نئی ٹیکسٹائل پالیسی میں تا خیر کے باعث انڈسٹری متاثر ہو رہی ہے ،ایس ایم تنویر

نئی ٹیکسٹائل پالیسی میں تا خیر کے باعث انڈسٹری متاثر ہو رہی ہے ،ایس ایم تنویر

 لاہور(کامرس رپورٹر)آپٹما کے مرکزی چیئرمین ایس ایم تنویرنے وزارت ٹیکسٹائل کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ منسٹری ملکی صنعت کے مفادات کا تحفظ کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے، گزشتہ دس برسوں میں وزارت ٹیکسٹائل کی کارکردگی صفر ہے ، 2009 ء سے 2014 ء تک کی ٹیکسٹائل پالیسی کیلئے مختص کئے گئے 188 ارب روپے میں سے صرف 27.7 ارب روپے ریلیز کئے گئے جبکہ 2014 ء سے 2019 ء کیلئے نئی پالیسی کا مسودہ تیار ہوئے 7 ماہ گزرنے کے باوجود منظوری نہیں ہو سکی، خطے کے دیگر ممالک کی نسبت پاکستان کی ٹیکسٹائل گروتھ کم ترین سطح پر ہے، گزشتہ پانچ برسوں میں ٹیکسٹائل سیکٹر اپنے نوجوانوں کیلئے ایک نوکری بھی پیدا نہیں کر سکا۔ گزشتہ روز آپٹما ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت نے اپنی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو 600ارب روپے کی سبسڈی دی ہے جبکہ پاکستانی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو کسی قسم کی سبسڈی نہیں دی جا رہی ۔بھارتی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو دس فیصد ری بیٹ ملنے کے بعد عالمی منڈی میں پاکستانی ٹیکسٹائل انڈسٹری کیلئے مقابلہ کرنا مشکل ہو گیا ہے ۔نئی ٹیکسٹائل پالیسی کی تاخیر کے باعث بھی ملکی ٹیکسٹائل انڈسٹری متاثر ہو رہی ہے ۔2009ء سے 2014ء کی ٹیکسٹائل پالیسی میں 188ارب روپے ٹیکسٹائل انڈسٹری کے فروغ کیلئے رکھے گئے لیکن وزارت ٹیکسٹائل کی جانب سے صرف 28ارب 70کروڑ روپے جاری کئے گئے ۔ایس ایم تنویر نے وزارت ٹیکسٹائل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سات ماہ گز چکے ہیں لیکن ابھی تک نئی ٹیکسٹائل پالیسی کا اعلان نہیں کیا گیا ۔ نئی ٹیکسٹائل پالیسی میں صرف 60ارب روپے رکھے گئے ہیں اور ہر سال 10سے12ارب روپے سالانہ دیئے جائیں گے جو بھارت کے مقابلے میں آٹے میں نمک کے برابر ہیں ۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت سے کپاس کی سمگلنگ فوری طور پر روکی جائے کیونکہ بھارتی کپاس کی سمگلنگ کی وجہ سے ملکی کپاس کے کاشتکاروں کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔ ایس ایم تنویر

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...