آسٹریلیااور انڈونیشیا میں پایا جانیوالازہریلا پودا جس کا کانٹا انسان کو ہلاک کر سکتا ہے

آسٹریلیااور انڈونیشیا میں پایا جانیوالازہریلا پودا جس کا کانٹا انسان کو ...
آسٹریلیااور انڈونیشیا میں پایا جانیوالازہریلا پودا جس کا کانٹا انسان کو ہلاک کر سکتا ہے

سڈنی(نیوزڈیسک)ہر طرح کا درد تکلیف تو لازمی دیتا ہے لیکن کچھ درد ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جو کبھی نہیں بھول پاتے۔کیا آپ نے کبھی Gympie ۔Gympieپودے کے بارے میں سن رکھا ہے۔یقیناآپ کا جواب منفی میں ہوگا۔ لیکن آپ کو جان کر حیرت ہوگی کہ مندرجہ بالا نام کا ایک دو فٹ کے کانٹے دار پودے میں ایسا زہر موجود ہے کہ وہ کسی بھی جاندار بشمول انسان، گھوڑا اور کتے کو شدید درد میں مبتلا کر کے ہلاک کرسکتا ہے۔ اگر وہ جاندار خوش قسمت ہو اور اس کی جان بچ جائے تب بھی وہ سالوں تک شدید درد میں مبتلا رہتا ہے۔یہ پودا آسٹریلیااور انڈونیشیا میں کچھ مقامات پر پایا جاتا ہے۔اس پودے کے پتوں پر باریک کانٹے ہوتے ہیں اور اگر کوئی جاندار اس کے سوکھے پتوں کو بھی چھو لے تو بھی شدید دردکا ہونا یقینی ہے۔اس کے پتے دل کی شکل کی طرح کے ہوتے ہیں۔اگر آپ کا ان پتوں کو ہلکا سا بھی ہاتھ لگ جائے تو پتے پر موجود سوئی نما کانٹے آپ کے جسم میں تیزی سے داخل ہوجاتے ہیں اور پھر زہریلا مادے کا اخراج کرکے جاندار کو شدید تکلیف میں ڈال دیتے ہیں۔ماہر صحت ڈاکٹر مائیک لیہے کا کہنا ہے کہ فوراًہی آپ کو شدید جلن کا احساس ہوگا جو اگلے آدھ گھنٹے میں شدید سے شدید تر ین ہوجائے گا۔اس کے بعد آپ کے جوڑوں پر سوجن آجائے گی اورآہستہ آہستہ آپ موت کے منہ میں چلے جائیں گے۔ اس کا کہنا ہے کہ اگر آپ Gympie۔Gympieکے سوئی نما کانٹوں کو فوراًسے پہلے جسم سے نہ نکالیں تو ان میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ سالوں زہریلا مواد خارج کرتے رہیں۔اس کا کہنا ہے کہ اس کی تکلیف دنیا کی تکالیف میں سب سے زیادہ محسوس ہوتی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ کسی نے آپ کے جسم پر گرم تیزاب ڈال دیا ہے یا شاید آپ کو شدید بجلی کا جھٹکا لگا ہے۔جو لوگ اس تکلیف میں مبتلا ہوئے ان کا کہنا ہے کہ وہ اسے بیان نہیں کرسکتے۔ ایک سابق فوجی کا کہنا ہے کہ اسے ایسا لگ رہا تھا کہ شاید اسے کسی انتہائی زہریلے سانپ نے کاٹ لیا ہے۔ اپنے ایک ساتھی فوجی کے بارے میں بتاتے ہوئے اس کا کہنا تھا کہ اس نے بول وبراز کے دوران اس پتے کا استعمال کیا اور شدت درد کی وجہ سے پاگل ہو گیا اور اس نے اپنے آپ کو گولی مار کر خودکشی کرلی۔

مزید : علاقائی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...