میں اس قانون میں ترمیم کر کے ہندو خواتین کو بھی وراثتی جائیداد میں حصہ دار بنایا مگر پاکستان میں ابھی تک 85برس پرانا قانون رائج ہے جوپاکستانی آئین سے متصادم ہے ،فاضل جج نے ہندو وارثتی ایکٹ کے خلاف دائردرخواست پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب، اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی وزارت قانون سے 3 ہفتوں میں جواب طلب کر لیا ۔ ہندو ایکٹ

مزید : صفحہ آخر