لاہور ،بد اخلاقی کے مذموم کاروبار اور قحبہ خانوں مٰیں خوفناک اضافہ ،پولیس کا کاروائی سے گریز

لاہور ،بد اخلاقی کے مذموم کاروبار اور قحبہ خانوں مٰیں خوفناک اضافہ ،پولیس ...

 لاہور (بلال چودھری) صوبائی دارالحکومت میں بد اخلاقی کے گھناؤنے پیشہ سے وابستہ افراد اور عورتوں کی تعداد میں خوفناک حد تک اضافہ،ایک رپورٹ کے مطابق بعض پولیس افسران و سیاسی شخصیات کی پشت پناہی سے یہ گھناؤنا کاروبار ناسور کی طرح شہر کے طول و عرض میں پھیل گیا ہے جبکہ افسران و سیاسی شخصیات کے دباؤ کی وجہ سے پولیس ان کے خلاف کارروائی کرنے سے گریزاں ہے جس کی وجہ سے یہ زہر معاشرے کی رگوں میں سرایت کر گیا ہے۔ذرائع کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں 500 سے زائد قحبہ خانے قائم ہیں۔سب سے زیادہ قحبہ خانے ماڈل ٹاؤن ڈویڑن میں150جبکہ دوسرے نمبر پر صدر ڈویڑن میں 100 قحبہ خانے ہیں۔ سٹی ڈویڑن میں 82‘ اقبال ٹاؤن ڈویڑن میں 58‘ کینٹ ڈویڑن میں 55 جبکہ سول لائنز ڈویڑن میں 50 قحبہ خانے چل رہے ہیں۔ زیادہ تر قحبہ خانے گیسٹ ہاؤسز کی آڑ میں چل رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق قلعہ گجر سنگھ کے علاقہ میں قائم ہو ٹلز، سبزہ زار میں کوٹھیوں ،مانگا منڈی ،سندر انڈسٹریل سٹیٹ میں فیکٹریوں کی آڑ میں قحبہ خانے چل رہے ہیں۔ شہر میں قحبہ خانوں میں جوئے‘ شراب نوشی کے علاوہ غیرملکی رشین‘ چائنیز اور تھائی لڑکیاں بھی بد اخلاقی کیلئے منگوائی جاتی ہیں اور یہ اڈے اشتہاری مجرموں کے ڈیرے اور پناہ گاہیں بن چکے ہیں۔جرائم پیشہ افراد ڈکیتی و چوری کا مال ان اڈوں پر عیاشیوں میں اڑاتے ہیں۔ اشتہاری ملزمان پولیس کے علم کے باوجود یہاں ٹھہرتے اور بآسانی آتے جاتے ہیں جبکہ شہر میں میوزیکل گروپوں‘ میوزیکل و ڈانس اکیڈمیوں‘ پی سی او‘ بیوٹی پارلر اور جوس کارنرز کی آڑ میں بھی قائم قحبہ خانوں کا انکشاف ہوا ہے۔ذرائع کے مطابق صوبائی دارالحکومت میں پنجاب کے دوسرے شہروں سے روزی کی تعداد میں آنے والی کم عمر لڑکیاں عام طور پر بد اخلاقی کا مکروہ دھندا کرنے والے گروہوں کے ہتھے چڑھ جاتی ہیں ۔ملکی معاشی صورتحال کی وجہ سے ایسی خواتین کی تعداد میں خوفناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔اس کے علاوہ جو گروہ اس کاروبار سے منسلک ہیں ان کو پولیس افسران اور سیاسی شخصیات کی سرپرستی حاصل ہے جس کی وجہ سے پولیس تمام معلوما ت ہونے کے باوجود ان جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی کرنے سے گریزاں ہے جبکہ کئی علاقوں کے ایس ایچ اوزاپنے علاقہ میں قائم ان قحبہ خانوں سے منتھلیاں بھی لیتے ہیں۔ اس حوالے سے ماڈل ٹاؤن،صدر اوردیگر ڈویثرنز کے پولیس افسران سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے جب بھی پولیس کو کوئی اطلاع ملتی ہے تو ملزمان کے خلاف مکمل کارروائی کی جاتی ہے۔

مزید : علاقائی