گاجر کھانے سے نظر تیز ہو جاتی ہے،یہ بے بنیاد بات کس نے اور کیسے مشہور کی ؟

گاجر کھانے سے نظر تیز ہو جاتی ہے،یہ بے بنیاد بات کس نے اور کیسے مشہور کی ؟
گاجر کھانے سے نظر تیز ہو جاتی ہے،یہ بے بنیاد بات کس نے اور کیسے مشہور کی ؟

  

لندن (نیوز ڈیسک) نظر تیز کرنے کیلئے گاجروں سے اچھی کیا چیز ہو سکتی ہے، یقیناًآپ نے بھی یہ نصیحت بہت سن رکھی ہو گی لیکن افسوس کہ یہ صحیح نہیں بلکہ اس کی بنیاد برطانوی ائیرفورس کے جھوٹے پراپیگنڈے میں ہے جس نے ساری دنیا کو پاگل بنا دیا۔ دوسری جنگ عظیم میں جرمن فوج کو اس وقت شدید حیرانی کا سامنا کرنا پڑا جب برطانوی ائیرفورس نے ان کے بمبارطیاروں کو برطانیہ میں داخل ہونے سے پہلے ہی گرانا شروع کر دیا اور یہ کام رات کی تاریکی میں بھی مسلسل جاری تھا۔ دراصل برطانیہ نے ایک نئی قسم کی ٹیکنالوجی ایجاد کر لی تھی اسے ائیربورن انٹرسیپشن راڈار (AI) کہا جاتا تھا۔ برطانیہ اس کی مدد سے جرمن طیاروں کا رات کے وقت بھی پتہ چلا لیتا تھا اور وہ جرمنی سے اس بات کو خفیہ رکھنا چاہتا تھا کہ رات کے وقت طیاروں کو کس طرح دیکھا جاتا ہے۔برطانوی ائیرفورس نے یہ بات پھیلا دی کہ وہ اپنے پائلٹوں اور فضائی دفاع پر مامور اہلکاروں کو خصوصی غذا کھلاتی ہے جسے گاجروں سے تیار کیا جاتا ہے اور اس کی وجہ سے ان کی نظر بے پناہ تیز ہے، یہاں تک کہ وہ رات کے وقت بھی اچھی طرح سے دیکھ سکتے تھے۔ یہ افواہ اس قدر عام ہوئی کہ برطانوی لوگوں نے بھی جنگ کے دوران بلیک آؤٹ سے نمٹنے کیلئے گاجروں کا بکثرت استعمال شروع کر دیا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ گاجر میں وٹامن اے پایا جاتا ہے جو بصارت کے علاوہ عمومی صحت کیلئے بہتر ہوتا ہے جبکہ اس میں پایا جانے والے بپٹا کیروٹین بھی Cataract نامی آنکھ کی بیماری میں کمی کر سکتا ہے لہٰذا گاجر کے آنکھ کیلئے کچھ فوائد تو ہیں مگر اس کا نظر تیز کرنے سے بالکل کوئی تعلق نہیں۔

مزید : علاقائی