شاہ سلمان کی حکومت سر قلم کرنے کی پہلی کارروائی

شاہ سلمان کی حکومت سر قلم کرنے کی پہلی کارروائی

واشنگٹن(اظہرزمان،بیوروچیف)صدراوبامہ انڈیا کا دورہ مختصرکرکے سعودی عرب کے سابق فرماں روا شاہ عبد اللہ بن عبدالعزیزکی وفات پر اظہار افسوس کے لئے اپنی اہلیہ مشعل کے ہمراہ آج منگل کے روز ریاض پہنچ گئے ہیں۔واشنگٹن میں امریکی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق وزیرخارجہ جان کیری بھی نائیجریاسے سعودی عرب پہنچ گئے ہیں جہاں امریکی وفد کے باقی ارکان پہلے سے موجود ہیں جن میں سابق وزرائے خارجہ کو نڈایز رائس اور جیمز بیکر ، وائٹ ہاؤس کے تین سابق نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر ز برینٹ سکوکرافٹ، سینڈی برگر اور سٹیفن ہیڈے، ری پبلکن سینیٹرجان میکن، سی آئی اے کے ڈائریکٹرجان برینن اورمشرق وسطیٰ میں متعین امریکی کمانڈر جنرل لائیڈ آسٹن شامل ہیں۔سعودی عرب کے ساتھ امریکہ کے ہمیشہ گہرے دوستانہ تعلقات رہے ہیں اور ماضی قریب میں خصوصاً داعش، القاعدہ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف وہ عمومی طورپر مشرق وسطیٰ میں یکساں پالیسی اختیارکئے ہوئے ہیں۔ تاہم سعودی عرب کے اندر انسانی حقوق کی صور ت حال پر امریکہ اور مغرب کی تشویش کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ ریاض میں آمد سے فوری قبل سی این این نے صدر اوبامہ کا جو انٹرویو نشر کیا اس میں انہوں نے سعودی عرب میں انسانی حقوق کا معاملہ اسی طرح ٹال دیا جس طرح سے واشنگٹن میں اس بارے سوال کو وزارت خارجہ کی ترجمان نے فارغ کر دیا ۔صدراوبامہ نے واضح کیا کہ شاہ خالد کی وفات کے بعد بھی امریکی حکومت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کے باوجود سعودی عرب کے ساتھ سکیورٹی معاملات پر خصوصاً قریبی تعاون جاری رکھے گی۔ صدر اوبامہ کا کہنا تھا کہ ہم انسانی حقوق کے معاملات پر دباؤ ضرور ڈال رہے ہیں لیکن ہمیں اس معاملے کو دہشت گردی کے خلاف جدوجہد یا علاقائی سلامتی کے بارے میں پائی جانے والی ہماری فوری تشویش کے ساتھ متوازن کرنا ہوتاہے۔واشنگٹن میں امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان جین ساکی سے معمول کی پریس بریفنگ میں یہ سوال کیا گیا تھا کہ سعودی عرب کے نئے فرمانرواشاہ سلمان کی حکومت میں بھی سر قلم کرنے کی پہلی کارروائی ہوگئی ہے اس کے بارے میں امریکہ کی کیا رائے ہے؟ ترجمان نے اس سوال کو یہ کہہ کر ٹال دیا کہ انسانی حقوق کے ایسے معاملات پر تبصرہ ہم انسانی حقوق کی سالانہ رپورٹس میں کرتے ہیں۔انہوں نے سوال کرنے والے کے اصرار پر بتایا کہ ماضی میں ہم نے سعودی حکومت کے یہ معاملات اٹھائے ہیں،لیکن امریکی وفد جو اظہار افسوس کے لئے ریاض میں موجود ہے وہ فی الحال ان معاملات پر بات نہیں کرے گا

مزید : علاقائی