شیریں مزاری اور پرویز رشید کے درمیان مناظرہ نہ ہو سکا

شیریں مزاری اور پرویز رشید کے درمیان مناظرہ نہ ہو سکا
شیریں مزاری اور پرویز رشید کے درمیان مناظرہ نہ ہو سکا

تحریک انصاف کی ترجمان شیریں مزاری نے پہلے مسلم لیگ (ن) کو مناظرے کا چیلنج دیا لیکن جب وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے یہ دعوت قبول کر لی اور یہ بھی پیشکش کر دی کہ وہ اس مناظرہ کی لائیو کوریج کا بندو بست بھی اپنے ذمہ لیتے ہیں۔ تو محترمہ شیریں مزاری نے یہ کہہ دیا کہ محترم پرویز رشید بے اختیار ہیں ۔ اس لئے ان سے مناظرے کا کوئی فائدہ نہیں۔ پاکستان میں ویسے تو روز انہ شام کو ایک نہ ختم ہو نے والامناظروں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ہر چینل پر کوئی نہ کوئی کچھ نہ کچھ بول رہا ہو تا ہے۔ ہر ٹی وی ٹاک شوکا پینل مناظرہ کی بنیاد پر ہی ہو تا ہے۔ ایسے میں جب ہر رات کئی مناظرے ہو رہے ہیں نہ جانے شیریں مزاری کو ایک نئے مناظرے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔ ٹی وی ٹاک شوز میں توروزانہ رات کو مناظرے دیکھ کر یہ بات سچ ثابت ہو تی دکھائی دیتی ہے کہ ہر چیز کی زیادتی بری ہوتی ہے۔ ریٹنگ کے چکر میں سب کچھ بھول گئے ہیں۔

یہ میاں نواز شریف کے دوسرے دور حکومت کی بات ہے کہ آئی پی پیز کا بہت شور تھا۔میاں نواز شریف کا موقف تھا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو اور انکے شوہر آصف زرداری نے مہنگے آئی پی پیز معاہدے کئے ہیں۔یہ وہ وقت تھا جب ڈاکٹر طاہر القادری محترمہ بے نظیربھٹو کے ساتھ اتحاد میں تھے ۔ بیان بازی کا سلسلہ شروع ہوا تو بات ڈاکٹر طاہر القادری اور شیخ رشید کے درمیان مناظرے پر پہنچ گئی۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے شیخ رشید کو مناظرے کا چیلنج دے دیا جو شیخ رشید نے قبول کر لیا۔ لیکن بعدازاں شیخ رشید اس مناظرے سے بھاگ گئے ۔ میں نے ایک باثر حکومتی عہدیدادر سے تب پوچھا کہ شیخ رشید کیوں بھاگ گئے۔ تو اس نے کہاکہ شیخ رشید کو سمجھا یا گیا ہے کہ کبھی کسی مولودی سے مناظرہ نہیں کرنا۔میں نے پوچھا کیوں۔ تو اس نے کہاکہ ایک پادری اور ایک مولوی کے درمیان دین کے موضوع پر مناظرہو رہا تھا ۔ پادری نے کہاکہ ہمارا نبی اللہ میاں کے زیادہ قریب تھا ۔ اس لئے انہوں نے اپنے پاس بلا لیا۔ جواب میں مولوی اٹھا اور اس نے تروازو ہاتھ میں پکڑتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ترازو ہے۔ اس میں ایک طرف ایک کلو اور دوسری طرف دو کلو وزن ہے ۔دیکھو ایک کلو اوپر ہے ۔ اس لئے جو ہلکا ہو گا وہ اوپر اٹھ جائے گا۔ اس لئے مولوی سے مناظرہ نہیں کرنا چاہئے اور بس شیخ رشید کو سمجھ آگئی اور وہ بھا گ گئے۔ داکٹر طاہر القادری ایک جلوس لے کر پی ٹی وی بھی گئے لیکن انہیں شیخ رشید نہ ملے۔ قدرت کی ستم ظریفی دیکھیں کہ آج شیخ رشید اور ڈاکٹر طاہر القادری بہترین دوست اور سیاسی اتحادی ہیں۔ وہ دونوں بھی یہ واقعہ بھول گئے ہیں ۔ اور عوام بھی بھو ل چکے ہیں۔ پتہ نہیں مجھے کیوں یاد ہے۔ بزرگ بتاتے ہیں کہ پرانے زمانے میں میلوں ٹھیلوں میں مناظروں کا رواج ہو تا تھا ۔ جو اب ختم ہو گیا ہے۔

