محکمہ ایکسائز پہلی ششماہی میں ریو نیو حدف حاصل کرنے میں ناکام ،ڈائریکٹر کانفرنس طلب

محکمہ ایکسائز پہلی ششماہی میں ریو نیو حدف حاصل کرنے میں ناکام ،ڈائریکٹر ...

 لاہور(شہباز اکمل جندران//انوسٹی گیشن سیل) ایکسائز اینڈٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ پہلی ششماہی میں ریونیو حدف حاصل کرنے میں ناکام ہوگیا۔12ارب 2کروڑ روپے کی بجائے 10ارب 62کروڑ روپے کی ریکوری پر صوبائی سیکرٹری اور ڈی جی ڈائریکٹروں پر برس پڑے ۔آج ڈائریکٹر کانفرنس طلب کرلی۔معلوم ہواہے کہ پنجاب حکومت نے مالی سال 2015-16کے لیے ایکسائز اینڈٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کو پراپرٹی ٹیکس، موٹر ٹیکس ، ایکسائز ڈیوٹی، تفریحی ٹیکس ، پروفیشنل ٹیکس ، لگثرری ہاؤسز ٹیکس ،ایجوکیشن سییس ،کاٹن فیس اور فارم ہاؤس ٹیکس کی مد میں مجموعی طورپر 24ارب 4کروڑ ریکوری کا حدف دیا ۔ لیکن پہلی ششماہی گزرنے پر محکمے نے 12ارب 2کروڑ روپے کی بجائے 10ارب 62کروڑ روپے کی ریکوری کی ۔ جس پر صوبائی سیکرٹری ایکسائز اینڈٹیکسیشن اور ڈائریکٹر جنرل ایکسائزاینڈٹیکسیشن نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ناقص کارکردگی کے حامل افسروں کو ڈانٹ پلادی۔ ذرائع کے مطابق ریکوری کی صورتحال کے پیش نظر آج محکمے کے تمام ڈائریکٹروں کو طلب کرتے ہوئے ڈائریکٹر کانفرنس بلائی گئی ہے۔ جس میں ریکوری کے معاملات کا جائزہ لیا جائیگا۔ اور ایسے ڈائریکٹر جن کی کارکردگی تسلی بخش نہیں ہے۔ ان سے وضاحت طلب کی جائیگی۔ اور غیر تسلی بخش جواب پر متعلقہ ڈائریکٹر کو عہدے سے ہٹا دیا جائیگا۔ایکسائز اینڈٹیکسیشن کی ششماہی رپورٹ کے مطابق سب سے ناقص کارکردگی ڈائریکٹوریٹ ایکسائز اینڈٹیکسیشن لاہور ریجن سی کی رہی ۔جہاں تعینات ڈائریکٹر عمران اسلم 6ارب 49کروڑ روپے کے حدف کے جواب میں 3ارب ساڑھے 24کروڑ روپے کی ریکوری کی بجائے صرف دو ارب 76کروڑ روپے کی ریکوری کرسکے۔ حالانکہ اسی ریجن میں گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران دو ارب 61کروڑ روپے کی ریکوری کی گئی تھی۔اسی طرح ناقص کارکردگی کے حوالے سے محکمے کے 11ڈائریکٹوریٹس میں سے دوسرے نمبر پرڈائریکٹر ملتان رہے ۔جومالی سال 2015-16کی پہلی ششماہی میں ایک ارب پانچ کررڑ کی بجائے صرف 84کروڑ روپے کی ریکوری کرسکے۔غیر تسلی بخش کارکردگی میں تیسرے نمبر پر ڈائریکٹر بہاولپور رہے جنہوں نے پہلے چھ ماہ کے دوران 62کروڑ کی بجائے 54کروڑ روپے کی ریکوری کی۔اسی طرح ناقص کارکردگی میں چوتھا نمبر ڈائریکٹر راولپنڈی کا رہا ۔جنہوں نے مذکورہ مدت کے دوران ایک ارب 56کروڑ روپے کی بجائے ایک ارب 38کروڑ روپے کی ریکوری کی۔ جبکہ پانچویں نمبر پر ڈائریکٹرسرگودھا اور ڈائریکٹر گوجرانوالہ رہے۔جن کی ریکوری 45فیصد رہی ۔ڈائریکٹر گوجرانوالہ نے 97کروڑ روپے کی بجائے 88کروڑ روپے کی ریکوری کی جبکہ ڈائریکٹر سرگودھا نے 38کروڑ روپے کی بجائے 34کروڑ روپے کی ریکوری کی۔اسی طرح ڈائریکٹر ساہیوال اور ڈائریکٹر ڈی جی خان کی کارکردگی بھی غیر تسلی بخش رہی۔ البتہ ڈائریکٹر لاہور ریجن اے اور ریجن بی کی کارکردگی تسلی بخش رہی۔اور ان کی ریکوری 50فیصد سے زیادہ رہی۔

مزید : علاقائی