سینٹ کمیٹی اجلاس ،وزراء اور بیوروکریسی کی عدم شرکت پر برہمی کا اظہار

سینٹ کمیٹی اجلاس ،وزراء اور بیوروکریسی کی عدم شرکت پر برہمی کا اظہار

 اسلام آباد(آن لائن) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی پانی و بجلی کے چیئرمین سینیٹر زاہد خان نے وفاقی وزراء پانی و بجلی کی منگل کے روز کمیٹی کے منعقدہ اجلاس میں عدم شرکت پر کہا کہ جمہوریت کی دعویدار حکومت کے وزراء کا رویہ نا مناسب ہے قائمہ کمیٹیاں ہی وزارتوں کی ناک میں نکیل ڈالتی ہیں وزیراعظم کے رشتہ دار وزراء کا پارلیمنٹ اور ممبران کے ساتھ رویہ ہتک آمیز ہے جس کا نقصان وزیراعظم کو ہو رہا ہے۔ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر نثار محمد ، محسن لغاری ، خالدہ پروین ، نوابزادہ سیف اللہ مگسی موجود تھے لیکن وفاقی وزراء کی عدم شرکت کی وجہ سے وزارت پانی و بجلی اور وزارت بجلی کے محکمہ جات کا ایک بھی سرکاری افسر موجود نہ تھا۔ اجلاس میں سینیٹر نثار محمد کے سوال کے جواب میں سیپ کول کے سی ای او شمس العزیز نے انکشاف کیا کہ حکومت کو آٹھ روپے پچاس پیسے فی یونٹ بجلی پیدا کر کے دینا چاہتے ہیں لیکن خریدی نہیں جارہی اور کہا کہ این ٹی ڈی سی نے اچانک پیشگی ادائیگیاں اور کپیسٹی پیمنٹ بھی بند کر دی گئی ہے چیئرمین کمیٹی سینیٹر زاہد خان نے کہا کہ شہری توانائی بحران کی وجہ سے سخت پریشان ہیں، قائمہ کمیٹی نے سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر تین سالوں میں عوامی مسائل کے حل وزارتوں کے باہمی رابطوں اور حکومت کو مثبت تجاویز دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ٹانک میں عوام کے خلاف ایف آئی آر درج کروا دی گئی ہے بجلی بحران سے حقیقی آگاہی کی خاطر پارلیمنٹ خاموش رہے تو یہ حق نمائندگی نہیں ۔سینیٹر نثار محمد نے کہا کہ کمیٹی کا کسی سے ذاتی معاملہ نہیں مقصد عوام کے مسائل کا حل اور مثبت تجاویز ہوتا ہے توانائی بحران کے حل کیلئے پوری قوم کی نظریں وزیراعظم پر لگی ہوئی ہیں لیکن وفاقی وزراء کا رویہ غیر سنجیدہ ہے۔ سینیٹر محسن لغاری نے کہا کہ وزراء کا کمیٹی اجلاس میں نہ آنا پارلیمنٹ کی توہین ہے اگر حکومت نے پارلیمانی کمیٹی کو اہمیت نہیں دینی تو کمیٹی ممبران کو مستعفی ہو جانا چاہیے

مزید : علاقائی