دنیابھر میں جہاں جمہو ریت جوان اور مستحکم ہو چکی ہے۔ وہاں مناظروں کا رواج ہے۔ امریکہ میں صدارتی امیدواروں کے درمیان debate ہوتی ہے۔ جسے عرف عام میں مناظرہ ہی کہا جا سکتا ہے۔ یہ مناظرے امریکی صدارتی انتخابات میں نہائت اہمیت کے حامل ہو تے ہیں ۔ اور عوامی رائے عامہ میں تبدیلی کا باعث بنتے ہیں۔ اسی طرح امریکی صدارتی امیدوار اپنی صدارتی مہم کے دوران یونیورسٹیوں میں جا کر ہو نہار طلباء کے سوالات کے جواب بھی دیتے ہیں تا کہ عوام ان کے خیالات اور پالیسی کو سمجھ سکیں۔ لیکن افسوس در افسوس پاکستان میں اس قسم کا ابھی کوئی رواج نہیں ہے۔ پاکستان میں تو ویسے یہ رواج بھی نہیں ہے کہ انتخابات میں حصہ لینے والی سیا سی جماعتیں انتخاب سے قبل اپنے وزارت عظمیٰ کے امیدوار کا باقاعدہ اعلان کریں۔یہ بس طے شدہ فارمولہ ہے کہ جماعت کے سربراہ نے ہی وزیر اعظم بننا ہے۔ لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ بڑی جماعتوں کے سربراہ بھی آپس میں مناظرہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ شائد پاکستان میں جمہوریت ابھی اتنی مضبوط نہیں ہے کہ جماعتوں کے سربراہوں کے درمیان مناظرہ ہو سکے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان میں موجود سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت نہیں ہے۔ اور مستقبل قریب میں سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت آنے کا کوئی امکان بھی نہیں ہے۔

بات کہیں سے کہیں نکل گئی۔ شروع تو شیریں مزاری اور پرویز رشید کے درمیان مناظرے سے ہوئی تھی۔ ویسے تو اس مناظرے کے امکانات بہت کم ہو گئے ہیں۔ لیکن اگر فرض کر لیا جائے کہ یہ مناظرہ ہو جاتا تو کیا ہو تا۔ پرویز رشید ایک دھیمے لہجہ میں بات کرنے والے انسان ہیں جبکہ شیریں مزاری جارحانہ لہجہ سے بات کرتی ہیں۔ اس لئے نہایت دلچسپ مناظرہ ہوتا۔ پرویز رشید سخت سے سخت با ت بھی نرم اور مسکرا کر کہنے میں کمال مہارت رکھتے ہیں۔ جبکہ شیریں مزاری جب بھی میڈیا کے سامنے آتی ہیں وہ سنجیدہ رہنے کی کوشش کرتی ہیں اور ان کا لہجہ بھی سخت ہو تا ۔ وہ کیمرہ کے سامنے مسکراتی بھی نہیں ہیں۔ پاکستان میں میڈیاء کے کردار کے حوالہ سے ایک بحث جاری ہے۔ ٹی وی ٹاک شوز کے اندر ہونے والی بحث پر بھی دو رائے موجود ہیں۔ ایک سنجیدہ طبقہ ٹی وی ٹاک شوز میں ہو نے والی بے ہنگم گفتگو کو ملکی سیاست کے لئے کوئی مثبت نہیں سمجھتا۔ جبکہ دوسرا طبقہ ٹی وی ٹاک شوز کی گفتگو کو پاکستانی سیاست کے لئے اس لحاظ سے مثبت سمجھتا ہے کہ سیاستدان ایکسپوز ہو رہے ہیں اور یہ عوام کا حق ہے کہ ان کے سیاستدان ان کے سامنے ایکسپوز ہو ں۔ اس لئے اگر جماعتوں کے سربراہان بھی مناظرہ کے لئے تیار ہو جائیں تو شائد عوام کو یہ سمجھنے میں آسانی ہو کہ ان میں سے بہتر کون ہے۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...